உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یوپی کے7442مدرسوں کی ہوگی جانچ، سی ایم یوگی نے شکایتیں ملنے کے بعد دیا حکم

    وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مدرسوں کی جانچ کا دیا حکم۔

    وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مدرسوں کی جانچ کا دیا حکم۔

    حال ہی میں اترپردیش مدرسہ ایجوکیشن کونسل کی بورڈ میٹنگ میں رکن تنویر رضوی کی اس اسکیم میں شامل امروہہ کے کئی مدارس کے نہ ہونے کی شکایت پر بورڈ نے متفقہ طور پر ریاست کے تمام متعلقہ مدارس کی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا۔

    • Share this:
      لکھنو: مدرسہ جدید کاری اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے تمام 7442 مدارس کی چھان بین کی جائے گی۔ حکومت نے فزیکل انفراسٹرکچر سہولیات کی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس کے ذریعے جانچ کرانے کا حکم دیا ہے، 15 مئی تک تحقیقاتی رپورٹ مقررہ فارمیٹ پر حکومت کو بھیجنی ہے۔ تحقیقات کے لیے شہری اور دیہی علاقوں کے لیے الگ الگ تین افسران پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔

      حکومت نے یہ فیصلہ ریاست کے امروہہ، کشی نگر اور گونڈا اضلاع میں کاغذ پر چلنے والے فرضی مدارس کی شکایت ملنے کے بعد لیا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کے تحت مسلم بچوں کو معیاری اور جدید تعلیم کے لیے گرانٹ دی جاتی ہے۔ روایتی تعلیم کے علاوہ، سائنس، ریاضی، انگریزی، ہندی اور سماجی علوم جیسے مضامین پڑھانے کے لیے ہر مدرسے میں تین اساتذہ کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ’کیندرودیالوں‘ سے کوٹہ راج ختم،PMمودی کی پہل پر لیا گیا بڑا فیصلہ

      گریجویٹ اساتذہ کو 6 ہزار روپے اور پوسٹ گریجویٹ اساتذہ کو 12 ہزار روپے اعزازیہ دیا جاتا ہے۔ ریاستی حکومت گریجویٹ اساتذہ کو دو ہزار روپے اور پوسٹ گریجویٹ اساتذہ کو تین ہزار روپے کا اضافی اعزازیہ بھی دیتی ہے۔ اس اسکیم میں ریاست کے 7442 مدارس کے 21126 اساتذہ شامل ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      4th COVID-19 Wave:کوروناکی چوتھی لہرکے امکانات بہت ہی کم،مقامی بیماری کی شکل لے رہاکوویڈ19

      حال ہی میں اترپردیش مدرسہ ایجوکیشن کونسل کی بورڈ میٹنگ میں رکن تنویر رضوی کی اس اسکیم میں شامل امروہہ کے کئی مدارس کے نہ ہونے کی شکایت پر بورڈ نے متفقہ طور پر ریاست کے تمام متعلقہ مدارس کی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا۔ بتایا گیا کہ ایک ہی سوسائٹی میں کئی مدارس چل رہے ہیں۔ اب ڈپٹی سکریٹری شکیل احمد صدیقی نے رجسٹرار، یوپی مدرسہ ایجوکیشن کونسل کو حکم دیا ہے کہ وہ مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مدارس کی فزیکل تصدیق کریں۔ کونسل نے تمام ضلع مجسٹریٹس کو ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔ اس میں عمارت، اراضی، کرایہ نامہ، اساتذہ اور طلبہ وغیرہ کی جانچ کی جائے گی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: