உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سونیا گاندھی کے بے حد قریبی رہے غلام نبی آزاد کے Congress چھوڑنے کے فیصلے پر ایک نئی بحث کا آغاز

    غلام نبی آزاد کے کانگریس چھوڑنے کے فیصلے پر ایک نئی بحث کا آغاز۔ (فائل فوٹو)

    غلام نبی آزاد کے کانگریس چھوڑنے کے فیصلے پر ایک نئی بحث کا آغاز۔ (فائل فوٹو)

    غلام نبی آزاد کے کانگریس چھوڑنے کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں کانگریس کے مستقبل، نئی پارٹی کی تشکیل اور راہل گاندھی کی سیاسی حکمتِ عملی کے تعلق سے نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ ایک طرف ان کی حمایت میں استعفوں کا دور چل رہا ہے وہیں دوسری طرف ان کے اس فیصلے پر انہیں تنقید کا بھی سامنا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Lucknow, India
    • Share this:
    لکھنو: غلام نبی آزاد کے کانگریس چھوڑنے کے بعد ملک کی مختلف ریاستوں میں کانگریس کے مستقبل، نئی پارٹی کی تشکیل اور راہل گاندھی کی سیاسی حکمتِ عملی کے تعلق سے نئی بحث شروع ہوگئی ہے، کئی ریاستوں میں کانگریس کے پلیٹ فارم سے غیر معمولی خدمات انجام دینے والے فی الوقت مغربی بنگال پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکرٹری و ترجمان اہم لیڈر، ادیب و دانشور خواجہ احمد حسین کہتے ہیں کہ غلام نبی آزاد سے ایسی امید نہ تھی، آزاد ہندوستان کے معمر سنجیدہ کانگریسی رہنما غلام نبی آزاد کا کانگریس سے الگ ہونے کا فیصلہ افسوسناک ہے۔

    خواجہ احمد حسین ماضی بعید اور ماضی قریب پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے انھیں کشمیر کے ایک گاؤں سے اٹھا کر نیشنل رہنما بنا دیا، پھر ایم پی اور 1980 میں انڈین یوتھ کانگریس کا صدر بنایا۔ تقریباً تمام کانگریسی وزیراعظم کی کابینہ میں وزیر اور پارٹی کے اعلیٰ عہدوں پربھی فائز رہے۔ راجیو گاندھی نے انھیں کشمیر کا وزیر اعلی بننے کا موقع دیا اور سونیا گاندھی نے راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کا رہنما بنایا۔ غلام نبی آزاد بھی ہمیشہ اپنے نظریے کے پابند اور اپنی جماعت کے وفادار رہے۔ پھرآخر ایسا کیا ہوا کہ انہوں نے اتنا بڑا فیصلہ لے لیا؟

    کانگریس لیڈر خواجہ احمد حسین کہتے ہیں کہ غلام نبی آزاد سے ایسی امید نہ تھی، آزاد ہندوستان کے معمر سنجیدہ کانگریسی رہنما غلام نبی آزاد کا کانگریس سے الگ ہونے کا فیصلہ افسوسناک ہے۔
    کانگریس لیڈر خواجہ احمد حسین کہتے ہیں کہ غلام نبی آزاد سے ایسی امید نہ تھی، آزاد ہندوستان کے معمر سنجیدہ کانگریسی رہنما غلام نبی آزاد کا کانگریس سے الگ ہونے کا فیصلہ افسوسناک ہے۔


    انہوں نے اپنی ذاتی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ غلام نبی آزاد اس وقت عمر کے آخری پڑاؤ میں ہیں، کوئی عہدہ نہ ہونے پہ بھی آپ کی قدرو منزلت وہی رہتی۔ آپ کی مقبولیت اور پذیرائی میں اج بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ مگر آزاد صاحب اپنے اس دل خراش  فیصلے سے نہ صرف یہ کہ ہندوستانیوں کی نگاہ بلکہ خود اپنی نگاہ سے بھی گر گئے ہوں گے، ہوس اور ظلم آدمی کو دنیا کی نگاہوں سے گرا دیتا ہے۔ یہ وقت کانگریس کی قربانیوں کے ساتھ کھڑے رہنے کا تھا، ایسے وقت میں غلام نبی آزاد  نے اپنے کرم فرماؤں کا ساتھ اس طرح چھوڑا جیسے سراج الدولہ کا ساتھ میر جعفر نے چھوڑا تھا۔

    یہ بھی پڑھیں۔


    خواجہ احمد حسین کہتے ہیں کہ آج اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی  روح شاید یہ کہہ رہی ہوگی کہ آزاد صاحب، اس وقت میرے بچوں کو سہارے کی ضرورت تھی، کیا ایسا فیصلہ آپ اپنے بچوں کے ساتھ بھی کرسکتے ہیں؟ صرف خواجہ احمد حسین ہی نہیں بلکہ کئی اور ذمہ دار رہنما بھی غلام نبی آزاد کو یہ غائبانہ مشورہ دے رہے ہیں کہ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ہے، موصوف کو چاہئے کہ وہ اپنے ضمیر کا احتساب کریں اور سونیا جی اور راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی و دیگر کانگریسی رہنماؤں کے ساتھ بیٹھیں، آپ راجیو گاندھی کے گہرے و سچے دوست رہے ہیں، تاکہ دنیا کے نگاہوں میں ذلیل خوار ہونے سے بچ جائیں۔

    اس پورے معاملے کے بعد ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا مشورہ دینے والے لوگ ان تمام سیاسی حالات منظر و پس منظر سے واقف ہیں، جن کو سامنے رکھتے ہوئے غلام نبی آزاد جیسے سہم لیڈر کو یہ فیصلہ کرنا پڑا ہے، غلط اور صحیح کا فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا، لیکن اس قدم نے کانگریس کی مشکلوں میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ راہل گاندھی کی سیاسی بصیرت و صلاحیت پر ایک اور سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: