ہوم » نیوز » وطن نامہ

چیف جسٹس رنجن گوگوئی نےآسام این آرسی کا کیا بچاؤ، کہا- یہ مستقبل کا دستاویزہے

جسٹس رنجن گوگوئی نے اتوارکو'پوسٹ کولونیل آسام' نامی کتاب کےاجراء کے موقع پرکہا کہ غیرقانونی تارکین وطن یا دراندازوں کی تعداد کا پتہ لگانا بے حد ضروری تھا۔

  • Share this:
چیف جسٹس رنجن گوگوئی نےآسام این آرسی کا کیا بچاؤ، کہا- یہ مستقبل کا دستاویزہے
چیف جسٹس رنجن گوگوئی نےآسام این آرسی کا کیا بچاؤ

نئی دہلی: آسام میں نیشنل رجسٹرآف سٹیزن شپ (این آرسی) کو لےکرچل رہی سیاسی رسہ کشی کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی نے اظہارخیال کیا ہے۔ انہوں نےآسام این آرسی کا بچاؤکرتے ہوئےکہا ہےکہ این آرسی موجودہ وقت کا دستاویزنہیں ہے۔ 19 لاکھ اور 40 لاکھ موضوع نہیں ہے۔ این آرسی مستقبل پرمبنی دستاویزہے۔ انہوں نےکہا کہ ہم اس دستاویزکےذریعہ مستقبل میں ہونے والےدعووں پرفیصلہ لے سکتے ہیں۔


جسٹس رنجن گوگوئی نےاتوارکو'پوسٹ کولونیل آسام' نامی کتاب کےاجراء کے موقع پرکہا کہ غیرقانونی تارکین وطن یا دراندازوں کی تعداد کا پتہ لگانا بے حد ضروری تھا۔ این آرسی کےذریعہ کچھ ایسا ہی کیا گیا ہے۔ نا کچھ زیادہ، نا کچھ کم۔ انہوں نےاین آرسی موضوع پر سوشل میڈیا پرکچھ لوگوں کی طرف سے پھیلائی جارہی غلط باتوں پربھی اپنی رائےظاہرکی۔ انہوں نےکہا کہ کئی لوگوں کی طرف سے سوشل میڈیا کا استعمال اس موضوع پرغیرواضح باتیں پھیلانے کےلئےکیا جارہا ہے۔ اس پرقابل تنقید باتیں کی جارہی ہیں۔ ان کےذریعہ پھیلائی جارہی باتیں حقائق سےدورہیں۔


واضح رہےکہ 31 اگست کو جاری کی گئی آسام این آرسی کی حتمی فہرست میں 19,06,657 لوگ باہرکئےگئے ہیں جبکہ  3,11,21,004 لوگ این آرسی میں شامل کئے گئے ہیں۔ آسام کےاین آرسی میں شامل نہیں ہوئے لوگ 31 اگست سے 120 دن تک اپنی شہریت ثابت کرنےکے لئےمناسب اقدامات کا استعمال کرسکتے ہیں۔ اس کے لئے200 نئے فارنرس ٹریبونل بنائےگئے ہیں، وہ اس میں درخواست کرسکتے ہیں۔


وزارت خارجہ کی طرف سےکہا گیا تھا کہ این آرسی کی حتمی فہرست میں شامل نہیں کئے گئےآسام کےشہریوں کے حقوق پرکوئی اثرنہیں پڑے گا۔ حتمی فہرست سے باہرہوئےلوگوں کوحراست میں نہیں لیا جائےگا۔ قانون کےتحت دستیاب سبھی اقدامات کا استعمال کرنے تک ان کے حقوق پہلے کی طرح برقراررہیں گے۔ این آرسی 24 مارچ، 1971 یا اس سے پہلے سے آسام میں رہنے والے حقیقی ہندوستانی شہریوں کی شناخت کرنےکےلئے بنایا جارہا ہے۔
First published: Nov 03, 2019 07:26 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading