உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گروگرام میں نماز پر منوہر لال کھٹر کا رخ سخت، کہا- کھلے میں نماز پڑھنا برداشت نہیں

    گروگرام میں نماز پڑھنے کے معاملے پر منوہر لال کھٹر نے کہا- کھلے میں نماز پڑھنا برداشت نہیں۔ تصویرـ اے این آئی

    گروگرام میں نماز پڑھنے کے معاملے پر منوہر لال کھٹر نے کہا- کھلے میں نماز پڑھنا برداشت نہیں۔ تصویرـ اے این آئی

    Gurugram Namaz Update: ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ’کھلے میں نماز نہیں ہونی چاہئے۔ کوئی اگر اپنی جگہ پر نماز پڑھتا ہے، پاٹھ پڑھتا ہے، تو اس میں ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ کھلے میں ایسے پروگرام نہیں ہونے چاہئے۔ نماز پڑھنے کی یہ روایت جو کھلے میں شروع ہوئی ہے، یہ بالکل بھی برداشت نہیں کیا جائے گا‘۔

    • Share this:
      گروگرام: گروگرام (Gurugram) میں اب عوامی مقامات پر نماز (Namaz in open Place) نہیں ہوگی۔ اس کے لئے احکامات پہلے ہی آچکے ہیں۔ جمعہ کے روز جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے۔ اسے لے کر تین ماہ سے دونوں فریق میں تنازعہ چل رہا تھا۔ اب اسے لے کر وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر (Manohar Lal Khattar) نے سخت رویہ اپنایا ہے۔

      وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ’کھلے میں نماز نہیں ہونی چاہئے۔ کوئی اگر اپنی جگہ پر نماز پڑھتا ہے، پاٹھ پڑھتا ہے، تو اس میں ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ کھلے میں ایسے پروگرام نہیں ہونے چاہئے۔ نماز پڑھنے کی یہ روایت جو کھلے میں شروع ہوئی ہے، یہ بالکل بھی برداشت نہیں کیا جائے گا‘۔ وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے کہا کہ ہم نے جن 37 مقامات کو کھلے میں نماز کے لئے نامزد کیا تھا ان تمام مقامات کی اجازت کو منسوخ کردیا جائے گا۔ نماز کو لے کر کشیدگی نہیں ہونے دی جائے گی۔

      نماز کی مخالفت نہیں کرنے پر اتفاق

      اس سے قبل گروگرام پولیس ڈپٹی کمشنر نے گزشتہ پیر کو کہا تھا کہ مسلم اور ہندو معاشرے کے لوگوں کی میٹنگ بلائی گئی، جس میں کئی فیصلے لئے گئے۔ اب نماز کی مخالفت نہیں ہوگی۔ اس میں طے ہوا کہ اب عوامی مقامات پر نماز نہیں ہوگی۔ جمعہ کی نماز 12 مساجد میں ہوگی۔ 6 عوامی مقامات پر نماز پڑھنے کے لئے کرایہ دینا ہوگا۔ وقف بورڈ کی زمین دستیاب ہوتے ہی 6 مقامات پر نماز بند کردی جائے گی۔

      تنازعہ ہوگا ختم، فریقین میں اتفاق رائے

      گروگرام میں گزشتہ تین ماہ سے کھلے میں نماز پڑھنے کا معاملہ تھمتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اب فریقین نےگروگرام کے ضلع ڈپٹی کمشنر اور پولیس افسران کے ساتھ میٹںگ کرکے آپسی رضامندی بنی ہے۔ تنازعہ والے مقام جیسے کہ سیکٹر-37، سیکٹر-47 اور سرہول گاوں میں نماز ادا کی جائے گی۔ گزشتہ پیر کو لئے گئے اس فیصلے کا مسلم برادری نے بھی استقبال کیا تھا۔ ضلع انتظامیہ اور اور جوائنٹ ہندو سنگھرش سمیتی کے اراکین کے ساتھ بنی اس رضامندی پر مسلم برادری نے ناراضگی ظاہر کی تھی۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ کچھ لوگ اس طرح کی افواہیں پھیلا رہے تھے کہ گروگرام میں نماز کی مخالفت ہوتی ہے، وہ بالکل غلط ہے۔ مسلم برادری کو کبھی بھی نماز ادا کرنے کے لئے نہیں روکا گیا۔
      2018 میں شروع ہوئی تھی نماز کی مخالفت



      گروگرام میں سب سے پہلے کھلے میں نماز کی مخالفت سال 2018 میں شروع ہوئی تھی، لیکن اب پھر سے کھلے میں نماز کی مخالفت شروع ہوگئی ہے۔ وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کی مانیں تو کھلے میں نماز کو لے کر کہا کہ نماز یا کوئی بھی عبادت یا پوجا مذہبی مقامات پر ہی ہونی چاہئے۔ منوہر لال کھٹر نے ضلع انتظامیہ کو حکم دیئے کہ مسلم کاونسل  کے ساتھ بیٹھ کر وقف بورڈ کی زمینوں پر نماز پڑھی جائے، ایسا انتظام کرنے کی کوشش کریں۔ واضح رہے کہ سال 2018 میں کھلے میں نماز کی مخالفت کے بعد ضلع انتطامیہ نے فریقین کو رضامندی کے بعد 37 مقامات پر کھلے میں نماز کی رضامندی تھی، جنہیں اب وزیر اعلیٰ  کے احکامات کے بعد واپس لے لیا گیا ہے۔

      کانگریس نے کہا- کھٹر حکومت مساجد کی توسیع کرنے میں مدد کرے

      دوسری جانب، منوہر لال کھٹر کے بیان پر کانگریس لیڈر اور مہاراشٹر سے رکن پارلیمنٹ مجید میمن نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کھٹر کو معلوم ہونا چاہئے کہ مساجد کی تعداد بہت کم ہے اور مسلمانوں کو ایڈجسٹ کرنے کے لئے مساجد کی توسیع کی اجازت نہیں ہے۔ کھٹر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کے لئے مساجد کی توسیع کرنے میں مدد کرے۔
      قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ  تعلیم و روزگار اور بزنس  کی خبروں کے لیے  نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔

       


       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: