உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ساون پر بھوپال میں ہوا تہذ یبوں کا سنگم، عارف مسعود نے بھوپال کو مشترکہ تہذیب کی شان قرار دیا

    ساون پر بھوپال میں ہوا تہذ یبوں کا سنگم، عارف مسعود نے بھوپال کو مشترکہ تہذیب کی شان قرار دیا

    بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود کہتے ہیں کہ مشترکہ تہذیب بھوپال کی شان ہے۔ کچھ لوگ اپنی نفرت کی آگ سے اس مشترکہ تہذیب کو داغدار کرنا چاہتے تھے، مگر ایسے لوگوں کے بیچ ہم محبت کے آبشار سے نہ صرف نفرت کی آگ کو بجھا رہے ہیں بلکہ مشترکہ تہذیب کو مضبوط کرنے کا کام کررہے ہیں۔

    • Share this:
    بھوپال کو نوابوں کی نگری جھیلوں اور تالابوں کے شہر کے نام سے تو سبھی جانتے ہیں، لیکن بھوپال تہذیبوں کی بھی نگری ہے۔ نوابین بھوپال کے عہد میں ریاست کے نواب تو مسلمان ہوتے تھے، مگر وہ اپنا وزیراعظم ہندو بھائی کو ہی بناتے تھے۔ یہی نہیں بھوپال میں تمام تیج تیوار کو مل کر منانے کی جو روایت صدیوں پہلے قائم ہوئی تھی، اسے یہاں کے لوگ اب بھی بڑھانے کا کام کر رہے ہیں۔ ساون کا سوموار ہندو عقیدتمندوں کے لئے بڑا مقدس ہوتا ہے۔ بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود نے ساون کے پہلے سوموار کو بھوپال میں ہندو عقیدتمندوں کے لئے نہ صرف بھجن کا خصوصی انتظام کیا بلکہ انہیں ساون کے پہلے سوموار کے مقدس موقع پر انہیں بھجن اور کیرتن کے لئے ڈھول و منجیرا تحفہ میں پیش کیا۔
    بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود کہتے ہیں کہ مشترکہ تہذیب بھوپال کی شان ہے۔ کچھ لوگ اپنی نفرت کی آگ سے اس مشترکہ تہذیب کو داغدار کرنا چاہتے تھے، مگر ایسے لوگوں کے بیچ ہم محبت کے آبشار سے نہ صرف نفرت کی آگ کو بجھا رہے ہیں بلکہ مشترکہ تہذیب کو مضبوط کرنے کا کام کررہے ہیں۔ ہم نے کورونا قہر میں بھجن منڈلیوں کی مشکلات کو قریب سے دیکھا ہے۔ ہم نے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب ان کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا اور حکومت نے مدد دینے کے بجائے اپنا منھ موڑ لیا تھا۔ ہم نے اس وقت بھی بلا لحاظ قوم و ملت سبھی کی مدد کی تھی اور راکھی کے موقع پربہنوں سے وعدہ کیا تھا کہ جتنی بھی بھجن منڈلی ہیں انہیں ساون پر اپنی جانب سے بھجن کیرتن کے لئے ڈھولک اور منجیرا اور دوسرے سازو سامان کا تحفہ دیں گے تو ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے اور کوشش یہی ہے کہ محبت کا امین شہر بھوپال ہمیشہ خوشحال رہے اور یہاں کے لوگ آپس میں مل جل کر رہیں۔

    بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود نے ساون کے پہلے سوموار کو بھوپال میں ہندو عقیدتمندوں کے لئے نہ صرف بھجن کا خصوصی انتظام کیا بلکہ انہیں ساون کے پہلے سوموار کے مقدس موقع پر انہیں بھجن اور کیرتن کے لئے ڈھول و منجیرا تحفہ میں پیش کیا۔
    بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود نے ساون کے پہلے سوموار کو بھوپال میں ہندو عقیدتمندوں کے لئے نہ صرف بھجن کا خصوصی انتظام کیا بلکہ انہیں ساون کے پہلے سوموار کے مقدس موقع پر انہیں بھجن اور کیرتن کے لئے ڈھول و منجیرا تحفہ میں پیش کیا۔


    ساون کے موقعہ پر ڈھولک اور منجیرا کا تحفہ پانے والی ساویتا دیوی کہتی ہیں کہ ہمارے لوگوں نے ہماری جانب اس محبت سے نہیں دیکھا، جیسا عارف مسعود نے کر کے دکھایا ہے۔ ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ خدا سبھی کو ایسا بیٹا دے، جو سبھی کی خوشیوں کا خیال رکھے۔ اس بار کا ساون پربھو نے ایسا انتظام کردیا کہ ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔
    وہیں وملا دیوی کہتی ہیں کہ یہ تو سیاست نے ہمارے اور آپ کے درمیان فرق پیدا کردیا ہے ورنہ بھوپال میں جب تک نام نہیں بتایا جائے، کوئی بتا نہیں سکتا تھا کہ کون ہندو ہے اور کون مسلمان۔ عید، بقرعیدکی خوشیاں ہوں یا محرم کا امام حسین کا ماتم، سبھی مل کر مناتے تھے اور اسی طرح سے ہولی اور دیوالی پر مسلمان بھائی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ بھائی عارف مسعود نے پھر اس پرمپرا (روایت) کو زندہ کیا ہے۔ بس ایشور (خدا) سے یہی پرارتھنا (دعا) ہے کہ ان کی محبت کی مشعل کو کسی کی نظر نہ لگے اور یہ محبتوں کا کارواں یوں ہی آگے بڑھتا رہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: