உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پنجاب میں کابینہ کی توسیع پر وزیر اعلیٰ چنی اور سدھو کے درمیان اختلاف! وزرا کی فہرست پر دہلی میں غوروخوض جاری

    پنجاب میں کابینہ کی توسیع پر وزیر اعلیٰ چنی اور سدھو کے درمیان اختلاف!

    پنجاب میں کابینہ کی توسیع پر وزیر اعلیٰ چنی اور سدھو کے درمیان اختلاف!

    Punjab Cabinet Expansion: ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ نئے ریاستی کابینہ کے سلیکشن پر وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی (Charanjit Singh Channi) اور پی سی سی سی صدر نوجوت سنگھ سدھو (Navjot Singh Sidhu) کے درمیان اختلافات ہیں، جس کے سبب کابینہ کی توسیع میں تاخیر ہو رہی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      چندی گڑھ: پنجاب میں کانگریس (Punjab Congress) کا بحران ابھی ختم ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ کانگریس ہائی کمان نے چرنجیت سنگھ چنی (Charanjit Singh Channi) کی وزیراعلیٰ عہدے پر تاجپوشی تو کردی، لیکن ابھی نئی کابینہ کو طے کرنے کے لئے راہل گاندھی (Rahul Gandhi) سمیت کانگریس کے کئی تھنک ٹینک ہاتھ پاوں مار رہے ہیں۔ گزشتہ جمعہ کو بھی راہل گاندھی کی رہائش گاہ پر کابینہ کو فائنل کرنے کے لئے رات 2 بجے سے صبح 4 بجے تک میٹنگ چلی اور کابینہ کی اس فہرست پر غوروخوض کیا گیا، جسے ہائی کمان نے گزشتہ جمعہ کو تیار کرلیا تھا۔

      انڈین ایکسپریس نے ذرائع کے حوالے سے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ نئے ریاستی کابینہ کے انتخاب پر وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی اور پی پی سی سی چیف نوجوت سنگھ سدھو کے درمیان اختلاف ہیں، جس کے سبب کابینہ کی توسیع میں تاخیر ہو رہی ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں وزیر اعلیٰ کا دہلی کا یہ تیسرا دورہ ہے۔ انہیں گزشتہ جمعہ صبح ہی انہیں دہلی دوبارہ بلایا گیا تھا۔ اس میں اہم بات یہ ہے کہ پارٹی اعلیٰ کمان نے تین میں سے دو میٹنگ کے لئے نوجوت سنگھ کو نہیں بلایا تھا۔

      نوجوت سنگھ سدھو اور چرنجیت سنگھ چنی کئی اراکین اسمبلی کو کابینہ میں شامل کرنے پر متفق نہیں تھے۔ راجا وڑنگ، پرگٹ سنگھ اور کلجیت ناگرا کو شامل کرنے پر دونوں کے درمیان اختلاف سامنے آئے ہیں۔
      نوجوت سنگھ سدھو اور چرنجیت سنگھ چنی کئی اراکین اسمبلی کو کابینہ میں شامل کرنے پر متفق نہیں تھے۔ راجا وڑنگ، پرگٹ سنگھ اور کلجیت ناگرا کو شامل کرنے پر دونوں کے درمیان اختلاف سامنے آئے ہیں۔


      ذرائع نے بتایا کہ نوجوت سنگھ سدھو اور چرنجیت سنگھ چنی کئی اراکین اسمبلی کو کابینہ میں شامل کرنے پر متفق نہیں تھے۔ راجا وڑنگ، پرگٹ سنگھ اور کلجیت ناگرا کو شامل کرنے پر دونوں کے درمیان اختلاف سامنے آئے ہیں۔ جبکہ نوجوت سنگھ سدھو تینوں کی پُرزور حمایت کر رہے ہیں۔ چرنجیت سنگھ چنی کا ماننا ہے کہ تنظیم کے لوگوں کو پارٹی پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے کیونکہ الیکشن قریب ہے۔ پرگٹ سنگھ پی پی سی سی جنرل سکریٹری ہیں اور کلجیت سنگھ ناگرا کارگزار صدر ہیں۔

      ساتھ ہی نوجوت سنگھ سدھو، راجا وڑنگ کی حمایت کر رہے ہیں، لیکن سابق وزیر مالیات منپریت سنگھ بادل ان کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ منپریت سنگھ بادل نے چرنجیت سنگھ چنی کے وزیر اعلیٰ بننے میں بھی اہم رول ادا کیا تھا۔ چرنجیت سنگھ چنی کو جمعرات کو دہلی بلایا گیا تھا اور انہوں نے سینئر لیڈر کے سی وینو گوپال، انچارج جنرل سکریٹری ہریش راوت، ہریش چودھری اور اجے ماکن اور آخر میں راہل گاندھی کے ساتھ دو دور کی میٹنگ کی تھیں۔ راہل گاندھی کی سابق پی سی سی چیف سنیل جھاکھڑ سے تقریباً 45 منٹ تک ملاقات کے بعد جمعہ کو انہیں پھر سے میٹنگ کے لئے بلایا گیا تھا۔

      پارٹی سنیل جھاکھڑ کو کابینہ میں ایک رول قبول کرنے کے لئے متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن وہ انکار کر رہے ہیں۔
      پارٹی سنیل جھاکھڑ کو کابینہ میں ایک رول قبول کرنے کے لئے متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن وہ انکار کر رہے ہیں۔


      بتایا جا رہا ہے کہ سنیل جھاکھڑ کا بھی کچھ اراکین اسمبلی کو وزیر بنائے جانے کا خیال تھا۔ پارٹی سنیل جھاکھڑ کو کابینہ میں ایک رول قبول کرنے کے لئے متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن وہ انکار کر رہے ہیں۔ میٹنگ کی جانکاری رکھنے والے ذرائع نے بتایا کہ سنیل جھاکھڑ نے راہل گاندھی سے کہا ہے کہ وہ حکومت میں کوئی عہدہ نہیں چاہتے ہیں۔

      اس ہلچل سے پہلے پنجاب میں کانگریس کابینی وزرا کی فہرست کا انتظار کر رہی تھی کیونکہ وزیر اعلیٰ نے اپنے اتحادیوں کو بتایا تھا کہ فہرست کو حتمی شکل دیا گیا ہے، اسے حتمی طور پر اے آئی سی سی سربراہ سونیا گاندھی کے سامنے رکھا جانا تھا۔ جبکہ پارٹی امریندر سنگھ کے کابینہ کے بیشتر وزرا کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، اسے صرف کچھ نئے وزرا کو شامل کرنا ہے۔ لیکن کچھ پر ہی حتمی فیصلہ نہیں ہو پا رہا ہے۔۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: