உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جی-23 لیڈران کی طرف سے کپل سبل نے کہا- پارٹی کا کوئی صدر نہیں، پتہ نہیں کون لے رہا ہے فیصلے

    کپل سبل نے کہا- پارٹی کا کوئی صدر نہیں، پتہ نہیں کون لے رہا ہے فیصلے

    کپل سبل نے کہا- پارٹی کا کوئی صدر نہیں، پتہ نہیں کون لے رہا ہے فیصلے

    اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کپل سبل نے بدقسمتی سے کانگریس کے پاس کوئی صدر نہیں ہے، پتہ نیں کانگریس میں کون فیصلے لے رہا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: کانگریس میں اندرونی گھمسان تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ بدھ کو سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر اور کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے پریس کانفرنس کی۔ اپنی ناراضگی کو ظاہر کرتے ہوئے کپل سبل نے بدقسمتی سے کانگریس کے پاس کوئی صدر نہیں ہے، پتہ نہیں کانگریس میں کون فیصلے لے رہا ہے۔ لوگ پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں، اس پر سوچنے کی ضرورت ہے۔ اس دوران انہوں نے کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

      کپل سبل نے کہا، میں آپ سے (میڈیا) ان کانگریسیوں کی طرف سے بول رہا ہوں، جنہوں نے گزشتہ سال اگست میں خط لکھا تھا، خط لکھے جانے کے بعد بھی ہم سی ڈبلیو سی اور صدر عہدے کے انتخاب کے متعلق کی جانے والی کارروائی کا انتظار کر رہے ہیں۔

      کپل سبل نے کہا، ’انتظار کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ ہم کب تک انتظار کریں گے، ہم صرف ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچہ چاہتے ہیں۔ کچھ بات ہونی چاہئے۔ سی ڈبلیو سی میں کسی بھی موضوع پر بحث ہونی چاہئے۔ پنجاب کے حالات پر تبادلہ خیال ہونا چاہئے۔ ہم کسی کے خلاف نہیں ہے۔ ہم پارٹی کے ساتھ ہیں، لیکن سچائی یہ ہے کہ ہماری پارٹی کا کوئی منتخب صدر نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ پردیش کانگریس کمیٹی کو دہلی سے کنٹرول نہیں کیا جانا چاہئے۔



      ہم ’جی حضور 23‘ نہیں

      کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے کہا، ہم ’جی حضور 23‘ نہیں ہیں۔ یہ بالکل واضح ہے۔ ہم بات کرتے رہیں گے۔ ہم اپنے مطالبات کو دوہرانا جاری رکھیں گے۔

      پارٹی چھوڑ کر گئے لیڈروں سے واپس آنے کا مطالبہ

      ایک سرحدی صوبہ (پنجاب) جہان کانگریس پارٹی کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟ اس سے آئی ایس آئی اور پاکستان کو فائدہ ہے۔ کانگریس کو یقینی بنانا چاہئے کہ وہ متحد رہیں۔ اگر کسی کو پریشانی ہے تو وہ پارٹی کے سینئر لیڈر سے تبادلہ خیال کریں۔ انہوں نے کہا کہ جو کانگریس کے لوگ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں وہ واپس آجائے کیونکہ کانگریس ہی ایسا نظریہ ہے، جو اس ملک کی بنیاد ہے، جس کے بنیاد پر ہماری ریپبلک بنی تھی، اس کو برقرار رکھ سکتی ہے۔ کپل سبل نے کہا، ‘لوگ ہمیں چھوڑ رہے ہیں، سشمتا جی چلی گئیں۔ فیلیوریو چلے گئے، سندھیا چلے گئے۔ جتن پرساد چلے گئے۔ کیرلا میں سدھیرن چلے گئے۔ اب سوال یہ ہے کہ لوگ کیوں جا رہے ہیں؟ ایک منطقی جواب ہونا چاہئے‘۔ اس دوران کپل سبل نے کہا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کو تبادلہ خیال کرنا چاہئے۔

       

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: