உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hajj 2022: خادم الحجاج کی ناقص کارکردگی اور سرکاری رقم کا بیجا استعمال، بھوپال کلکٹر اور ای او ڈبلیو میں کی گئی شکایت

    حج 2022 میں خادم الحجاج کی ناقص کارکردگی اور سرکاری رقم کے بیجا استعمال کے معاملے سے متعلق تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے۔ سماجی تنظیموں نے بھوپال کلکٹر کو میمورنڈم دیتے ہوئے سفرحج کے دوران ناقص کارکردگی کرنے والے خادم الحجاج سے سرکاری رقم واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    حج 2022 میں خادم الحجاج کی ناقص کارکردگی اور سرکاری رقم کے بیجا استعمال کے معاملے سے متعلق تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے۔ سماجی تنظیموں نے بھوپال کلکٹر کو میمورنڈم دیتے ہوئے سفرحج کے دوران ناقص کارکردگی کرنے والے خادم الحجاج سے سرکاری رقم واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    حج 2022 میں خادم الحجاج کی ناقص کارکردگی اور سرکاری رقم کے بیجا استعمال کے معاملے سے متعلق تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے۔ سماجی تنظیموں نے بھوپال کلکٹر کو میمورنڈم دیتے ہوئے سفرحج کے دوران ناقص کارکردگی کرنے والے خادم الحجاج سے سرکاری رقم واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Bhopal, India
    • Share this:
    بھوپال: حج 2022 میں خادم الحجاج کی ناقص کارکردگی اور سرکاری رقم کے بیجا استعمال کے معاملے سے متعلق تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے۔ مدھیہ پردیش کی سماجی تنظیموں نے نیوز ایٹین اردو کی خبر کے بعد اس معاملے سے متعلق بھوپال کلکٹر کے ساتھ ای او ڈبلیو میں شکایت کر کے معاملے کی اعلی سطحی جانچ کرنے اور خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سماجی تنظیموں نے بھوپال کلکٹر کو میمورنڈم دیتے ہوئے سفرحج کے دوران ناقص کارکردگی کرنے والے خادم الحجاج سے سرکاری رقم واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
    واضح رہے کہ کورونا قہر کے دو سال بعد ہونے والے سفر حج سے متعلق جہاں ہندوستان کے حجاج میں خاصہ جوش تھا اور انہوں نے حکومت کی ہدایت کے مطابق سارے اخراجات کو ادا کرتے ہوئے مقدس سفر پر اس اطمینان کے ساتھ روانگی کی تھی کہ انہیں حکومت کے ذریعہ کئے گئے انتظامات سے سہولیات میسر ہوں گی اور وہ اپنے مذہبی فرائص کو بحسن و خوبی انجام سے سکیں گے۔ مگر ہندوستان سے جانے والے بیشتر حجاج کرام کا خواب اس وقت چکنا چور ہوگیا، جب ایام حج میں بیشتر خادم الحجاج حاجیوں کی خدمت کرنے کے بجائے اپنا حج کرتے ہوئے نظر آئے۔

    خادم الحجاج کی ناقص کارکردگی کے سبب بہت سے حجاج کرام کو اپنے ہوٹل سے منی تک پیدل سفر کرنا پڑا اور کچھ کے پیروں میں چھالے تک پڑ گئے۔ خادم الحجاج کی ناقص کارکردگی سے متعلق جب نیوز ایٹین اردو نے خاص رپورٹ پیش کی تو سماجی تنظیموں ںے اس معاملے کو لے کرقدم اٹھایا اور بھوپال کلکٹر کے ساتھ ای او ڈبلیو میں بھی شکایت کی۔
    محبان بھارت کے قومی صدر جاوید بیگ کہتے ہیں کہ نیوز ایٹین اردو کا شکریہ کہ اس نے ہمیں اس اہم پہلو سے باخبر کیا۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ خادم الحجاج کو حاجیوں کی خدمت کے لئے بھیجا گیا اور وہ وہاں پر حاجیوں کی خدمت کے بجائے اپنا حج کرتے ہوئے نظر آئے۔ ہم کلکٹرکو میمورنڈم پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اعلی سطحی جانچ کی جائے۔ جب مدھیہ پردیش کے خادم الحجاج کا سلیکشن سفر حج سے کئی ماہ پہلے ہوگیا تھا تو عین وقت پر سفر حج کی پرواز شروع ہوتے ہی کئی نام کیسے بدل دیئے گئے۔

    دوسری بات یہ ہے کہ ایک خادم الحج کو بھیجنے پر حکومت کا چار لاکھ سے زیادہ رقم کی رقم صرف ہوئی ہے اور جب خادم الحجاج نے اپنا بنیادی کام ہی نہیں کیا ہے تو کیوں نہ ان سے رقم واپس لی جائے۔ وہیں سماجی کارکن علیم قریشی کہتے ہیں کہ اس معاملے کی کلکٹر کے ساتھ ای او ڈبلیو میں اس لئے شکایت کی گئی ہے کیونکہ اس میں سرکاری رقم کا بیجا استعمال ہوا ہے اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کام کیا گیا ہے۔

    خادم الحجاج کے سلیکشن میں اقربا پروری کو انجام دیا گیا ہے، جن خادم الحجاج کا سلیکشن کئی ماہ پہلے کیا گیا تھا ان کے نام کو ہٹاکرفلائٹ کے ایام میں جوڑا جانا بتاتا ہے کہ یہ نام کسی کےاشارے پر بدلے گئے ہیں اور ایک بات اور ہم بتا دیں کہ چونکہ خادم الحجاج کی ناقص کارکردگی کا معاملہ پورے ہندوستان کے حاجیوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اس لئے اس کی شکایت صدر جمہوریہ ہند سے بھی کی جائے گی اور ان سے مطالبہ کیا جائے گا کہ خادم الحجاج کے حج کرنے پر پابندی لگائی جائے۔ خدمت کرنے والے صرف خدمت کا کام انجام دیں۔

    وہیں بھوپال کے سماجی کارکن و ادیب تسنیم راجہ کہتے ہیں کہ مقدس فریضہ کو دھوکہ سے کرنا انتہائی شرمناک ہے۔ یہاں سے لوگ خدمت کے نام پر سرکاری رقم سے بھیجے گئے اور وہاں پر خدمت کو چھوڑ کر کچھ اور ہی کیا گیا۔ سعودی عرب میں جن لوگوں کی خدمت میں ڈیوٹی لگائی جاتی ہے وہ کبھی بھی اپنی جگہ سے نہیں ہٹتے ہیں، مگر یہاں کے لوگ اپنی جگہ پر پائے ہی نہیں جاتے ہیں اور پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جن لوگوں کا خادم الحجاج کے لئے سلیکشن کیا گیا، ان میں سے بیشتر خادم الحجاج کی شرائط کو ہی پورا نہیں کرتے ہیں۔ اس کی جانچ ہونا اور خاطیوں کے خلاف کارروائی ہونا بے حد ضروری ہے تاکہ لوگوں کو سبق مل سکے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: