உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جھارکھنڈ: دھن باد میں کوئلہ کان منہدم، چار خواتین سمیت پانچ لوگوں کی موت، جانچ کے لئے SIT تشکیل

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    کوئلہ کمپنیوں کی امدادی ٹیموں نے نیرسا تھانے میں ایسٹرن کول فیلڈ لمیٹڈ (ECL) کے گوپی ناتھ پور اوپن کاسٹ پروجیکٹ (OCP) سے تین خواتین اور ایک لڑکی کی لاشیں برآمد کی ہیں۔ علاقہ میں دوسرے لوگوں کی تلاش جاری ہے جو ممکنہ طور پر پھنسے ہوئے ہیں۔ کاپسارا میں ڈوبنے والی دو دیگر کانوں میں بھی کان کنوں کے دبے ہونے کا اندیشہ ہے۔

    • Share this:
      دھن باد:جھارکھنڈ (Jharkhand) کے دھن باد ضلع میں کان کنی کے دوران تین بند کوئلہ کان (Coal mine) منہدم ہوگئیں۔ اس حادثے میں چار خواتین سمیت 5 لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔ کئی گھنٹوں تک چلے ریسکیو آپریشن کے بعد عہدیداروں نے یہ جانکاری دی۔ دھنباد کے ایس ڈی ایم پریم کمار تیواری، جو بچاؤ آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں، نے بتایا کہ کوئلہ کمپنیوں کی امدادی ٹیموں نے نیرسا تھانے میں ایسٹرن کول فیلڈ لمیٹڈ (ECL) کے گوپی ناتھ پور اوپن کاسٹ پروجیکٹ (OCP) سے تین خواتین اور ایک لڑکی کی لاشیں برآمد کی ہیں۔ علاقہ میں دوسرے لوگوں کی تلاش جاری ہے جو ممکنہ طور پر پھنسے ہوئے ہیں۔ کاپسارا میں ڈوبنے والی دو دیگر کانوں میں بھی کان کنوں کے دبے ہونے کا اندیشہ ہے۔


      جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین(Hemant Soren) نے ٹویٹ کیا، ’نیرسا، دھنباد میں واقع کوئلے کی کان سے کچھ ہلاکتوں کی اطلاع ملی ہے۔ ضلعی انتظامیہ بچاؤ اور راحت کے کاموں میں سرگرم ہے۔ بھگوان مہلوکین کی روح کو سکون عطا فرمائے اور لواحقین کو دکھ کی اس مشکل گھڑی کو برداشت کرنے کی ہمت دے۔ زخمیوں کو مدد فراہم کی جا رہی ہے۔‘

      تین کان ہوئیں منہدم
      رپورٹ کے مطابق، حکام نے بتایا کہ پہلے کپسارا آؤٹ سورسنگ پروجیکٹ پیر کی شام 5 بجے کے قریب منہدم ہوگیا۔ اس کے بعد دوسرا واقعہ پیر کی رات دیر گئے بھارت کوکنگ کول لمیٹڈ (BCCL) کے چانچ وکٹوریہ میں پیش آیا۔ جبکہ تیسرا واقعہ منگل کی صبح گوپی ناتھ پور اوپن کاسٹ کان میں پیش آیا۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ (دھنباد-دیہی) ریشما رمیش نے کہا کہ صرف کوئلہ کمپنیاں اندر پھنسے لوگوں کی تعداد بتا سکتی ہیں۔ حکام نے بتایا کہ غیر قانونی کان کنوں کے اہل خانہ نے پولیس کارروائی کے خوف سے ابھی تک حکام کو اطلاع نہیں دی ہے۔ پولیس کے موقع پر پہنچنے سے پہلے ہی مقامی لوگوں نے کچھ کان کنوں کو بچا لیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: