ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سابق رکن پارلیمنٹ انو ٹنڈن سماج وادی پارٹی میں شامل، اکھلیش یادو نے کہا- جس کی زبان ٹھوک دو ہو، وہ ریاست کیا چلائیں گے

اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو (Akhilesh Yadav) نے کہا کہ ابھی تو ایئر پورٹ (Airport) فروخت ہوئے ہیں، ہوائی جہاز فروخت ہوئے ہیں۔ آگے کیا کیا فروخت ہوگا، کوئی نہیں جانتا۔

  • Share this:
سابق رکن پارلیمنٹ انو ٹنڈن سماج وادی پارٹی میں شامل، اکھلیش یادو نے کہا- جس کی زبان ٹھوک دو ہو، وہ ریاست کیا چلائیں گے
سابق رکن پارلیمنٹ انو ٹنڈن سماج وادی پارٹی میں شامل، اکھلیش یادو نے کہا- جس کی زبان ٹھوک دو ہو، وہ ریاست کیا چلائیں گے

لکھنؤ: کانگریس کی بنیادی ممبر شپ سے استعفیٰ دینے والی اناؤ سے کانگریس کی سابق رکن پارلیمان انو ٹنڈن سے پیر کو سماج وادی پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ انو  ٹنڈن اپنے سینکڑوں حامیوں کے ساتھ ایس پی سربراہ اکھلیش یادو کی موجودگی میں پارٹی کی رکنیت اختیار کی، جہاں اکھلیش یادو نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ اکھلیش یادو نےکہا کہ پارٹی میں انو ٹنڈن کی شمولیت حقیقی معنوں میں پارٹی کو مضبوطی فراہم کرے گی۔ خاص طور سے اناؤ حلقے میں جہاں پر انہوں نے غریبوں کے لئے خصوصی کام کئے ہیں۔

سابق رکن پارلیمنٹ انو ٹنڈن نے بھی کہا کہ سماجو ادی پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے وہ سخت محنت کریں گی۔ وہ پہلے ہی اناؤ کے بانگر مئو اسمبلی سیٹ پر ایس پی امیدوار کوووٹ کرنے کی اپیل کرچکی ہیں۔ بانگر مئو میں کل ووٹ ڈالے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش اکھلیش جی کو اگلا وزیر اعلی بنانے کی ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے دعوی کیا کہ انہوں نے کانگریس چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ اب مزید آگے بڑھتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ سابق رکن پارلیمنٹ انو ٹنڈن نے کہا کہ سال 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں ہی کانگریس نے انہیں نظرانداز کرنا شروع کردیا تھا اور یہ ایک خاص وجہ ہے جس کی وجہ سے انہوں نے کانگریس کو خیرآباد کہہ کر سماج وادی پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے۔




اکھلیش یادو نے یوگی حکومت پر کی سخت تنقید

اس موقع پر اکھلیش یادو نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جس کی زبان ٹھوک دو ہو، وہ کیسے ریاست چلائے گا۔ یہ کوئی بھی سمجھ سکتا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ صحت کے میدان میں بہت کام کرنا ہے، آج لوگوں کو علاج نہیں مل پا رہا ہے۔ کچھ لوگ ہیں، جو چٹکیوں میں لاک ڈاون کرسکتے ہیں، اگر ایسا ہوا تو پھر روزگار کا جے ہوگا۔

نیوزایجنسی یو این آئی اردو کے اِن پُٹ کے ساتھ۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Nov 02, 2020 10:23 PM IST