உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Rajasthan Crime News: نابالغ کا اغوا، ایک ماہ تک کی آبروریزی، متاثرہ ہوئی حاملہ

    نابالغ کا اغوا، ایک ماہ تک کی گئی آبروریزی، متاثرہ ہوئی حاملہ

    Minor girl kidnapped and raped in churu: راجستھان کے چورو ضلع (Churu District) کے سدھومکھ تھانہ علاقے میں 16 سالہ نابالغ لڑکی کا اغوا کرکے اس سے آبروریزی کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ آبروریزی کے بعد متاثرہ حاملہ ہوگئی۔

    • Share this:
    چورو: راجستھان کے چورو ضلع میں آبروریزی، اجتماعی آبروریزی (Rape and Gangrape) اور جنسی استحصال کے معاملے مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ اب چورو ضلع (Churu District) کے سدھومکھ تھانہ علاقے میں 16 سالہ نابالغ لڑکی کا اغوا کر کے اس کی آبروریزی کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ آبروریزی کے بعد متاثرہ حاملہ ہوگئی۔ عدالت کے حکم کے بعد اب چورو کے سرکاری بھرتیا اسپتال میں اس کا اسقاط حمل کرایا جائے گا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق ملزم ہریانہ کے سدل پور میں جاوید کے رشتہ دار رہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے جاوید کا وہاں آنا جانا رہتا تھا۔ اس دوران جاوید کی پہچان نابالغ سے ہوگئی۔ اس کے بعد ملزم اسے گزشتہ 3 اپریل کو بہلا پھسلا کر اغوا کر لے گیا۔ 8 اپریل کو سدھو مکھ تھانے میں لڑکی کے والد نے جاوید کے خلاف نابالغ کا اغوا کرنے کا معاملہ درج کروایا تھا۔

    لڑکی کو ہریانہ، دہلی اور بہار لے گیا ملزم

    ملزم جاوید پہلے لڑکی کو ہریانہ کے چھانی، پھر دہلی اور بعد میں بہار کے کشن گنج لے گیا۔ وہاں ملزم نے متاثرہ کو ایک ماہ تک بندھک بناکر روزانہ آبروریزی کی۔ معاملہ درج ہونے کے بعد پولیس نے 12 مئی کو لڑکی کو ہریانہ کے آدم پور منڈی سے تلاش کیا۔ لڑکی کی کورونا جانچ کروائی گئی تو وہ پازیٹیو پائی گئی۔ اسے چورو چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا۔

    4 جون کو متاثرہ کا میڈیکل چیک اپ ہوا

    چورو چائلڈ ویلفیئر کمیٹی نے متاثرہ کو ناری نکیتن بھجوا دیا۔ 4 جون کو متاثرہ کا میڈیکل چیک اپ کرایا گیا۔ اس میں لڑکی کے حاملہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ نابالغ کے حاملہ ہونے پر عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ وہاں اہل خانہ اور متاثرہ کی رضامندی کو دیکھتے ہوئے عدالت نے اسقاط حمل کے احکامات دیئے ہیں۔ اس متعلق محکمہ صحت کے افسران کو حکم دیا گیا ہے۔ حال ہی میں چورو ضلع ہیڈ کوارٹر پر بھی ایک کیفے میں 10 ویں کی طالبہ کے ساتھ آبروریزی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: