ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

راجستھان کے سیاسی بحران پر اجے ماکن نےکہا- لوگوں کا الیکشن سے اٹھ جائےگا بھروسہ، شیخاوت دیں استعفیٰ

کانگریس کے سینر لیڈر اجے ماکن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ممبران اسمبلی کی وفاداری خریدنے اور جمہوریت کو داغدار کرنے کی غلط حرکت ایک سیاسی بدنماں داغ کے طور پر سازش رچنے والوں کی پیشانی پر لکھی صاف نظر آرہی ہے۔ راجستھان کے 8 کروڑ عوام اس سازش کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔

  • Share this:
راجستھان کے سیاسی بحران پر اجے ماکن نےکہا- لوگوں کا الیکشن سے اٹھ جائےگا بھروسہ، شیخاوت دیں استعفیٰ
راجستھان کے سیاسی بحران پر اجے ماکن نے شیکھاوت سے مانگا استعفیٰ، کہی یہ بڑی بات

جے پور: کانگریس لیڈر اجے ماکن نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر راجستھان حکومت کو گرانے کی سازش کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ریاست میں منتخب کردہ حکومت کو گرانے کی سازش کا چہرہ آئے دن بے نقاب ہورہا ہے۔ اجے ماکن نے آج پریس کانفرنس میں کہا کہ بھاجپائی سازش کی پرتیں روزبروز کھل رہی ہیں۔ ممبران اسمبلی کی وفاداری خریدنے اور جمہوریت کو داغدار کرنے کی غلط حرکت ایک سیاسی بدنماں داغ کے طور پر سازش رچنے والوں کی پیشانی پر لکھی صاف نظر آرہی ہے۔




کانگریس کے سینر لیڈر راجستھان کے 8 کروڑ عوام اس سازش کو کبھی معاف نہیں کریں گے، جس طرح سے کانگریس کے ممبران اسمبلی کو بی جے پی کی ہریانہ حکومت کی مہمان نوازی میں مانیسر، گڑگاوں کے ہوٹل وریسارٹ میں رکھا گیا، یہ اپنے آپ میں بھاجپائی ملی بھگت کو ثابت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں مرکزی وزیرگجیندر شیخاوت کو استعفیٰ دینا چاہئے یا انہیں برخاست کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب گجیندر سنگھ شیخاوت کے ذریعہ یہ کہا گیا کہ مبینہ آڈیو ٹیپ میں آواز ان کی نہیں، تو پھر وہ سامنے آکر اپنا وائس سیمپل دینے سے انکار کیوں کر رہے ہیں، ان کے خلاف معاملہ درج ہونے کے بعد انہیں عہدہ سے برخاست کیوں نہیں کیا جارہا ہے۔

کانگریس کا کہنا ہے کہ گجیندر سنگھ شیخاوت کے ذریعہ یہ کہا گیا کہ مبینہ آڈیو ٹیپ میں آواز ان کی نہیں، تو پھر وہ سامنے آکر اپنا وائس سیمپل دینے سے انکار کیوں کر رہے ہیں، ان کے خلاف معاملہ درج ہونے کے بعد انہیں عہدہ سے برخاست کیوں نہیں کیا جارہا ہے۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ گجیندر سنگھ شیخاوت کے ذریعہ یہ کہا گیا کہ مبینہ آڈیو ٹیپ میں آواز ان کی نہیں، تو پھر وہ سامنے آکر اپنا وائس سیمپل دینے سے انکار کیوں کر رہے ہیں، ان کے خلاف معاملہ درج ہونے کے بعد انہیں عہدہ سے برخاست کیوں نہیں کیا جارہا ہے۔


انہوں نے کہا کہ ہریانہ کی کھٹر حکومت کے ذریعہ راجستھان کانگریس ممبران اسمبلی کو غیر متوقع گھیرے میں رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ سازش کے اصل سردار بھاجپائی ہیں۔ گزشتہ 17 جولائی کو آئین اور قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بی جے پی کی ہریانہ حکومت نے پولیس لگا کر جس طریقہ سے’راجستھان اسپیشل آپریشن گروپ‘کو ایم ایل اے بھنور لال شرما اور وشویندر سنگھ کا وائس سیمپل لینے اور جانچ کرنے سے روکا۔یہ اپنے آپ میں اس ملی بھگت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ اب خبر آرہی ہے کہ کانگریس ارکان اسمبلی کو مسٹر امت شاہ کی زیرانتظام دہلی پولیس الگ الگ پانچ ستارہ ہوٹل میں دہلی میں رکھے ہیں اور راجستھان پولیس کی جانچ میں خلل ڈالتے ہوئے ان کی جگہ بار بار تبدیل کی جارہی ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 19, 2020 06:18 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading