ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شمس الرحمان فاروقی کی وفات اردو ادب کیلئے بڑا خسارہ ، تنقید، فکشن اور شاعری میں ان کے کارنامے ناقابل فراموش : پروفیسر ارتضی کریم

اردو نقد و ادب کاشمس رحمان کی گودمیں : شعبہ اردو کے صدر اور آرٹس فیکلٹی کے ڈین پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شمس الرحمان فاروقی ایک بڑے عالم ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد اچھے انسان اور مخلص مربی بھی تھے۔ وہ علمی و ادبی کاموں اور انتظامی معاملات میں بہترمشورے سے نوازتے تھے۔

  • Share this:
شمس الرحمان فاروقی کی وفات اردو ادب کیلئے بڑا خسارہ ، تنقید، فکشن اور شاعری میں ان کے کارنامے ناقابل فراموش : پروفیسر ارتضی کریم
شمس الرحمان فاروقی کی وفات اردو ادب کیلئے بڑا خسارہ ، تنقید، فکشن اور شاعری میں ان کے کارنامے ناقابل فراموش : پروفیسر ارتضی کریم

شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی میں مشہور ناقد، فکشن نگار اور دانشور مرحوم ”شمس الرحمٰن فاروقی“ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ شعبہ اردو کے صدر اور آرٹس فیکلٹی کے ڈین پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے فاروقی کے علمی و ادبی کارناموں پر روشنی ڈالنے کے بعد کہا کہ شمس الرحمان فاروقی ایک بڑے عالم ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد اچھے انسان اور مخلص مربی بھی تھے۔ وہ علمی و ادبی کاموں اور انتظامی معاملات میں بہترمشورے سے نوازتے تھے۔


انہوں نے مزید کہا کہ شمس الرحمان فاروقی کی وفات سے اردو ادب کو بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔ تنقید، فکشن اور شاعری میں ان کے کارنامے بھلائے نہیں جاسکتے۔ ان کے جانے سے اردو ادب کا آفتاب غروب ہوگیا ۔ سابق صدر شعبہ پروفیسر ابن کنول نے ان کی وفات پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شمس الرحمان فاروقی اردو ادب کے مخلص خدمت گزار تھے۔ ان کے جانے سے اردو ادب میں جو خلا پیدا ہوا ہے اس کا پُر ہونا بہت مشکل ہے۔ ایسے ادیب صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔


ڈاکٹر محمد کاظم نے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شمس الرحمان فاروقی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ بیک وقت کئی اصنافِ ادب پر دسترس رکھتے تھے۔ ان کی وفات سے اردو داں طبقے کو گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ ڈاکٹر نجمہ رحمانی نے کہا کہ ان کی وفات ہم سب کے لیے بہت بڑاصدمہ ہے۔ شمس الرحمان فاروقی عظیم ادیب کے ساتھ ساتھ عظیم انسان بھی تھے۔ ڈاکٹر مشتاق عالم قادری نے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے جانے سے اردو ادب کے علاوہ عالمی ادب کا بھی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے جس طرح سے ادب کی خدمت کی ہے وہ قابل دید ہے۔ جن اصناف ادب پر قلم چلایا اس کا حق ادا کردیا۔


ڈاکٹرابوبکرعباد نے کہا کہ شمس الرحمان فاروقی ایسی شخصیت کا نام ہے، جو اپنی تحریروں اور ادبی کارناموں کی وجہ سے ہر دور میں زندہ و جاوید رہیں گے۔ ان کی وفات سے اردو ادب کو بڑا نقصان ہوا ہے۔ ڈاکٹر ارشاد نیازی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فاروقی کی وفات سے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا۔ خاص طور پر اردو تنقید کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے جو بھی لکھا بہت ایمانداری اور بیباکی سے لکھا ۔ ڈاکٹر احمد امتیاز نے کہا کہ اردو ادب کے معیار کو بلند کرنے میں شمس الرحمان فاروقی کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ جس طرح سے انہوں نے شاعری پر کام کیا ہے۔ وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں۔

ڈاکٹر متھن کمار نے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ادبی خدمات اور علم کا احاطہ کرنا بہت مشکل ہے۔ شمس الرحمان فاروقی اپنے آپ میں ایک دبستان تھے۔ ڈاکٹر ادریسی نے کہا کہ فاروقی کی وفات سے علم کا سایہ ہمارے سروں سے اٹھ گیا۔ ڈاکٹر شاذیہ عمیر نے کہا کہ شمس الرحمان فاروقی اسم بامسمیٰ تھے۔ انہوں نے اصناف پر طبع آزمائی کی۔ ڈاکٹر شمیم نے کہا کہ ان کے جانے سے ادب کو کافی نقصان ہوا ہے۔

ڈاکٹر ناصرہ سلطانہ نے کہا کہ شمس الرحمان فاروقی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں وہ صدیوں تک اپنے ادبی کارناموں سے زندہ و جاوید رہیں گے۔ اس کے علاوہ تعزیتی نشست میں ڈاکٹر دانش حسین، ڈاکٹرشاہنواز ہاشمی،ڈاکٹر مخمور صدری اورکثیر تعداد میں طلبہ و طالبات شریک تھے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 29, 2020 08:17 PM IST