ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

یوپی مدرسہ بورڈ کے نتائج میں کئی سنگین خامیوں کی شکایت

یوپی مدرسہ بوڑد کے نتائج کا اعلان یو پی بورڈ کے نتائج کے اعلان کے صرف تین دن بعد ہی کر دیا گیا ہے، لیکن امداد یافتہ دینی مدارس کی نمائندہ تنظیم ٹیچرس ایسو سی ایشن مدارس عربیہ نے مدرسہ بورڈ کی طرف سے جاری کردہ نتائج پر کئی سنیگن سوال کھڑے کردیئے ہیں۔

  • Share this:
یوپی مدرسہ بورڈ کے نتائج میں کئی سنگین خامیوں کی شکایت
یو پی مدرسہ بورڈ کے نتائج میں کئی سنگین خامیوں کی شکایت

الہ آباد: یو پی میں 500 سے زیادہ امداد یافتہ دینی مدارس کے منشی، مولوی، عالم، کامل اور فاضل کے امتحانات کے نتائج کا اعلان یوپی میں مدرسہ بورڈ نے کردیا ہے۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ یوپی مدرسہ بوڑد کے نتائج کا اعلان یو پی بورڈ کے نتائج کے اعلان کے صرف تین دن بعد ہی کر دیا گیا ہے، لیکن امداد یافتہ دینی مدارس کی نمائندہ تنظیم ٹیچرس ایسو سی ایشن مدارس عربیہ نے مدرسہ بورڈ کی طرف سے جاری کردہ نتائج پر کئی سنیگن سوال کھڑے کردیئے ہیں۔


ٹیچرس ایسو سی ایشن مدارس عربیہ کے جنرل سکریٹری اعظم حامد نے مدرسہ بورڈ کی طرف سے جاری مارک شیٹ میں پائی جانے والے خامیوں کی طرف سے نشاندہی کی ہے۔ اعظم حامد کا کہنا ہے کہ ریاست کے کئی اضلاع سے شکایت موصول ہو رہی ہے کہ امتحان میں حاضر رہنے والے بچوں کو بھی مارک شیٹ میں غیر حاضر دکھایا گیا ہے ۔ اعظم حامد کا کہنا ہے کہ اس طرح کے خامیاں بچوں کے لئے  سنگین مسائل پیدا کر ستی ہیں۔ کیوں کہ اس  سے بڑے پیمانے پر بچوں کے امتحان میں فیل ہونے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔


یوپی مدرسہ بوڑد کے نتائج کا اعلان یو پی بورڈ کے نتائج کے اعلان کے صرف تین دن بعد ہی کر دیا گیا ہے۔ فائل فوٹو
یوپی مدرسہ بوڑد کے نتائج کا اعلان یو پی بورڈ کے نتائج کے اعلان کے صرف تین دن بعد ہی کر دیا گیا ہے۔ فائل فوٹو


اعظم حامد کا یہ بھی کہنا ہے کہ مدارسہ بورڈ کے امتحان میں شیعہ اور سنی مسلک کی دینیات کے  پرچے الگ الگ ہوتے ہیں ، لیکن بعض مارک شیٹ میں شیعہ کی جگہ پر سنی اور سنی کی جگہ پر شیعہ دینیات درج ہو گیا ہے۔ الہ آباد کے مشہور شیعہ دینی ادارے جامعہ امام یہ انوار العلوم کے پرنسپل مولانا سید حیدر جوادی نے بھی اس طرح خامیوں کی شکایت کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ شیعہ اور سنی دینیات میں کے پرچوں میں اس طرح کی خامیاں ماضی میں بھی سر زد ہوتی رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مدرسہ بورڈ کے ذمہ داران ابھی تک عقائد اور دینیات کے تکنیکی پہلوؤں کو نظر انداز کرتے آ رہے ہہیں ۔ جواد حیدر جوادی کا کہنا ہے کہ اس طرح کی غلطیوں کا خمیازہ طلبا ء کو اٹھانا پڑتا ہے ۔ واضح رہے کہ اس بار یو پی مدرسہ بورڈ کے امتحان میں 182259 طلبا ء اور طالبات نے شرکت کی تھی، جس میں 115650 طلبا ء و طالبات کو کامیاب قرار دیا گیا ہے ۔ اس بار مدرسہ بورڈ کے امتحانات میں بچوں کی کامیابی کا فیصد 55.99 رہا ہے۔
First published: Jul 01, 2020 11:53 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading