اپنا ضلع منتخب کریں۔

    کمیشن کو جموں-کشمیر میں نئی ​​حلقہ بندیوں کا فیصلہ کرنے کا اختیار،SC میں مرکزی حکومت نے کہی بات

    کمیشن کو جموں-کشمیر میں نئی ​​حلقہ بندیوں کا فیصلہ کرنے کا اختیار،SC میں مرکزی حکومت نے کہی بات

    کمیشن کو جموں-کشمیر میں نئی ​​حلقہ بندیوں کا فیصلہ کرنے کا اختیار،SC میں مرکزی حکومت نے کہی بات

    سالیسٹر جنرل تشار مہتا، جو مرکز کی طرف سے پیش ہوئے، نے جسٹس ایس کے کول اور جسٹس ابھے ایس اوکا کی بنچ کو بتایا کہ جموں و کشمیر تنظیم نو قانون، 2019 کو نہیں روکتا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi | Jammu and Kashmir
    • Share this:
      مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ جموں کشمیر میں اسمبلی اور لوک سبھا حلقوں کی ری شیڈولنگ کے لیے تشکیل کردہ حد بندی کمیشن کو اسمبلی حلقوقں کو پھر سے طئے کرنے کا حق ہے۔ وہیں، سپریم کورٹ نے شیڈولنگ کمیشن کو چیلنج دینے والی درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔

      حکومت کے فیصلے کو چیلنج دینے والی درخواست مسترد
      حد بندی کمیشن کی تشکیل کے حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی درخواست کو خارج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے، سالیسٹر جنرل تشار مہتا، جو مرکز کی طرف سے پیش ہوئے، نے جسٹس ایس کے کول اور جسٹس ابھے ایس اوکا کی بنچ کو بتایا کہ جموں و کشمیر تنظیم نو قانون، 2019 کو نہیں روکتا۔ حکومت کی طرف سے حد بندی کمیشن کا قیام بنچ نے سالیسٹر جنرل کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

      مرکز اور الیکشن کمیشن نے فیصلے کا دفاع کیا
      مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن نے جموں-کشمیر میں حدبندی کے فیصلے کا دفاع کیا، لیکن اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج دینے والے درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ حد بندی کی کارروائی پر صحیح طریقے سے عمل نہیں کیا گیا۔ ملک کے باقی ماندہ حصوں میں لاگو رولس پر عمل کرنے کے بجائے جموں کشمیر کو الگ تھلگ کردیا گیا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      دہلی سمیت ان ایئرپورٹس پر اب چہرہ ہی بورڈنگ پاس، ہوائی اڈوں پر ’پیپرلیس‘ انٹری

      یہ بھی پڑھیں:
      دہلی:آج شام تھم جائے گا انتخابی تشہیر کا شور،’چھوٹی حکومت‘منتخب کرنے کیلئے اتوار کو ووٹنگ

      سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ درخواست گزار نے قوانین کے پروویژن کو چیلنج نہیں دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے آئین کو دیکھیں۔ درخواست گزار نے آئینی چیلنج نہیں دیا ہے۔ سالسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ پہلے بھی آئینی طور سے طئے ارکان اسمبلی کی تعداد کو تنظیم نو کے ایکٹ کے تحت دوبارہ منظم کیا گیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: