உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سونیا گاندھی کے ساتھ کانگریس لیڈروں کی میٹنگ شروع، ناراض چل رہے لیڈر بھی شامل

    سونیا گاندھی کے ساتھ کانگریس لیڈروں کی میٹنگ شروع، ناراض چل رہے لیڈر بھی شامل۔ فائل فوٹو

    سونیا گاندھی کے ساتھ کانگریس لیڈروں کی میٹنگ شروع، ناراض چل رہے لیڈر بھی شامل۔ فائل فوٹو

    سونیا گاندھی (Sonia Gandhi) کے ساتھ ان لیڈروں کی ملاقات کرانے کا خاکہ تیار کرنے میں مدھیہ پردیش (Madhya Pradesh) کے سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ (Kamal Nath) کا اہم کردار ہے۔ کمل ناتھ نے کچھ دنوں پہلے بھی سونیا گاندھی سے ملاقات کی تھی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: کانگریس (Congress) صدر سونیا گاندھی (Sonia Gandhi) کے ساتھ ہفتہ کو پارٹی کے سینئر لیڈروں کی اہم میٹنگ چل رہی ہے، جس میں کئی ایسے لیڈر شامل ہیں، جنہوں نے سرگرم قیادت اور جامع تنظیمی تبدیلی کے مطالبے کو لے کر خط لکھا تھا۔ پارٹی کے سینئر لیڈروں اے کے انٹونی، امبیکا سونی، اشوک گہلوت، پی چدمبرم، کمل ناتھ اور ہریش راوت کی موجودگی میں خط لکھنے والے لیڈروں کی سونیا گاندھی سے ملاقات ہو رہی ہے۔

      سونیا گاندھی کی رہائش گاہ 10 جن پتھ پر چل رہی اس میٹنگ میں غلام نبی آزاد، آنند شرما، منیش تیواری، ششی تھرور اور کئی دیگر لیڈر شامل ہیں۔ یہ لیڈران خط لکھنے والے 23 لیڈروں میں شامل تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ سونیا گاندھی کے ساتھ ان لیڈروں کی ملاقات کرانے کا خاکہ تیار کرنے میں مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ کا  اہم کردار ہے۔ کمل ناتھ نے کچھ دنوں پہلے بھی سونیا گاندھی سے ملاقات کی تھی۔



      ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان لیڈروں کی سونیا گاندھی سے ملاقات کے بعد مصالحت کی گنجائش بڑھ سکتی ہے۔ اس میٹنگ سے ایک دن پہلے جمعہ کو پارٹی کے چیف ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہا کہ کانگریس کے 99.99 فیصدی لیڈروں اور کارکنان کا جذبہ ہے کہ راہل گاندھی ایک بار پھر سے پارٹی کی قیادت کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سونیا گاندھی کے ساتھ پارٹی کے سینئر لیڈروں کی میٹنگ کے دوران تنظیمی سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال ہوگا۔

      23 لیڈروں نے سونیا گاندھی کو لکھا تھا خط

      قابل ذکر ہے کہ اسی سال اگست کے مہینے میں غلام نبی آزاد، آنند شرما اور کپل سبل سمیت کانگریس کے 23 لیڈروں نے سونیا گاندھی کو خط لکھ کر پارٹی کے لئے سرگرم صدر ہونے اور بڑے پیمانے پر تنظیمی تبدیفلی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اسے کانگریس کے کئی لیڈروں نے پارٹی قیادت اور خاص طور پر گاندھی فیملی کو چیلنج دیئے جانے کے طور پر لیا۔ کئی لیڈرں نے غلام نبی آزاد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

       

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: