ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بریکنگ نیوز: غازی پور بارڈر پر بی جے پی کارکنان اور کسانوں کے درمیان جھڑپ، کئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹے

ملک کی راجدھانی دہلی کے غازی پور بارڈر پر بی جے پی لیڈروں اور کسانوں کے درمیان ہنگامہ ہوا ہے۔ اطلاع کے مطابق، غازی پور بارڈر پر بی جے پی کے اترپردیش میں تنظیمی سکریٹری بنے امت بالمیکی کے استقبال میں کھڑے کارکنان اور کسانوں کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے۔

  • Share this:
بریکنگ نیوز: غازی پور بارڈر پر بی جے پی کارکنان اور کسانوں کے درمیان جھڑپ، کئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹے
غازی پور بارڈر پر بی جے پی کارکنان اور کسانوں کے درمیان جھڑپ

نئی دہلی: ملک کی راجدھانی دہلی کے غازی پور بارڈر پر بی جے پی لیڈروں اور کسانوں کے درمیان ہنگامہ ہوا ہے۔ اطلاع کے مطابق، غازی پور بارڈر پر بی جے پی کے اترپردیش میں تنظیمی سکریٹری بنے امت بالمیکی کے استقبال میں کھڑے کارکنان اور کسانوں کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے۔ اس دوران کچھ گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ وہاں موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ کسانوں نے لوہے سے گاڑیوں پر حملے کئے اور غازی پور بارڈر پر کافی دیر تک افرا تفری کا ماحول بنا رہا۔ وہیں موقع پر تعینات پولیس نے بی جے پی کے لوگوں کا قافلہ وہاں سے روانہ کروایا ہے۔


اس حادثہ کو لے کر بی جے پی کارکن مہیش نیگی نے کہا کہ ہم لوگ غازی پور بارڈ پر استقبالیہ تقریب منعقد کر رہے تھے، اسی دوران کسانوں نے اچانک حملہ کردیا۔ اس حملے میں امت والمیکی کو چوٹ آئی ہے۔ ساتھ ہی کہا کہ ہم نے پروگرام کی اطلاع پولیس کو دی تھی اور پولیس بھی موجود تھی، لیکن کسانوں نے حملہ کردیا۔ وہیں ہمارے لوگوں کو جان بچاکر بھاگنا پڑا۔


راکیش ٹکیٹ نے کہی یہ بات


نوئیڈا غازی پور بارڈر پر بی جے پی لیڈر کی گاڑیوں کے ساتھ توڑ پھوڑ کے معاملے میں بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیٹ نے نیوز 18 سے بات چیت میں کہا کہ اس پورے معاملے میں کسان یونین کے کسی بھی شخص کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ یہ بی جے پی کی جانب سے ایک سازشی عمل ہے، جس سے کسانوں کے احتجاجی مظاہرہ کو بھٹکایا جاسکے، لیکن کسان اس طرح کی سازش سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ اگر اس عمل کی توڑ پھوڑ کی گئی ہے تو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، لیکن جو پولیس اہلکار ہیں اس معاملے کی ایف آئی آر درج کریں اور جانچ کریں۔ اس طرح سے ہنگامہ کرنے والے لوگ کون ہیں، کسانوں کی طرف سے اس پورے معاملے میں کسی بھی طرح سے کوئی تشدد نہیں کی گئی ہے۔

 

 
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jun 30, 2021 02:17 PM IST