بچوں کے بدلتے مزاج کے مطابق کہانی اور بچوں کے ادب کی پیشکش کو بھی بدلنا ہوگا : پروفیسر ادریس صدیقی

مشہور ادیب پروفیسر ادریس صدیقی نے بچوں کی کہانیوں کی چھ ہزار سالہ تاریخ کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کا ادب ہر دور میں موجود رہا ہے ، صرف اس کی شکل اور پیش کش بدلتی رہی ہے ۔

Sep 24, 2019 09:21 PM IST | Updated on: Sep 24, 2019 09:21 PM IST
بچوں کے بدلتے مزاج کے مطابق کہانی اور بچوں کے ادب کی پیشکش کو بھی بدلنا ہوگا : پروفیسر ادریس صدیقی

بچوں کے بدلتے مزاج کے مطابق کہانی اور بچوں کے ادب کی پیشکش کو بھی بدلنا ہوگا : پروفیسر ادریس صدیقی

ماہنامہ گل بوٹے ممبئی سلور جبلی تقریبات کے شاندار آعاز  کے بعد چار روزہ عالمی سمینار کا آج سے آغاز ہو چکا ہے ۔ سمینار کا افتتاحی جلسہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقد ہوا ، جس میں کناڈا سے آئے بچوں کے مشہور ادیب پروفیسر ادریس صدیقی نے کلیدی خطبہ پیش کیا ۔  انہوں نے بچوں کی کہانیوں کی چھ ہزار سالہ تاریخ کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی کہانیاں یا ادب ہر دور میں موجود رہا ہے ، اس کی شکل اور پیش کش بدلتی رہی ہے ، ہندوستان میں بھی ماں کی گود سے ہی بچوں کو کہانیاں سنائے جانے کی روایت رہی ہے ۔ انہوں نے کناڈا کے تعلیمی اداروں اور کتب خانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بچوں میں ادبی دلچسپی پیدا کرنے کے لیے تمام طرح کی کتابیں موجود ہیں اور پبلک لائبریری میں سب سے بڑا گوشہ بچوں کے ادب کا ہوتا ہے ۔ وہاں کتابوں کے ساتھ ساتھ آڈیو بکس ، سنگ الاؤنگ بکس ، فیل اینڈ ٹچ بکس بھی دستیاب ہوتی ہیں ۔

پروفیسر صدیقی نے سمینار کی سمت کا تعین کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بھی بچوں کے بدلتے مزاج کے مطابق کہانی اور بچوں کے ادب کی پیشکش کو بدلنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ جو بچے انٹرنیٹ کی وجہ سے کہانیوں سے دور ہوگئے ہیں ، انہیں ادب کی طرف واپس لانے کے لیے جدید وسائل کا استعمال کرنا ہوگا ۔ پروفیسر صدیقی نے ہندوستان کے طریقہ تعلیم کو فرسودہ قرار دیتے ہوئے اس میں بنیادی تبدیلی لانے پر زور دیا ۔

Loading...

urdu lit 2

سمینار میں اردو اکیڈمی دہلی کے وائس چیئرمین پروفیسر شہپر رسول نے پروفیسر صدیقی کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ چار ہزار سال پہلے سے کہانیاں رائج ہیں ، تو ان کی اہمیت آج بھی برقرار ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بڑوں کے لیے لکھنے والے بچوں پر بھی توجہ دیں ۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے افتتاحی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گل بوٹے جیسے ادارے کی خدمات قابل ستائش ہیں ۔ انہوں نے گل بوٹے کے ایڈیٹر فاروق سید کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے پروفیسروں کو ایوارڈ دینے کی بجائے ان جیسے اردو کے خادموں کو ایوارڈ ملنا چاہیے ۔ انہوں نے اردو کی بنیادی تعلیم کو اسکولوں میں پھر سے شروع کرانے کے لیے کونسل کی کوششوں کا ذکر کیا ۔

اس موقع پر پروفیسر شہزاد انجم نے کہا کہ وہ ادارہ گل بوٹے کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اپنی سلور جبلی تقریبات کے لیے جامعہ ملیہ کا انتخاب کیا ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیوں نے ہمیشہ بچوں کے ادب کو اہمیت دی ، جس کا اثر جامعہ کے تعلیمی نظام میں آج بھی دیکھا جاسکتا ہے ۔ آج کے افتتاحی جلسے میں پروفیسر عتیق اللہ بچوں کے ادیب غلام حیدر، پروفیسر خالد محمود، پروفیسر وہاج الدین علوی، پروفیسر محمد اختر صدیقی اور قاضی مشتاق احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ پروگرام کے دوران مہاراشٹر سے آئے شاعر عرفان شاہ نوری کے شعری مجموعے حاشیے میں نیکیاں کا رسم اجرا بھی ہوا ۔ افتتاحی جلسے کی نظامت ڈاکٹر ندیم احمد نے کی ۔

Loading...