عجیب وغریب ترکیب: کرناٹک میں کالج نے نقل روکنے کے لئے طلبہ کے سر پر پہنا دیا گتا

دراصل، کالج نے نقل روکنے کے لئے طلبہ کے سر پر گتا پہنا دیا جس سے بچے اپنا منھ ہلا نہیں پا رہے تھے اور سیدھے کاپی پر ہی اپنا دھیان دے رہے تھے۔

Oct 19, 2019 03:59 PM IST | Updated on: Oct 19, 2019 04:01 PM IST
عجیب وغریب ترکیب: کرناٹک میں کالج نے نقل روکنے کے لئے طلبہ کے سر پر پہنا دیا گتا

کرناٹک میں کالج نے نقل روکنے کے لئے طلبہ کے سر پر پہنا دیا گتا

بنگلورو۔  نقل روکنے کے لئے اسکول کیا کیا نہیں کرتے۔ امتحان میں کسی طرح کی کوئی گڑبڑی نہ ہو اس لئے طلبہ کو گھڑی لگانے، جوتے پہننے یہاں تک کہ لڑکیوں کو جھمکے، چوڑی اور مہندی لگانے سے بھی روک دیا جاتا ہے۔ امتحان میں نقل کو روکنے کی کوششوں کے بیچ کرناٹک کے ایک کالج نے بچوں کے ساتھ کچھ ایسا کر دیا جسے دیکھنے کے بعد آپ جہاں حیران رہ جائیں گے، وہیں اپنی ہنسی بھی روک نہیں پائیں گے۔

دراصل، کالج نے نقل روکنے کے لئے طلبہ کے سر پر گتا پہنا دیا جس سے بچے اپنا منھ ہلا نہیں پا رہے تھے اور سیدھے کاپی پر ہی اپنا دھیان دے رہے تھے۔ کالج کی اس حرکت کے بعد ریاستی حکومت نے کالج کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

Loading...

کالج نے نقل روکنے کے لئے طلبہ کے سر پر گتا پہنا دیا جس سے بچے اپنا منھ ہلا نہیں پا رہے تھے اور سیدھے کاپی پر ہی اپنا دھیان دے رہے تھے۔ کالج نے نقل روکنے کے لئے طلبہ کے سر پر گتا پہنا دیا جس سے بچے اپنا منھ ہلا نہیں پا رہے تھے اور سیدھے کاپی پر ہی اپنا دھیان دے رہے تھے۔

یہ معاملہ ہاویری واقع بھگت پری یونیورسیٹی کالج کا ہے۔ یہاں پر طلبہ نقل نہ کر پائیں اس کی ایک عجیب وغریب ترکیب نکالی گئی۔ یہاں پر امتحان شروع ہوتے ہی طلبہ کو گتے کا ایک ایک ڈبہ دیا گیا۔ بچوں کو پہلے تو سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ اس کا کیا کرنا ہے۔ کچھ دیر بعد اساتذہ نے انہیں یہ گتے اپنے سر پر پہننے کے لئے کہہ دیا۔ ساتھ ہی آگے کی طرف آنکھوں کے پاس دو سوراخ کر دئیے گئے تاکہ طلبہ اپنے سوال دیکھ سکیں اور اس کا جواب لکھ سکیں۔ کرناٹک کے اس کالج میں نقل روکنے کی اس عجیب وغریب ترکیب سے ہر کوئی حیران ہے۔

اس واقعے پر ریاستی وزیر تعلیم ایس سریش کمار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدام ناقابل قبول ہیں۔ کمار نے ٹوئٹ کیا، ’’کسی کو بھی اس بات کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ طلباء کے ساتھ جانوروں کی طرح برتاؤ کرے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’ اس بے حیائی سے جلد ہی نمٹا جائے گا‘‘۔

Loading...