உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سی ایم ہمنت بسوا سرما News18 India Chaupal میں بولے، ممتا دی دی بھلے استقبال نہ کریں لیکن بھائی کی بات ماننی پڑے گی

    مسلم ووٹوں پر  ہیمنت بسوا سرما  نے کہا کہ اگر میں بولوں کہ میاں ووٹ دو ،کیا آپ مجھے ووٹ دیں گے؟ مجھے معلوم  ہے کہ وہ مجھ سے پیار  نہیں کرتے تو میں ووٹ کیوں مانگوں۔ اس لیے میاں کے ووٹ کی ضرورت نہیں، جس دن وہ ووٹ دینے کے لیے تیار ہوں گے، اس دن میں کہوں گا کہ میاں ووٹ دو۔

    مسلم ووٹوں پر ہیمنت بسوا سرما نے کہا کہ اگر میں بولوں کہ میاں ووٹ دو ،کیا آپ مجھے ووٹ دیں گے؟ مجھے معلوم ہے کہ وہ مجھ سے پیار نہیں کرتے تو میں ووٹ کیوں مانگوں۔ اس لیے میاں کے ووٹ کی ضرورت نہیں، جس دن وہ ووٹ دینے کے لیے تیار ہوں گے، اس دن میں کہوں گا کہ میاں ووٹ دو۔

    مسلم ووٹوں پر ہیمنت بسوا سرما نے کہا کہ اگر میں بولوں کہ میاں ووٹ دو ،کیا آپ مجھے ووٹ دیں گے؟ مجھے معلوم ہے کہ وہ مجھ سے پیار نہیں کرتے تو میں ووٹ کیوں مانگوں۔ اس لیے میاں کے ووٹ کی ضرورت نہیں، جس دن وہ ووٹ دینے کے لیے تیار ہوں گے، اس دن میں کہوں گا کہ میاں ووٹ دو۔

    • Share this:
      نئی دہلی: آسام کے وزیر اعلیٰ  ہمنت بسوا سرما  (Assam Chief Minister Himanta Biswa Sarma)  نے جمعرات کو نیوز 18 کے زیر اہتمام چوپال (News18 Chaupal) میں شرکت کی۔ اس دوران انہوں نے کئی مسائل اور سوالات پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے سی اے اے CAA  کے معاملے پر مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو نشانہ بنایا۔  ہمنت بسوا سرما  نے کہا، 'ہندوستان کی ایک ہندو تہذیب تھی اور ہندو تہذیب رہے گی۔ جہاں کہیں بھی ہندو برادری کے لوگ مذہبی ظلم و ستم کا شکار ہوں، انہیں اپنی مادر وطن واپسی کا حق ملنا چاہیے۔ اس لیے میں ہمیشہ سی اے اے کی حمایت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا، 'ممتا دی دی بنگلہ دیش کے بنگالی ہندوؤں کا خیرمقدم نہ کریں لیکن بھائی کی بات ماننی پڑے گی۔ دی دی کو بھائی کی بات ماننی پڑے گی کیونکہ ہندوستان میں بہن کو بھائی کی بات ماننی پڑتی ہے، بھائی بہن کی بات نہیں مانتا۔ 2014 سی اے اے کا کٹ آف ہے، جسے میں نے نہیں بنایا، لیکن میرا ماننا ہے کہ ہندوؤں کو ڈیڑھ سو سال بعد بھی ہندوستان آنے کا حق ملنا چاہیے۔
      آسام میں مدارس کے معاملے پر  ہمنت بسوا سرما  نے کہا کہ مدارس کو بند کرنے کا ارادہ ہے۔ تقریباً 700 مدارس بند ہو چکے ہیں، باقی مدارس کو نرسنگ اسکولوں اور انجینئرنگ کالجوں میں تبدیل کرنے کا ارادہ ہے۔ مدارس کو اسکول بنا دیا، جس سے آسام کے لوگ خوش ہیں۔ لوگ ڈاکٹر انجینئر بننا چاہتے ہیں لیکن مدارس میں پڑھنے والے مولوی بن جاتے ہیں، اس لیے بچوں کی رائے لینے کے بعد انہوں نے مدارس کو عام اسکولوں میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔
      مسلم ووٹوں پر  ہمنت بسوا سرما  نے کہا کہ اگر میں بولوں کہ میاں ووٹ دو ،کیا آپ مجھے ووٹ دیں گے؟ مجھے معلوم  ہے کہ وہ مجھ سے پیار  نہیں کرتے تو میں ووٹ کیوں مانگوں۔ اس لیے میاں کے ووٹ کی ضرورت نہیں، جس دن وہ ووٹ دینے کے لیے تیار ہوں گے، اس دن میں کہوں گا کہ میاں ووٹ دو، اب وہ صورتحال نہیں ہے۔' انہوں نے کہا کہ آسام میں مندر کے پانچ کلومیٹر کے اندر گائے کے گوشت پر پابندی ہے۔ حالانکہ مجھے گائے کے گوشت سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن گائے کے ذبیحہ سے ہے۔ سرما نے کہا کہ ہندوستان ہزاروں سالوں سے ہندو برادری کا ملک ہے اور رہے گا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہاں دوسری برادری کے لوگ نہیں رہ سکتے، ہر ہندوستانی ہندو ہے، کیونکہ بابر کے آنے سے پہلے سبھی ہندو تھے۔

      کانگریس پر ہمنت بسوا سرما کا تبصرہ
      کانگریس پر تبصرہ کرتے ہوئے، ہمنت بسوا سرما  (Assam Chief Minister Himanta Biswa Sarma) نے کہا، "کانگریس کا پس منظر اور ہندوستان کو دیکھنے کا انداز، ہندوستان کے لوگ اب باہر نکل چکے ہیں۔" پہلے لوگ اندرا جی کی تصویر دیکھ کر ووٹ دیتے تھے لیکن اب ہندوستان  اس سے آگے نکل گیا ہے۔ اگر کانگریس کو بچنا  ہے تو اسے خود کو نئے سرے سے تلاش کرنا ہوگا کیونکہ پارٹی اب خاندان کے نام پر نئے ہندوستان کو قبول نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کا وجود اب صرف ریاستوں کے لیڈروں کی وجہ سے رہ گیا ہے نہ کہ گاندھی کنبے کی وجہ سے۔ سرما نے کہا، 'راہل کی قیادت کو کیوں قبول نہیں کیا جاتا،  یہ امیٹھی کے لوگوں سے پوچھیں کہ عوام نے انہیں کیوں ٹھکرا دیا؟'

      انہوں نے کہا کہ مندر کی بات کرنے سے فرقہ وارانہ لیکن  دوسرے مذہب کی جگہ بنانے والاسیکیولر ہو جاتا ہے۔ ہم سیدھے سیدھے ہندو ہیں اور ہندو ہی رہیں گے کیونکہ ہندو تمام مذاہب کا احترام کرنا جانتے ہیں۔

      Published by:Sana Naeem
      First published: