ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نئی پارلیمنٹ عمارت پروجیکٹ فضول خرچی اور بے وقت کا کام : سید نصیر حسین

سید نصیر حسین نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی اس دلیل کا لاجک ان کو سمجھ میں نہیں آتا کہ اس پروجیکٹ کے ممبران پارلیمنٹ کے لئے الگ دفتر اور کمرے بنائے جاہیں گے جہاں پر وہ اپنے علاقوں حلقوں کے عوام سے مل سکیں گے کیونکہ موجودہ وقت میں بھی تمام بھون اور اراکین پارلمنٹ کی رہائش گاہیں عوام اور علاقہ کے لوگوں سے ملنے کے لئے استعمال ہوتی ہیں ۔

  • Share this:
نئی پارلیمنٹ عمارت پروجیکٹ فضول خرچی اور بے وقت کا کام : سید نصیر حسین
نئی پارلیمنٹ عمارت پروجیکٹ فضول خرچی اور بے وقت کا کام : سید نصیر حسین

وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کے تحت بننے والی پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا ۔ تاہم کورو نا وبا اور اقتصادی مشکلات کے درمیان مرکزی حکومت کے 971 کروڑ کے بھاری بھرکم پروجیکٹ پر کانگریس ترجمان اور رکن پارلیمنٹ سید نصیر حسین نے شدید تنقید کی ہے ۔ نصیر حسین نے پارلیمنٹ کی نئی عمارت اور پورے پروجیکٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ وقت میں یہ فضول خرچی ہے اور بے وقت کا کام ہے۔ انھو ں نے کہا کہ ہم نئی عمارت بنانے کے خلاف نہیں ہیں ۔ تاہم موجودہ وقت میں جب پورا ملک کورونا کی وبا اور اقتصادی بدحالی کا سامنا کررہا ہے تو اس پروجیکٹ کی ابھی ضرورت نہیں تھی ۔


انھوں نے کہا کہ اس پروجیکٹ کو کچھ سالوں کے بعد جب ملک کی اقتصادی حالت بہتر ہوجاتی تو شروع کیا جاسکتا تھا ۔ تاہم موجودہ حکومت ہماری وراثت اور ان تمام چیزوں کو بدل دینا چاہتی ہے یا پھر ان سے پیچھا چھڑانا چاہتی ہے جن کو کانگریس، مغل یا انگریزوں نے بنایا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ابھی اس بات کی سخت ضرورت تھی کہ جو مزدور اپنے روزگار سے محروم ہوگئے ہیں یا غریب اوربے روزگار ہیں ، کسان ہیں ، ضرورت مند ہیں ، ان کی مدد کی جاتی اور ا ن کو راحت پہنچائی جاتی۔


سید نصیر حسین نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی اس دلیل کا لاجک ان کو سمجھ میں نہیں آتا کہ اس پروجیکٹ کے ممبران پارلیمنٹ کے لئے الگ دفتر اور کمرے بنائے جاہیں گے جہاں پر وہ اپنے علاقوں حلقوں کے عوام سے مل سکیں گے کیونکہ موجودہ وقت میں بھی تمام بھون اور اراکین پارلمنٹ کی رہائش گاہیں عوام اور علاقہ کے لوگوں سے ملنے کے لئے استعمال ہوتی ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ سیکورٹی کا بھی مسئلہ ہے ۔


غور طلب ہے کہ سپریم کورٹ میں بھی اس پروجیکٹ کے معاملہ میں عرضیاں داخل کی گئی ہیں ، جن پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے تعمیراتی کام شروع کرنے پر روک لگادی ہے ، لیکن سنگ بنیاد شیلانیاش پر روک نہیں لگائی تھی ۔ اب پروجیکٹ کا کام سپریم کورٹ سے ہری جھنڈی ملنے کے بعد ہی شروع ہوسکے گا۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 10, 2020 11:38 PM IST