ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

چاند کی پیشن گوئی کرنے والے سائنس داں مظہرالحق چودھری کا بنگلورو میں انتقال

رویت ہلال کی پیشن گوئی کیلئے مشہور سائنس دان ساحر ٹمکوری اب نہیں رہے۔ ماہر فلکیات، اردو کے ادیب مظہر الحق چودھری عرف ساحر ٹمکوری کا آج صبح انتقال ہوا۔ مظہرالحق چودھری جو ساحر ٹمکوری کے نام سے مشہور تھے بروز جمعرات 19 نومبر 2020 صبح تقریبا 9:30 بجے بنگلورو کے ایچ اے ایل کے قریب موجود اپنی رہائش گاہ میں آخری سانس لی۔ 79 سالہ ساحر ٹمکوری گزشتہ چند مہینوں سے علیل تھے، کڈنی کے مرض میں مبتلا تھے۔

  • Share this:
چاند کی پیشن گوئی کرنے والے سائنس داں مظہرالحق چودھری کا بنگلورو میں انتقال
بنگلورو: چاند کی پیشن گوئی کرنے والے سائنس دان ساحر ٹمکوری کا انتقال

بنگلورو: رویت ہلال کی پیشن گوئی کیلئے مشہور سائنس دان ساحر ٹمکوری اب نہیں رہے۔ ماہر فلکیات، اردو کے ادیب مظہر الحق چودھری عرف ساحر ٹمکوری کا آج صبح انتقال ہوا۔ مظہرالحق چودھری جو ساحر ٹمکوری کے نام سے مشہور تھے بروز جمعرات 19 نومبر 2020 صبح تقریبا 9:30 بجے بنگلورو کے ایچ اے ایل کے قریب موجود اپنی رہائش گاہ میں آخری سانس لی۔ 79 سالہ ساحر ٹمکوری گزشتہ چند مہینوں سے علیل تھے، کڈنی کے مرض میں مبتلا تھے۔ بنگلورو کے قریب موجود ٹمکور شہر میں آپ کی پیدائش ہوئی تھی اور یہیں آپ نے تعلیم حاصل کی۔بنگلورو کے محکمہ موسمیات میں مختلف عہدوں پر فائز ہونے کے بعد بطور سینئر سائنٹسٹ وظیفہ یاب ہوئے۔

بطور سائنس دان  آپ نے نہ صرف اپنے محکمہ میں نمایاں خدمات انجام دیں بلکہ فلکیات اور موسمیات کے علم کی قیمتی معلومات عام لوگوں تک پہونچاتے رہے۔خاص طور پر آپ نے چاند کے متعلق اپنے مشاہدے اور پیشن گوئیوں سے جنوبی کرناٹک کے  مسلم طبقہ میں کافی مقبول حاصل کی تھی۔


شمسی اور قمری کلینڈروں کا گہرا علم رکھتے ہوئے ماہر فلکیات مظہر الحق چودھری عرف ساحر ٹمکوری رمضان المبارک سمیت تمام ہجری مہینوں کے آغاز کی پیشن گوئی تحریری طور پر اردو زبان میں پیش کرتے تھے۔ یہ کام آپ کسی کے کہنے پر نہیں بلکہ عوام بالخصوص مسلم طبقہ کو معلومات فراہم کرنے کی غرض سے رضاکارانہ طور پر انجام دیتے تھے۔ دوسری جانب چاند کے متعلق انکی پیشن گوئی کا ہر کسی کو انتظار رہتا تھا۔ خاص طور پر ماہ رمضان کے آغاز سے قبل، عیدالفطر کے موقع پر آپ کی پیشن گوئی کو جاننے کیلئے لوگوں میں کافی تجسس دیکھنے کو ملتا رہا ہے۔


 شمسی اور قمری کلینڈروں کا گہرا علم رکھتے ہوئے ماہر فلکیات مظہر الحق چودھری عرف ساحر ٹمکوری رمضان المبارک سمیت تمام ہجری مہینوں کے آغاز کی پیشن گوئی تحریری طور پر اردو زبان میں پیش کرتے تھے۔

شمسی اور قمری کلینڈروں کا گہرا علم رکھتے ہوئے ماہر فلکیات مظہر الحق چودھری عرف ساحر ٹمکوری رمضان المبارک سمیت تمام ہجری مہینوں کے آغاز کی پیشن گوئی تحریری طور پر اردو زبان میں پیش کرتے تھے۔


ساحر ٹمکوری ہر سال نیوز 18 اردو کے پروگرام رویت ہلال میں بنگلورو سے آن لائن شامل ہوکر اپنے کئے گئے مطالعہ کی جانکاری فراہم کیا کرتے تھے۔ اتنا ہی نہیں بنگلورو کے اردو اخبارات میں چاند کے متعلق آپ کی پیشن گوئی صفحہ اول پر شائع ہوا کرتی تھی۔ بنگلورو کی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو بھی آپ کی پیشن گوئی کا انتظار رہتا تھا۔ چاند کے متعلق ساحر ٹمکوری کی 99 فیصد پیشن گوئیاں درست ثابت ہوئی ہیں۔ رویت ہلال سے دو تین دن قبل ہی  تحریری طور پر آپ آپنی پیشن گوئی جاری کیا کرتے تھے۔ وظیفہ یاب ہونے کے بعد بنگلورو کے نہرو planetarium پہونچ کر موسم کے نقشوں کا مطالعہ کیا کرتے۔ ہر اسلامی مہینہ کے اختتام سے ایک ہفتہ قبل آپ موسم کا جائزہ لیتے تھے اور اپنی پیشن گوئی لوگوں کے سامنے پیش کرتے۔

ساحر ٹمکوری چاند کے متعلق اپنی پیشن گوئیوں سے نہ صرف قیمتی معلومات فراہم کرتے بلکہ عید سے قبل لوگوں کے کنفیوژن اور تشویش کو بھی دور کرنے کی کوشش کرتے۔
ساحر ٹمکوری چاند کے متعلق اپنی پیشن گوئیوں سے نہ صرف قیمتی معلومات فراہم کرتے بلکہ عید سے قبل لوگوں کے کنفیوژن اور تشویش کو بھی دور کرنے کی کوشش کرتے۔


ساحر ٹمکوری نے اپنی آخری پیشن گوئی 22 مئی 2020 کو کی ہے جو عیدالفطر کے متعلق تھی۔ اس پیشن گوئی میں انہوں نے کہا تھا کہ 23 مئی 2020 کو ملک کے کسی بھی حصہ میں چاند نظر نہیں آئے گا۔ لہذا عیدالفطر بروز پیر 25 مئی 2020 کو ہوگی۔اس طرح ساحر ٹمکوری چاند کے متعلق اپنی پیشن گوئیوں سے نہ صرف  قیمتی معلومات فراہم کرتے بلکہ عید سے قبل لوگوں کے کنفیوژن اور تشویش کو بھی دور کرنے کی کوشش کرتے۔ اپنی تحقیق کے ساتھ ساحر ٹمکوری عام طور پر یہ بھی وضاحت پیش کیا کرتے تھے کہ لوگ اس پیشن گوئی کو  جانکاری کے طور پر قبول کریں۔ اس معاملے میں رویت ہلال کمیٹی کا فیصلہ حتمی ہوگا۔ ساحر ٹمکوری نے بطور ادیب بھی اپنی پہچان بنائی تھی۔ آپ کے افسانہ، حالات حاضرہ پر مضامین کرناٹک کے اردو روزناموں اور رسالوں میں شائع ہوتے رہے ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Nov 19, 2020 05:42 PM IST