ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شاہین باغ احتجاج کے خلاف پولیس میں درج کرائی گئی شکایت ، جانیں کیا ہے اس کی اصل وجہ

ایک ماہ سے زیادہ عرصہ سے شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ پولیس بھی کئی مرتبہ مظاہرین سے راستہ کھولنے کی اپیل کرچکی ہے ۔

  • Share this:
شاہین باغ احتجاج کے خلاف پولیس میں درج کرائی گئی شکایت ، جانیں کیا ہے اس کی اصل وجہ
شاہین باغ احتجاج کے خلاف پولیس میں درج کرائی گئی شکایت

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دہلی کے شاہین باغ میں جاری احتجاج کے خلاف شاہین باغ تھانہ میں ایک شکایت درج کرائی گئی ہے ۔ یہ شکایت اترپردیش کے گوتم بدھ نگر کے رہنے والے ایک شخص وید بھوشن نے درج کرائی ہے ۔ گزشتہ تقریبا 35 دنوں سے سڑک پر جاری دھرنا اور احتجاج کے پیش نظر ٹریفک نظام میں ہورہی پریشانیوں کی وجہ سے یہ شکایت درج کروائی گئی ہے ۔ دھرنا کی وجہ سے کالندی کنج سے ہو کر نوئیڈا جانے والا راستہ متاثر ہے ۔


خیال رہے کہ اس سے قبل دہلی پولیس نے بھی مظاہرین سے اپیل کی تھی ۔ پولیس نے اپنی اپیل میں کہا تھا کہ ہم روڈ نمبر 13 اے شاہین باغ کے مظاہرین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ دہلی اور این سی آر کے باشندوں ، سینئر سٹیزنس ، مریضوں اور اسکول جانے والے بچوں کو ہونے والی پریشانیوں کو سمجھیں ۔ یہ معاملہ ہائی کورٹ کے سامنے بھی پیش ہوچکا ہے ۔ ہم مظاہرین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑے مفاد عامہ میں تعاون کریں اور سڑکوں کو خالی کردیں ۔


شہریت ترمیمی قانون کے خلاف شاہین باغ میں خواتین  کے احتجاج کو ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ۔ فائل فوٹو
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف شاہین باغ میں خواتین کے احتجاج کو ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ۔ فائل فوٹو


قابل ذکر ہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے پیش نظر گزشتہ منگل کو دہلی پولیس سے کہا تھا کہ وہ کالندی کنج – شاہین باغ راستے پر ٹریفک کے نظام کو بحال کرے اور اس پریشانی سے قانون کے مطابق نمٹا جائے ۔ چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس سی ہری شنکر کی ایک بینچ نے یہ ہدایت دی تھی اور اس سے متعلق عرضی کا نمٹارہ کردیا تھا ۔

غور طلب ہے کہ ایک ماہ سے زیادہ عرصہ سے شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ پولیس بھی کئی مرتبہ مظاہرین سے راستہ کھولنے کی اپیل کرچکی ہے ۔ اس احتجاج اور دھرنے میں بڑی تعداد میں خواتین شامل ہیں ۔ خواتین کا واضح طور پرکہنا ہےکہ جب تک ہمارے مطالبات کو حکومت تسلیم نہیں کرلیتی ہے، اس وقت تک ہم یہاں سے نہیں ہٹیں گے ۔
First published: Jan 19, 2020 11:27 PM IST