ہوم » نیوز » وطن نامہ

World Water Day : پانی کیا ہونا چاہئے ، کموڈیٹی کا سب کا حق ؟

پانی کو لے کر دنیا بھر میں ایک مہم چھڑی ہوئی ہے کہ پانی کو بیچنے کی چیز نہ بناکر بنیادی انسانی حقوق مانا جانا چاہئے ۔ ہر شخص کو حق ہے کہ اس تک محفوظ پانی پہنچے ، اس لئے مہم کے حق میں کئی طرح کے عالمی سطح کے ادارے بنے ہیں ۔

  • Share this:
World Water Day : پانی کیا ہونا چاہئے ، کموڈیٹی کا سب کا حق ؟
World Water Day : پانی کیا ہونا چاہئے ، کموڈیٹی کا سب کا حق ؟

تقریبا سوا دو ارب لوگوں کی آبادی کو دنیا بھر میں محفوظ یا صحتمند پانی نصیب نہیں ہے ۔ پانی کے بارے میں ہر طرح کی بیداری پیدا کرنے کے مقصد سے اقوام متحدہ کے تحت 1993 میں عالمی یوم آب ( ورلڈ واٹر ڈے ) ہر سال 22 مارچ کو منایا جاتا ہے ۔ 2021 میں اس کا ٹھیم Valuing Water رکھا گیا تھا ۔ پانی کو ہم انمول کہتے ہیں ، اس لئے ظاہر ہے کہ پانی کی قیمت اس تھیم کی محتاج نہیں ہے تو کیا پانی کی قیمت کو لے کر کوئی بحث کی جاسکتی ہے ؟


سب سے پہلے یہ سمجھنا چاہئے کہ پانی کی قیمت کا مطلب کسی بوتل پر لکھی اس کی قیمت نہیں ہے ۔ بلکہ ہمارے گھروں ، کھانوں ، کلچر ، صحت ، تعلیم ، معیشت اور ماحولیات میں اس کی اہمیت ہی پانی کی حقیقی قیمت مانی جانی چاہئے ۔ اس موضوع سے اس بحث تک پہنچا جاسکتا ہے کہ پانی کو کسی چیز یا پرڈوکٹ کی طرح ٹریٹ کیا جانا چاہئے یا نہیں ؟


کیا ہے بحث ؟


پانی کو لے کر دنیا بھر میں ایک مہم چھڑی ہوئی ہے کہ پانی کو بیچنے کی چیز نہ بناکر بنیادی انسانی حقوق مانا جانا چاہئے ۔ ہر شخص کو حق ہے کہ اس تک محفوظ پانی پہنچے ، اس لئے مہم کے حق میں کئی طرح کے عالمی سطح کے ادارے بنے ہیں ۔ ایسا ہی ایک آندولن فرسٹ نیشن ہے ، جو پانی کی رسائی سب تک ہونے کا معاملہ اٹھاتا ہے ۔

گزشتہ ہی ماہ ایک آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دنیا کے 41 ممالک ایسے ہیں ، جہاں لوگوں تک پینے کے قابل پانی نہیں پہنچ پارہا ہے ۔ بدتر حالت تو یہ ہے کہ ان تک پانی پہنچانے کیلئے کوئی اسکیم تک نہیں ہے ۔ حال ہی میں فرسٹ نیشن نے کہا تھا کہ 2019 میں 2021 تک ان ممالک میں پینے کے قابل پانی پہنچانے کا وعدہ کیا گیا تھا ، لیکن کورونا کی وجہ سے ہدف کو حاصل کرنے میں تاخیر ہورہی ہے ۔

پانی کو لے کر دنیا بھر میں ایک مہم چھڑی ہوئی ہے کہ پانی کو بیچنے کی چیز نہ بناکر بنیادی انسانی حقوق مانا جانا چاہئے ۔
پانی کو لے کر دنیا بھر میں ایک مہم چھڑی ہوئی ہے کہ پانی کو بیچنے کی چیز نہ بناکر بنیادی انسانی حقوق مانا جانا چاہئے ۔


پرائیویٹائزیشن سے کیا بحران کھڑا ہوا ؟

کناڈا جیسے دنیا کے کچھ دیگر ممالک ہیں ، جہاں پانی اور سیور سسٹم کی نجکاری کردی گئی ہے ۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ انسان کی بنیادی ضرورت سے منافع کمائے جانے کا عمل شروع ہورہا ہے ۔ کناڈا کے سب سے بڑے لیبر ادارے این یو پی جی ای کی مانیں تو تشویش کی بات یہ ہے کہ پانی کے پرائیویٹائزیشن والے سسٹم کو سرکاریں مدد کرتی ہیں اور منافع کا ایک حصہ سرکاروں تک پہنچتا ہے ۔

تقریبا سوا دو ارب لوگوں کی آبادی کو دنیا بھر میں محفوظ یا صحتمند پانی نصیب نہیں ہے ۔
تقریبا سوا دو ارب لوگوں کی آبادی کو دنیا بھر میں محفوظ یا صحتمند پانی نصیب نہیں ہے ۔


کیا کوئی امید کی کرن ہے ؟

دنیا میں کئی طرح کے ادارے پانی کو انسانی حقوق کا درجہ دے کر مفت مہیا کروائے جانے کے معاملہ پر کام کر رہی ہیں ۔ یہ بھی ایک اچھی خبر ہے کہ لوگوں میں پانی کی اہمیت کے بارے میں بیداری بڑھ رہی ہے ۔ وہیں کناڈا جیسے جگہوں پر پانی کی نجکاری کی مخالفت کے نتائج دیکھنے کو مل رہے کہ سرکار پانی کے پرائیویٹائزیشن پر کسی حد تک روک لگا رہی ہے ۔

اس پوری بحث میں دو اہم باتیں ہاتھ لگ رہی ہیں ۔ ایک پینے کا پانی ہر انسان کا بنیاد حق مانا جائے اور اس کیلئے ہر انسان کو لڑنا ہوگا اور دوسری بات کہ پینے کے پانی کو بچانا ، محفوظ رکھنا اور دستیاب کرانا ہے اور اس کیلئے بیداری ضروری ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 22, 2021 09:53 AM IST