உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Exclusive: جناح کے ذریعے پولرائزیشن چاہتا ہے اپوزیشن، پرینکا کا ٹورازم نہیں آئے گا کام - یوگیہ آدتیہ ناتھ

    اگلے سال یوپی کے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی جیتے گی 350 سے زیادہ سیٹیں۔ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ۔

    اگلے سال یوپی کے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی جیتے گی 350 سے زیادہ سیٹیں۔ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ۔

    اُترپردیش کے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ (Yogi Adityanath) نے نیوز18 کے ساتھ ایکسکلوزیو انٹرویو میں آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی (BJP) کے 350 سے زیادہ سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: اُترپردیش کے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ (Yogi Adityanath) نے نیوز18 کے ساتھ ایکسکلوزیو انٹرویو میں آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی (BJP) کے 350 سے زیادہ سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست میں کوئی بھی دوسری پارٹی بی جے پی کو چیلنج کرنے کی حالت میں نہیں ہے، کیونکہ اُن کی حکومت نے لوگوں کے لئے جو کام کیا ہے، اُس سے اُنہیں اور پارٹی کو خود اعتمادی ملی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے لیڈر اکھلیش یادو پر نشانہ لگاتے ہوئے یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ اپوزیشن محمد علی جناح (Muhammad Ali Jinnah) کا ذکر کرکے الیکشن میں پولرائزیشن کرنا چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ بھی کہا کہ پرینکا گاندھی (Priyanka Gandhi) کا ’الیکشن ٹورازم‘ ریاست میں کانگریس کو جیت نہیں دلاپائے گا۔ ساتھ ہی یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ بھی کہا کہ لکھیم پور کھیری یس مٰں کسی کو بھی بچایا نہیں جارہا ہے۔ پڑھیے یو پی سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کے انٹرویو کے اقتباسات۔
      Q. سوال: یو پی الیکشن میں بی جے پی کے لئے چیلنج کتنا بڑا ہے؟ آپ کی پارٹی ایک بار پھر سے 300 سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کررہی ہے۔ آپ کی اس خوداعتمادی کی وجہ کیا ہے، کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ یوپی میں کوئی بھی پارٹی لگاتار دوسری مرتبہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب نہیں رہی ہے۔
      جواب: یوگی آدتیہ ناتھ: یو پی کی 403 میں سے بی جے پی 350 سے زیادہ سیٹیں جیتے گی۔ اس بات میں کوئی شک نہیں رہنا چاہیے کہ اس حوکمت نے اپنے لوک کلیان سنکلپ پتر 2017 میں کیے گئے سبھی وعدوں کو پورا کیا ہے۔ 2017 سے پہلے یو پی کو بیمار ریاست کے طو رپر دیکھا جاتا تھا، لیکن اب ریاست میں ہر علاقے میں ترقی ہورہی ہے۔ پچھلے ساڑھے چار سالوں میں ہماری حکومت نے ریاست اور ریاست کی 24 کروڑ عوام کی بھلائی کے لئے کام کیا ہے۔ ہم نے جو ریاست اور ریاست کی عوام کے لئے کام کیا ہے، اُس سے ہمیں خوداعتمادی ملتی ہے۔ ہم نے کسانوں کی ترقی، خواتین اور ریاست کے غریب سے غریب آدمی کے لئے کام کیا ہے۔ 2017 میں ہم نے کسانوں کے 36 ہزار کروڑ کے قرض معاف کیے تھے، جس سے 2 کروڑ سے زیادہ کسانوں کو فائدہ ہوا تھا۔ یو پی مستقبل میں ہندوستان کو عالمی سطح پر سوپر پاور بنانے میں اہم رول ادا کرے گا۔

      سوال: آپ کی نظر میں آپ کے لئے سب سے بڑا چیلنج کون ہے؟ سماج وادی پارٹی، بہوجن سماجوادی پارٹی یا کانگریس؟ ایس پی کہتی ہے کہ وہ اصلی چیلنج دے رہی ہے۔۔۔

      یوگی آدتیہ ناتھ: ہم کسی کو بھی چیلنج کے طور پر نہیں دیکھتے ہیں۔۔۔

      سوال:تو پھر الیکشن میں آپ کا سب سے بڑا مدعا کیا ہے؟ کیا یہ ترقی ہے، قانونی صورتحال ہے یا پھر سرمایہ کاری؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ان معیار پر یوپی کی امیج بہتر ہوئی ہے؟
      یوگی آدتیہ ناتھ: 2017 سے ہم نے، ’ری فارم، پرفارم اور ٹرانسفارم‘ پر فوکس کیا ہے۔ اس سے عالمی اور قومی سطح پر یوپی کی امیج بدلی ہے۔ ریاست میں مستحکم قانون و صورتحال کی وجہ سے بزنس مین اور سرمایہ کاروں کو خوداعتمادی ملی ہے۔ ہماری حکومت نے سخت قانون بنا کر مجرموں کے سنڈیکٹ کو ختم کیا ہے، جو پہلے بیوپاریوں کو پریشان کرتے تھے۔ اس سے ریاست میں بزنس کو پھلنے پ ھولنے کا موقع ملا ہے اور آگے یہ اور بڑھے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سیمسنگ، ریلائنس اور مائیکروسافٹ جیسے گلوبل برانڈ آج یوپی میں اپنی انڈسٹری لگارہے ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ریاست میں ریکارڈ 11 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا انوسٹمنٹ ہوا ہے۔ ان میں 5 لاکھ کروڑبڑے انڈسٹریوں میں انوسٹ کا ہے۔ وہیں، دیگر 5 لاکھ کروڑ روپیہ ایم ایس ایم ای سیکٹر کے لئے ہے۔ اس طرح ریاست میں 30 لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کو روزگارملا ہے۔

      وہیں اوم پرکاش راج بھر کے اکھلیش یادو کے ساتھ اتحاد کے سوال پر یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ کوئی تشویش کی بات نہیں ہے، کیونکہ علاقے میں ہماری حالت ہمیشہ مضبوط رہی ہے۔ اور یوپی کے شہری کبھی بھی ایسے شخص پر بھروسہ نہیں کریں گے، جو بلیک میل کرتا ہے اور مانتا ہے کہ جناح ملک کے وزیراعظم بننے کے لائق تھے۔ جس پوروانچل کو پرانی حکومت نے نظرانداز کردیا تھا، وہاں جب ترقی کی بات آتی ہے، تو ہماری حکومت نے شاندار کام کیا ہے۔

      انہوں نے کہا کہ ہم جاپانی اینسیفلائٹس کو روکنے میں کامیاب رہے، جو ہر سال ہزاروں بچوں کی موت کی وجہ ہے۔ ہم نے گورکھپور میں AIIMS قائم کیا، جس کا فائدہ پورے پوروانچل کو ہوا ہے۔ پوروانچل ایکسپریس وے آگے علاقے میں معیشت اور سرمایہ کاری کو بڑھائے گا اور زیادہ روزگار مہیا کرائے گا جس سے لوگوں کی نقل مکانی ختم ہوجائے گی۔


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: