உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کانگریس سے 2 سال کے لئے معطل ہوں گے سنیل جھاکھڑ، تادیبی کمیٹی نے کی سفارش

    کانگریس سے 2 سال کے لئے معطل ہوں گے سنیل جھاکھڑ

    کانگریس سے 2 سال کے لئے معطل ہوں گے سنیل جھاکھڑ

    Punjab Congress: سنیل جاکھڑ نے سابق وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی کی تنقید کی تھی اور پنجاب میں عام آدمی پارٹی سے کانگریس کی شکست کے بعد انہیں پارٹی کے لئے ایک بوجھ قرار دیا تھا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: پنجاب کانگریس کے سابق صدر سنیل جاکھڑ کو پارٹی سے دو سال کے لئے معطل کیا جاسکتا ہے۔ کانگریس کی اے کے انٹونی کی صدارت والی تادیبی کارروائی کمیٹی نے منگل کو انہیں تنظیم سے دو سال کے لئے معطل کرنے کی سفارش کی۔ تادیبی کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ کیرلا کے سینئر کانگریس لیڈر کے وی تھامس کو پارٹی کے سبھی عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔ سفارشات پر آخری فیصلہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کریں گی۔

      سنیل جاکھڑ کے خلاف کارروائی کی سفارش تب ہوئی، جب پنجاب کے اے آئی سی سی انچارج ہریش چودھری نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کو خط لکھ کر ان کے کچھ بیانات پر توجہ مرکوز کی تھی۔ سونیا گاندھی نے اس کے بعد خط کو تادیبی کارروائی کمیٹی کو بھیج دیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      عرفان پٹھان ایک ٹوئٹ کے بعد پھر سرخیوں میں، Social Media پر صارفین نے کر رہے ہیں تبصرہ

      سنیل جاکھڑ نے نہیں دیا جواب

      انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق، کانگریس تادیبی کمیٹی نے 11 اپریل کو سنیل جاکھڑ کو مبینہ پارٹی مخالف سرگرمیوں کے لئے وجہ بتاو نوٹس جاری کیا تھا اور ایک ہفتے کے اندر جواب داخل کرنے کو کہا تھا۔ حالانکہ سنیل جاکھڑ نے کمیٹی کو جواب نہیں دینے کا فیصلہ کیا۔ سنیل جاکھڑ نے ایک ٹوئٹ میں کہا، ’آج، سر قلم ہوں گے ان کے، جن میں ابھی ضمیر باقی ہے‘۔

      سنیل جاکھڑ نے کیا کہا تھا

      سنیل جاکھڑ نے سابق وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی کی تنقید کی تھی اور پنجاب میں عام آدمی پارٹی (عاپ) سے کانگریس کی شکست کے بعد انہیں پارٹی کے لئے ایک بوجھ قرار دیا تھا۔ سابق وزیر راجکمار ورکا سمیت کچھ پارٹی لیڈران نے سنیل جاکھڑ پر ایک ٹی وی چینل کو دیئے انٹرویو میں چرنجیت سنگھ چنی اور درج فہرست ذات کے خلاف قابل اعتراض کے خلاف قابل اعتراض زبان کا استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ان پر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: