உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلم اور دلت کوفراموش کرکے نہیں لکھی جا سکتی ہے تحریک آزادی کی مکمل تاریخ: دانشوروں کا اظہار خیال

    مسلم اور دلت کوفراموش کرکے نہیں لکھی جا سکتی ہے تحریک  آزادی کی مکمل  تاریخ

    مسلم اور دلت کوفراموش کرکے نہیں لکھی جا سکتی ہے تحریک آزادی کی مکمل تاریخ

    ایک جانب حکومت کی سطح پر ملک گیر سطح پر آزادی کا امرت مہوتسو منایا جارہا ہے۔ وہیں دوسری جانب ایک منظم سازش کے تحت تحریک آزادی کے حقائق کو مسخ کرکے ایک طبقہ کے لوگوں کو تاریخ میں نمایاں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومت اپنی کوششوں سے وقت طور پر توکامیابی حاصل کرسکتی ہے، لیکن لیکن تحریک آزادی کے جوحقائق تاریخ میں درج ہیں اس کو نہیں بدلا جاسکتا ہے۔

    • Share this:
    بھوپال: ایک جانب حکومت کی سطح پر ملک گیر سطح پر آزادی کا امرت مہوتسو منایا جارہا ہے۔ وہیں دوسری جانب ایک منظم سازش کے تحت تحریک آزادی کے حقائق کو مسخ کرکے ایک طبقہ کے لوگوں کو تاریخ میں نمایاں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومت اپنی کوششوں سے وقت طور پر توکامیابی حاصل کرسکتی ہے، لیکن لیکن تحریک آزادی کے جوحقائق تاریخ میں درج ہیں اس کو نہیں بدلا جاسکتا ہے۔ تحریک آزادی میں بھوپال کے جن مجاہدین آزادی نے نمایاں کردار ادا کیا تھا، جن میں بلا لحاظ قوم وملت سے سبھی قوموں کو لوگ شامل تھے۔

    موجودہ حکومت کے ذریعہ اس مشترکہ وراثت کی تاریخ کو منظم سازش کے تحت نہ صرف مسخ کیا جا رہا ہے بلکہ ان لوگوں کو آزادی کا ہیرو بناکر پیش کیا جارہا ہے جو آزادی کی تحریک میں کبھی شامل ہی نہیں ہوئے تھے۔ تحریک آزادی میں حاشیہ پر کھڑے لوگوں کو اپنا ہیرو کبھی تسلیم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار بھوپال میں منعقدہ ادبی تقریب میں دانشوروں نے کیا۔
    بھوپال کے ادیب شہنواز خان نے جنہوں نے ’جنگ آزادی کا اتہاس‘ نامی کتاب لکھی ہے جب ان سے نیوز ایٹین اردو نے بات کی اور کتاب لکھنے کی وجہ تسمیہ دریافت کی تو انہوں نے بتایا کہ حکومت کے ذریعہ نہ صرف تحریک آزادی کے حقائق کو مسخ کیا جارہا ہے بلکہ بھوپال جس کے مجاہدین تحریک آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، اس میں حقائق سے روگردنی کرتے ہوئے ان لوگوں کو ہیرو بنایا جارہا ہے جو کبھی تحریک آزادی کا حصہ ہی نہیں رہے ہیں۔ ہم نے 1857 سے 1947 بلکہ ریاست بھوپال کا مرجر ایگریمنٹ اور یہاں چلنے والی انضمام ریاست تحریک کو تاریخی دستاویز، گزٹیئر کی روشنی میں پیش کیا ہے تاکہ نئی نسل حقائق کو جان سکے اور حکومت کی سازش سے پردہ اٹھ سکے۔

    بھوپال کے ادیب شہنواز خان نے جنہوں نے ’جنگ آزادی کا اتہاس‘ نامی کتاب لکھی ہے، اس کے اجرا کے موقع پر ادیبوں اور دانشوروں نے شرکت کی۔
    بھوپال کے ادیب شہنواز خان نے جنہوں نے ’جنگ آزادی کا اتہاس‘ نامی کتاب لکھی ہے، اس کے اجرا کے موقع پر ادیبوں اور دانشوروں نے شرکت کی۔


    یہ بھی پڑھیں۔

    دہلی حکومت کا جمنا کی صفائی کے لئے بگ سیوریج لائن منصوبہ
    پروگرام کے مہمان خصوصی رگھو ٹھاکر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہنواز خان کی صرف ایک کتاب نہیں ہے بلکہ ایک ایسا تاریخی دستاویز سے جس سے 1857 سے 1947  کی تحریک آزادی بالخصوص بھوپال میں جنگ آزادی کی تاریخ اس سچ کو پیش کرتی ہے جس پر پردہ ڈالا جارہا ہے۔ ممتاز ادیب و پروگرام  صدر اقبال مسعود نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں 1857 سے 1947 ہی نہیں بلکہ 1949 تک کی تاریخ کو حقائق کی روشنی میں یکجا کیا گیا ہے۔ اس کی ضرورت اس لئے بھی پیش آئی کہ جو حکومت ہے یا حکمراں طبقہ ہے وہ ہمیشہ اپنے مفاد کے لئے تاریخ کو عوام کے سامنے توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے۔ حکمراں طبقہ حقائق کو پوشیدہ کرتے ہوئے وہ باتیں ڈال دیتا ہے جو اس کی حکومت کے لئے بہتر ہوتی ہیں اور دوسروں کے لئے نقصاندہ ہوتی ہیں۔

    شہنواز خان نے جس عرق ریزی سے کام کیا ہے اس کے لئے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ حکومت کے ذریعہ تحریک آزادی میں مسلمانوں اور دلتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسے ناموں کو اجاگر کیاجا رہا ہے جو کبھی تحریک آزادی میں شریک ہی نہیں تھے۔ شہنواز خان نے جس طرح سے جالوں کو ہٹانے کا کام کیا ہے، اس سے ان کی کتاب آنے والی نسلوں کے لئے رہنما کا کام کرے گی۔ پروگرام میں سنتوش چوبے، مکیش ورما، بلرام گماستہ، اور بدر واسطی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کتاب کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: