ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

تلنگانہ: کے سی آر کی دوسری میعاد کے دو سال مکمل، بی جے پی سے سخت چیلنجز کا سامنا

تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے چندرا شیکھر راؤ نے اپنے دوسرے میعاد کے دوسرے سال کی تکمیل کی ہے۔ کے سی آرکو دوسرے دور میں بی جے پی سے انھیں سخت مسابقت کا سامنا ہے۔ اپنے دوسرے پانچ سالہ دور کے دوسرے سال میں دباک اسمبلی کا ضمنی الکشن اور پھر جی ایچ ایم سی کے انتخابات ان کے لئے سر درد ثابت ہوئے۔

  • Share this:
تلنگانہ: کے سی آر کی دوسری میعاد کے دو سال مکمل، بی جے پی سے سخت چیلنجز کا سامنا
تلنگانہ: کے سی آر کی دوسری میعاد کے دو سال مکمل، بی جے پی سے سخت چیلنجز کا سامنا

حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے چندرا شیکھر راؤ نے اپنے دوسرے میعاد کے دوسرے سال کی تکمیل کی ہے۔ کے سی آرکو دوسرے دور میں بی جے پی سے انھیں سخت مسابقت کا سامنا ہے۔ اپنے دوسرے پانچ سالہ دور کے دوسرے سال میں دباک اسمبلی کا ضمنی الکشن اور پھر جی ایچ ایم سی کے انتخابات ان کے لئے سر درد ثابت ہوئے۔ علیحدہ تلنگانہ تحریک کے روح رواں کے چندرا شیکھر راؤ نے 2014 میں قیام تلنگانہ کے بعد پہلی بار وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا۔ کے سی آر نے بہ  وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے اپنا پہلا دور بغیرکسی مزاحمت کے پورا کیا۔ اپنے پہلے ہی دور میں وہ ریاست میں بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس کو کمزور کرنے میں کامیاب ہوئے-کے سی آر نے 13 د سمبر 2018 کو دوسری بار وزیر اعلیٰ تلنگانہ کے عہدہ کا حلف لیا تھا۔


قیام تلنگانہ کے بعد منعقدہ دوسرے اسمبلی انتخابات میں ان کی پارٹی تلنگانہ راشٹریہ سمیتی (ٹی آر ایس) نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے 119 میں سے 88 نشستیں حاصل کیں تھیں۔ مسلسل دو اسمبلی الکشنس میں زبردست کامیابی کے بعد کے سی آر اپنے آپ کو ایک قومی لیڈر کے طور پر پیش کرنے کا خواب دیکھنے لگے تھے۔ اس سلسلہ میں گزشتہ لوک سبھا الیکشن سے پہلے انہوں نے ایک فیڈرل فرنٹ کے قیام کی ناکام کوشش بھی کی تھی، لیکن سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں ٹی آر ایس کو توقع کے مطابق کامیابی نہیں ملی۔ اس میں انہیں 17 نشستوں میں سے صرف 9 پر کامیابی حاصل ہوئی۔ اس الیکشن کی خاص بات یہ رہی کہ اس میں بی جے پی کو 4 اور کانگریس کو دو سیٹیں حاصل ہوئیں۔ اس طرح لوک سبھا 2019 کا الیکشن تلنگانہ میں بی جے پی کے اثر میں اضافہ کا سال رہا اور 2020 کے اختتام پر بی جے پی نے بلدیہ حیدرآباد کے الیکشن میں جس طرح مظاہرہ کیا، اس سے یہ لگ رہا ہے کہ 2023 اسمبلی انتخابات میں  بے جے پی  کے سی آر کے اقتدارکو سخت چلینج دے سکتی ہے۔


تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے سی آر نے دہلی دورہ کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ وزیر داخلہ امت شاہ سے بھی ملاقات کی۔
تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے سی آر نے دہلی دورہ کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ وزیر داخلہ امت شاہ سے بھی ملاقات کی۔


ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد کے سی آر کی مقبولیت کی اصل وجہ ان کی ذریعہ تشکیل کی گئیں فلاحی اسکیموں سمجھی جاتی ہیں۔ اپنی اسکیموں کے ذریعہ کے سی آر نے سماج کے ہر طبقہ تک پہنچنے کی نہ صرف کوشش کی بلکہ انہیں کامیابی سے روبہ عمل لانے میں بھی کامیابی حاصل کی۔ تاہم یہ سمجھا جا رہا ہے کہ  اور اپنے میدان کے تجربہ کار اور منجھے ہوئے کھلاڑی کے سی آر نے جلد بازی میں ریاست سے کانگریس کا مکمل خاتمہ کرتے ہوئے غلطی کی۔ ان کے اس عمل کا یہ اثر ہوا کہ بی جے پی کو تلنگانہ میں اپوزیشن کے طور پر ابھرنے کا بھر پور موقع مل رہا ہے۔
گزشتہ ماہ کے سی آر نئی دہلی کا دورہ کرتے ہوئے وہاں تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کے دفتر کا سنگ بنیاد رکھنا چاہتے تھے۔ بہار کے الیکشن کے نتایج کے فوری بعد طے کئے گئے اس دورے سے یہ توقع تھی کہ وہ غیر این ڈی اے علاقائی پارٹیوں کے ایک فرنٹ کی تشکیل کی کوشش کریں گے۔ تاہم ان کا گزشتہ ماہ کا نئی دہلی کا دورہ ملتوی کردیا گیا تھا۔ بلدیہ الکشن کے انقعاد کے بعد کے سی آر نے فوری نئی دہلی کا دورہ کیا۔ ایک ماہ بعد کئے گئے اس  دورے میں نہ تو انہوں نے اپنی پارٹی کے آفس کا سنگ بنیاد رکھا اور نہ اس دورے میں  کسی نئے سیاسی فرنٹ کے قیام کی کوشش کی۔ سمجھا جا رہا تھا کہ ان کا دورہ دہلی سرخیاں بنایے گا، لیکن اس میں وہ وزیر اعظم مودی اور مرکزی وزراء سے ملاقات کرتے نظر آئے۔ کے سی آر کے دورہ دہلی سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ  اب محتاط ہو چکے ہیں۔ سمجھا جا رہا ہے کہ بی جے پی کے چلینج کو قبول کرتے ہوئے اپنی اور اپنی پارٹی کی مقبولیت کو قائم رکھنا اور اگلے اسمبلی الیکشن میں دوبارہ کامیابی ہی ان کا مقصد ہوگی۔ دیکھنا ہے وہ اس میں کتنا کامیاب ہوتے ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 13, 2020 11:20 PM IST