உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وقف رباط میں قیام کو لے کر غیر یقینی صورتحال سے عازمین حج میں تشویش

    حج 2022 کے لئے پرواز شروع ہونے میں چند دن ضرور رہ گئے ہیں، لیکن مکہ مکرمہ  اور مدینہ منورہ میں نوابین بھوپال کے ذریعہ تعمیرکی گئی رباط میں عازمین حج کے قیام کو لےکر اب بھی غیر یقینی صورتحال بنی ہوئی ہے ۔ وقف رباط میں قیام کو لے کر صورتحال کے واضح نہیں ہو نے کو لے کر عازمین حج کے بیچ سوال بھی اٹھنے لگے ہیں۔

    حج 2022 کے لئے پرواز شروع ہونے میں چند دن ضرور رہ گئے ہیں، لیکن مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں نوابین بھوپال کے ذریعہ تعمیرکی گئی رباط میں عازمین حج کے قیام کو لےکر اب بھی غیر یقینی صورتحال بنی ہوئی ہے ۔ وقف رباط میں قیام کو لے کر صورتحال کے واضح نہیں ہو نے کو لے کر عازمین حج کے بیچ سوال بھی اٹھنے لگے ہیں۔

    حج 2022 کے لئے پرواز شروع ہونے میں چند دن ضرور رہ گئے ہیں، لیکن مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں نوابین بھوپال کے ذریعہ تعمیرکی گئی رباط میں عازمین حج کے قیام کو لےکر اب بھی غیر یقینی صورتحال بنی ہوئی ہے ۔ وقف رباط میں قیام کو لے کر صورتحال کے واضح نہیں ہو نے کو لے کر عازمین حج کے بیچ سوال بھی اٹھنے لگے ہیں۔

    • Share this:
    بھوپال: حج 2022 کے لئے پرواز شروع ہونے میں چند دن ضرور رہ گئے ہیں لیکن مکہ مکرمہ  اور مدینہ منورہ میں نوابین بھوپال کے ذریعہ تعمیر کی گئی رباط میں عازمین حج کے قیام کو لے کر اب بھی غیر یقینی صورتحال بنی ہوئی ہے ۔ وقف رباط میں قیام کو لیکر صورتحال کے واضح نہیں ہو نے کو لیکر عازمین حج کے بیچ سوال بھی اٹھنے لگے ہیں۔

    رباط کے ممتولی شاہی اوقاف کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں عازمین حج کے قیام کو لیکر تیاریاں مکمل کرلیں ہیں ،انہیں صرف مرکزی حج کمیٹی اور سی جی آئی جدہ کے احکام کا انتظار ہے۔ وہیں بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود نے رباط میں عازمین حج کے قیام اور غیر یقینی صورتحال کو لیکر  مرکزی وزیر برائے اقلیتی فلاح و بہبود مختار عباس نقوی کو خط لکھ کر رباط معاملے میں انتظامات کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
    واضح رہے کہ نوابین بھوپال کے ذریعہ حیدر آباد، ٹونک ریاست کی طرز پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رباطیں تعمیر کی گئی تھیں تاکہ ریاست کے عازمین حج کا مکہ اور مدینہ کی رباط میں مفت قیام کا انتظام کیا جا سکے۔ ریاست  بھوپال کے عازمین حج کو اس سےنہ صرف بڑی سہولیات ملتی ہیں بلکہ ان کا سفر حج کا مصارف بھی نصف ہوجاتا ہے، لیکن امسال ابھی تک رباط میں قیام کو لے کر سی جی آئی جدہ اور مرکزی حج کمیٹی کی جانب سے کسی قسم کا احکام جاری نہیں کئے جانے سے جہاں عازمین حج تشویش میں مبتلا ہیں۔ وہیں شاہی اوقاف کے ذمہ داران بھی عازمین حج کو رباط میں قیام کو لے کرکچھ بتانے سے قاصر ہیں۔
    مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں نوابین بھوپال کے ذریعہ قائم کی گئیں رباط کا انتظام و انصرام بھوپال شاہی اوقاف کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ شاہی اوقاف کی ٹرسٹی نواب منصور علی خان پٹودی کی بڑی بیٹی صبا سلطان شاہی اوقاف کی ٹرسٹی ہیں اور ان کے ممبئی میں ہونے کے سبب بھوپال میں شاہی اوقاف کا نظم ونسق شاہی اوقاف کے سکریٹری اعظم ترمذی کے ذریعہ دیکھا جاتا ہے۔

    شاہی اوقاف کے سکریٹری اعظم ترمذی نے نیوزایٹین اردو سےخاص ملاقات میں بتایا کہ حج کے پیش نظر شاہی اوقاف کے ذریعہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دونوں جگہوں پر عازمین حج کے قیام کو لے کر پوری طرح تیاری کرلی گئی ہیں۔ انہیں بس مرکزی حج کمیٹی اور سی جی آئی جدہ کے احکام کا انتظار ہے۔ جیسے ہی احکام ملتا ہے، ریاست بھوپال کے عازمین حج کا قرعہ کرکے ان کی رہائیش کے انتظام کو یقینی بنانے کا کام کیا جائے گا۔
    وہیں اس معاملے میں نیوز18اردو کے ذریعہ جب بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ وقف رباط میں عازمین حج کے قیام کولیکر پیدا ہوئی غیر یقینی صورتحال کو لےکر انہوں نے مرکزی وزیر برائے اقلیتی فلاح و بہبود مختار رعباس نقوی سے فون پر بات کرنے کے ساتھ خط بھی لکھا ہے۔ میں نے مختار عباس نقوی کو عازمین حج کی تشویش کو لیکر باخبر کیا ہے۔ مجھے ایسا معلوم چلا کہ اس بار سی جی آئی نے اس بار حج کو لےکر جو گائڈلائن جاری کی ہے، اس میں ہندوستان کے عازمین حج مختلف ریاستوں کے نوابین کے ذریعہ تعمیرکی گئیں رباط میں عازمین حج کے قیام کو بین کردیا ہے۔ میں نے اس تعلق سے مرکزی وزیرکو تفصیل سے بتایا تو انہوں نے ہفتہ بھر کے اندر اس معاملے کو حل کرنے کا یقین دلایا ہے۔ میں نے انہیں اس تعلق سے خط بھی لکھا ہے اور سی جی آئی جدہ کو بھی خط لکھا ہے اور آپ کے ذریعہ میں یہ مطالبہ کرنا چاہتا ہوں کہ جتنی بھی رباطیں ہیں، چاہے وہ بھوپال رباط ہو، ٹونک رباط ہو، حیدرآباد یا دوسرے صوبہ کی رباطیں ہوں۔ ان سب میں عازمین حج کو قیام کی اجازت دینا چاہئے۔ سعودی گورنمنٹ جب رباط میں عازمین حج کے قیام کو اجازت دینے کو تیار ہے، تو ہم لوگ کیوں ا ن کو روک رہے ہیں۔ کیونکہ اس عازمین حج پرخرچ کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

    مثال کے طور پر اگر بھوپال کے عازمین حج کو رباط دی جاتی ہے، تو ان کے مصارف میں تقریباً ایک لاکھ روپئے کم ہو جائے گا اور اگر یہ انتظام نہیں کیا جاتا ہے، تو بھوپال کے اگر تین سو عازمین حج سفر حج پر جا رہے ہیں تو تقریباً تین کروڑ روپئے اضافی خرچ ہوگا۔ اسی طرح دوسری ریاستوں کے عازمین حج کے مصارف کو شامل کیا جاسکتا ہے، تو مہربانی کرکے اس سلسلہ میں جلدی کوئی فیصلہ کریں تاکہ عازمین حج کے بیچ رباط میں قیام کو لے کر جو غیر یقینی صورتحال بنی ہوئی ہے، اسے دور کیا جا سکے۔انہوں نے ایک ہفتہ میں اس معاملے کو حل کرنےکا یقین دلایا ہے اور مجھے امید ہے کہ اس سلسلہ میں جلد کوئی بہتر فیصلہ سامنے آئے گا۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: