ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی وقف بورڈ کو ملی بڑی کامیابی، تبلیغی مرکز کھولنے کی دہلی ہائی کورٹ نے دی مشروط اجازت

دہلی ہائی کورٹ میں مرکز تبلیغی جماعت کا تالا کھولنے کے لئے جاری سماعت کے دوران آج دہلی وقف بورڈ کو اس وقت بڑی کامیابی ملی، جب عدالت عالیہ نے شب برات اور رمضان کے پیش نظر تبلیغی مرکز کا تالا کھولے جانے کی اجازت دے دی۔

  • Share this:
دہلی وقف بورڈ کو ملی بڑی کامیابی، تبلیغی مرکز کھولنے کی دہلی ہائی کورٹ نے دی مشروط اجازت
دہلی وقف بورڈ کو ملی بڑی کامیابی، تبلیغی مرکز کھولنے کی دہلی ہائی کورٹ نے دی مشروط اجازت

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ میں مرکز تبلیغی جماعت کا تالا کھولنے کے لئے جاری سماعت کے دوران آج دہلی وقف بورڈ کو اس وقت بڑی کامیابی ملی، جب عدالت عالیہ نے شب برات اور رمضان کے پیش نظر تبلیغی مرکز کا تالا کھولے جانے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے دہلی وقف بورڈ کے وکیلوں کی اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے یہ اجازت دی کہ جلد ہی رمضان کا مہینہ شروع ہونے والا ہے جبکہ اس سے قبل شب برات آنے والا ہے، جس میں تمام مسلمان خصوصی عبادت کرتے ہیں اس لئے عالمی تبلیغی مرکزکا تالا کھولنے کی اجازت دی جائے۔ البتہ عدالت عالیہ نے اپنی اجازت کو 50 لوگوں کے داخلہ سے محدود کیا ہے۔


تفصیلات کے مطابق عدالت نے عالمی تبلیغی مرکز میں ابھی 50 لوگوں کو داخلہ کی اجازت دی ہے، جن کی تفصیل نام اور پتے کے ساتھ مقامی پولیس اسٹیشن میں جمع کرانی ہوگی، جہاں سے مقامی تھانہ انچارج اجازت نامہ جاری کریں گے۔تفصیل کے مطابق، آج عدالت میں دہلی وقف بورڈ کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ رمیش گپتا ورچولی اوروقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کاؤنسل وجیہ شفیق بذات خود موجود رہے جبکہ دہلی حکومت کی جانب سے ایڈوکیٹ نندتا راؤ موجود رہیں۔مرکزی حکومت کی جانب سے ورچول طریقہ سے ایڈیشنل سالیسٹرجنرل چیتن شرما اورایڈوکیٹ رجت نائر پیش ہوئے۔


عدالت نے عالمی تبلیغی مرکز میں ابھی 50 لوگوں کو داخلہ کی اجازت دی ہے، جن کی تفصیل نام اور پتے کے ساتھ مقامی پولیس اسٹیشن میں جمع کرانی ہوگی، جہاں سے مقامی تھانہ انچارج اجازت نامہ جاری کریں گے۔
عدالت نے عالمی تبلیغی مرکز میں ابھی 50 لوگوں کو داخلہ کی اجازت دی ہے، جن کی تفصیل نام اور پتے کے ساتھ مقامی پولیس اسٹیشن میں جمع کرانی ہوگی، جہاں سے مقامی تھانہ انچارج اجازت نامہ جاری کریں گے۔


مرکزی حکومت کے وکلاء نے عدالت عالیہ سے ایک مرتبہ پھر مزید وقت کا مطالبہ کیا۔ مرکزی وکلاء نے اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کے لیئے مزید وقت کا مطالبہ کیاجس کے جواب میں دہلی وقف بورڈ کے وکلاء نے عدالت عالیہ کے سامنے شب برات اور رمضان کی آمد کا حوالہ دیتے ہوئے رمضان سے قبل سماعت کی درخواست کی، جسے عدالت نے تسلیم کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے وکلاء کو اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کے لئے دو ہفتوں کا وقت دیا اور اگلی تاریخ 12اپریل مقرر کردی۔

امانت اللہ خان نے رٹ داخل کرتے ہوئے تالابندی کو قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا اور وقف ایکٹ 1995کے سیکشن 32 کی رو سے وقف بورڈ کے اختیارات میں مداخلت قرار دیا۔
امانت اللہ خان نے رٹ داخل کرتے ہوئے تالابندی کو قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا اور وقف ایکٹ 1995کے سیکشن 32 کی رو سے وقف بورڈ کے اختیارات میں مداخلت قرار دیا۔


غور طلب ہے کہ گزشتہ سال اسی ماہ میں کووڈ- 19کا حوالہ دیتے ہوئے انتظامیہ نے عالمی تبلیغی مرکز کی تالابندی کردی تھی، جسے اب ایک سال مکمل ہوچکا ہے۔ اس معاملہ میں مرکزکا تالا کھلوانے کے لئے دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان کے ذریعہ عدالت عالیہ کا رخ کیا ہے، جہاں امانت اللہ خان نے رٹ داخل کرتے ہوئے تالابندی کو قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا اور وقف ایکٹ 1995کے سیکشن 32 کی رو سے وقف بورڈ کے اختیارات میں مداخلت قرار دیا۔ دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے اپنی رٹ میں کہا ہےکہ تبلیغی مرکزکی تالابندی کرتے ہوئے آئین اور قوانین کو بالائے طاق رکھا گیا اور وقف ایکٹ 1995 کے سیکشن 32 کی خلاف ورزی کی گئی، جس کے مطابق دہلی وقف بورڈ کو اپنی جائیداد کا انتظام کرنے کا حق حاصل ہے۔ واضح رہے کہ عالمی تبلیغی مرکز دہلی وقف بورڈ کی جائیداد میں آتا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 24, 2021 11:29 PM IST