உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیسے ختم ہوا امریندر سنگھ اور نوجوت سدھو میں مہینوں سے چلا آرہا کولڈ وار؟ انسائڈ اسٹوری

    Amarinder Singh vs Navjot Singh Sidhu: پنجاب میں سال 2015 میں مذہبی گرنتھ کی بے ادبی اور اس کے بعد ہوئی پولیس فائرنگ کے معاملے میں نوجوت سنگھ سدھو سرعام کیپٹن امریندر سنگھ کے خلاف حملہ کرکے معاملے کی جانچ میں تاخیر کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

    Amarinder Singh vs Navjot Singh Sidhu: پنجاب میں سال 2015 میں مذہبی گرنتھ کی بے ادبی اور اس کے بعد ہوئی پولیس فائرنگ کے معاملے میں نوجوت سنگھ سدھو سرعام کیپٹن امریندر سنگھ کے خلاف حملہ کرکے معاملے کی جانچ میں تاخیر کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

    • Share this:

      چنڈی گڑھ: پنجاب کانگریس میں مہینوں کے سیاسی جھگڑے اور اندرونی جھگڑے کا اس وقت خاتمہ ہوتا ہوا نظر آیا، جب جمعہ کو نوجوت سنگھ سدھو کے بطور پنجاب کانگریس کمیٹی (پی سی سی سی) صدر کی حلف برداری تقریب میں وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ بھی پہنچے۔ دراصل دونوں لیڈروں نے لمبے وقت سے چلے آرہے کولڈ وار اور الزامات کی بوچھار کے بعد چائے پر صلح کرنے کا فیصلہ کیا۔


      امرتسر کے 57 سالہ رکن اسمبلی نے جمعرات کو ایک خط میں وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کو ’پنجاب کانگریس پریوار کا سب سے بڑا رکن‘ بتاتے ہوئے ان سے حلف برداری تقریب میں شرکت کرنے کی گزارش کی تھی اور کہا تھا کہ اس کے پیچھے ان کا ’کوئی ذاتی مفاد سے متعلق ایجنڈا نہیں ہے‘۔ اپنے رخ میں نرمی برتتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے پارٹی دفتر میں منعقد ہونے والی تقریب سے قبل پارٹی اراکین اسمبلی کو پنجاب بھون میں چائے پر مدعو کیا۔ تقریباً چار ماہ میں یہ پہلی بار ہے، جب نوجوت سنگھ سدھو اور امریندر سنگھ ایک دوسرے سے ملے ہیں۔




      وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے پارٹی کارکنان سے نئے ریاستی صدر نوجوت سنگھ سدھو کو پوری حمایت دینے کی گزارش کی۔
      وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے پارٹی کارکنان سے نئے ریاستی صدر نوجوت سنگھ سدھو کو پوری حمایت دینے کی گزارش کی۔

      جیسے ہی دونوں لیڈروں نے اپنی اختلافات ختم کرنے کا فیصلہ کیا، وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے پارٹی کارکنان سے نئے ریاستی صدر نوجوت سنگھ سدھو کو پوری حمایت دینے کی گزارش کی۔ انہوں نے کہا، ’ہمیں پنجاب میں کانگریس کو مضبوط کرنا ہے۔ میں اس اسٹیج سے سبھی سے کہہ رہا ہوں کہ ہمیں سدھو کی حمایت کرنا ہے اور پنجاب کے لئے مل کر کام کرنا ہے‘۔ ریاستی صدر کی کمان سنبھالنے سے قبل نوجوت سنگھ سدھو نے پنجاب بھون میں وزیراعلیٰ سے ملاقات کی۔ نوجوت سنگھ سدھو کے ذریعہ وزیراعلیٰ کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایک وائرل ویڈیو میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا گیا، ’سر، آپ کیسے ہیں‘؟ وزیر اعلیٰ اور امرتسر کے (مشرق) کے رکن اسمبلی کو پنجاب بھون اور بعد میں پارٹی دفتر میں ایک دوسرے کے بغل میں بیٹھے دیکھا گیا‘۔


      کانگریس رکن اسمبلی پرگٹ سنگھ کے مطابق، پنجاب بھون میں نوجوت سنگھ سدھو اور وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کے درمیان میٹنگ ’خوش آئند‘ رہی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوت سنگھ سدھو نے کانگریس جنرل سکریٹری ہریش راوت کی موجودگی میں چائے پر وزیراعلیٰ سے ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ کے میڈیا مشیر نے دونوں لیڈروں کے درمیان بات چیت کی تصاویر ٹوئٹ کی۔ وزیر اعلیٰ نے تاجپوشی تقریب سے قبل کانگریس لیڈروں کو پنجاب بھون مین چائے پر مدعو کیا تھا۔ نوجوت سنگھ سدھو پٹیالہ سے آئے اور وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر کے آنے سے کچھ دیر پہلے پنجاب بھون گئے۔




      نوجوت سنگھ سدھو پٹیالہ سے آئے اور وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر کے آنے سے کچھ دیر پہلے پنجاب بھون گئے۔
      نوجوت سنگھ سدھو پٹیالہ سے آئے اور وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر کے آنے سے کچھ دیر پہلے پنجاب بھون گئے۔

      کیپٹن امریندر سنگھ اور نوجوت سنگھ سدھو کے درمیان اپریل میں کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا، جب پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے گرو گرنتھ صاحب کی بے ادبی کے بعد کوٹ کپورا اور دیگر مقامات پر 2015 میں پولیس گولی باری کے حادثہ کی جانچ رپورٹ کو خارج کر دیا گیا تھا۔ اس میں دو مظاہرین کی موت ہوگئی تھی۔ نوجوت سنگھ سدھو نے پاک گرو گرنتھ کی بے ادبی کے معاملے کے لئے وزیر اعلیٰ کو نشانہ بنایا تھا۔ نوجوت سنگھ سدھو نے انصاف کو یقینی بنانے میں مبینہ طور پر ’جان بوجھ کر تاخیر‘ کو لے کر سوال اٹھایا تھا اور کیپٹن امریندر پر سال 2015 کی بے ادبی معاملے میں ذمہ داری سے بچنے کا الزام لگایا تھا۔


      اس درمیان، وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر نے نوجوت سنگھ سدھو کی ریاستی کانگریس صدر کے طور پر تقرری کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ وہ ان سے تب تک نہیں ملیں گے، جب تک کہ وہ ان کے خلاف اپنے ’قابل توہین‘ ٹوئٹ کے لئے معافی نہیں مانگتے۔ سنیل جھاکھڑ کی جگہ ریاستی صدر بنائے گئے نوجوت سنگھ سدھو نے جمعہ کو کانگریس لیڈروں اور کارکنان سے بھرے پارٹی دفتر میں چار کارگزار صدور کے ساتھ کام کاج سنبھالا۔ آئندہ سال ریاستی اسمبلی انتخابات کے پیش نظر نوجوت سنگھ سدھو کی مدد کے لئے پارٹی اعلیٰ کمان نے سنگت سنگھ گلجیان، سکھوندر سنگھ ڈینی، پون گوئل اور کلجیت سنگھ ناگرا کو بطور کار گزار صدر نامزد کیا ہے۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: