உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کانگریس کا مودی حکومت پربڑا الزام، حکومت نے دھوکے سے پاس کرایا طلاق ثلاثہ بل

    راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈرغلام نبی آزاد نےالزام لگایا ہےکہ حکومت نےدھوکے سےتین طلاق بل پاس کرایا۔

    راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈرغلام نبی آزاد نےالزام لگایا ہےکہ حکومت نےدھوکے سےتین طلاق بل پاس کرایا۔

    طلاق ثلاثہ بل پاس ہوجانے کے بعد ایک طرف جہاں بی جے پی میں جشن کا ماحول ہے وہیں اپوزیشن نے اسے چھل اوردھوکہ بتایا ہے۔

    • Share this:
      تین طلاق بل منگل کو راجیہ سبھا میں پاس ہوگیا۔ اس بل کو راجیہ سبھا میں پاس کرانے کے پیچھے حکومت کی موثر حکمت عملی اوربہترین فلورمینجمنٹ بتایا گیا ہے۔ تین طلاق بل پاس ہوجانے کے بعد ایک طرف جہاں بی جے پی میں جشن کا ماحول ہے وہیں اپوزیشن جماعتوں نےاسے چال اوردھوکہ بتایا ہے۔

      راجیہ سبھا میں لیڈراپوزیشن غلام نبی آزاد، ترنمول کانگریس ڈیریک اوبرائن اورکانگریس لیڈرآنند شرما نے اسے جمورہت کی شکست قراردیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہےکہ اقتدارمیں بیٹھی  حکومت جمہوریت کی پرواہ نہیں کرتی۔

      اپوزیشن لیڈرغلام نبی آزاد نے کہا 'حکومت نے ہم سے پوچھا تھا کہ آپ کون سے بل سلیکٹ کمیٹی کوبھیجنا چاہیں گے؟ انہوں نے ہمیں 23 بل کی فہرست دی تھی۔ ہم چاہتے تھے کہ ان میں سے کم ازکم نصف کو بھیجا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جتنا ہوسکے اتنا کم کرو، اس لئے اپوزیشن نے 6 بل کواے کلاس اور2 بل کو بی کلاس میں رکھا تھا'۔

      غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہم نے جن 6 بلوں کولےکراتفاق ظاہرکیا تھا اورجس بل کوسلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جانا تھا، اس میں تین طلاق بل بھی شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مسلم خواتین تحفظ حقوق پربل 2019 کوآج لانے والی تھی، جسےغلط طریقے سے کل ہی پیش کردیا گیا۔ آزاد نے کہا کہ اس بل کوپیش کرنے کی اطلاع ہمیں کافی تاخیرسے دی گئی، جس کی وجہ سےہم اپنےارکان کواس بل کی اطلاع بھی نہیں دے سکے۔ آزاد نےالزام لگایا کہ حکومت اپنی منمانی سے ہرادارے کوایک شعبے کی طرح ہی چلانا چاہتی ہے۔  




      کانگریس لیڈرآنند شرما نے بھی حکومت کے اس طرح سے لائے گئے بل پرانگلی اٹھائی ہے۔ کانگریس لیڈرنےکہا کہ ہمیں حکومت نے وہپ جاری کرنے کا بھی وقت نہیں دیا گیا، جس کے سبب ہمارے کئی اراکین پارلیمنٹ کارروائی سے باہر رہے۔ حکومت نے کہا تھا کہ وہ بل کو سلیکٹ کمیٹی کوبھیجے گی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

      دوسری طرف ترنمول کانگریس لیڈرڈیرک اوبرائن نے کہا 'پیردیرات ہم کو پتہ چلا کہ تین طلاق بل منگل کوراجیہ سبھا میں آرہا ہے۔ حکومت نے ہم کواس بل سے متعلق کوئی بھی اطلاع نہیں دی تھی اوریہی بات یواے پی اے بل کولے کربھی دکھائی دی۔ ہم دونوں بل کو دیکھنا چاہتے تھے'۔ ڈیرک اوبرائن نے کہا کہ حکومت اپنے دومعاونین کے بھروسے پارلیمنٹ کوچلا رہی ہے، ایک سی بی آئی اوردوسرا انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کےبھروسے۔

      راجیہ سبھا میں کیسے پاس ہوا تین طلاق بل؟

      لوک سبھا میں تین طلاق بل پاس ہونے کے بعد منگل کو راجیہ سبھا میں بھی اس بل کوہری جھنڈی مل گئی۔ اس بل کے پاس ہونے کے ساتھ ہی اب کسی بھی طریقے سے طلاق دینا جرم کے زمرے میں آجائے گا۔ بل میں تین سال کی سزا اورجرمانے کی بھی تجویزہے۔ راجیہ سبھا میں اس بل کے حق میں 99 ووٹ پڑے وہیں اس بل کی مخالفت میں 84 ووٹ پڑے۔ ووٹنگ کے وقت 183 اراکین ہی ایوان میں موجود تھے۔ بحث کے بعد بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنےکی تجویزپرووٹنگ کرائی گئی۔ اس سے قبل بل کوراجیہ سبھا کی سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنے کی تجویز84 کے مقابلے 100 ووٹوں سے خارج ہوگئی تھی۔
      First published: