ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

کانگریس رکن اسمبلی عرفان انصاری نے غیرملکی تبلیغی جماعت کے خلاف مقدمات واپس لینے کا کیا مطالبہ، وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو لکھا خط

جھارکھنڈ کانگریس کے نائب صدر اور رکن اسمبلی ڈاکٹر عرفان انصاری نے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے ریاست میں پھنسے غیرملکی تبلیغی جماعت کے لوگوں کے خلاف درج مقدمات کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • Share this:
کانگریس رکن اسمبلی عرفان انصاری  نے غیرملکی تبلیغی جماعت کے خلاف مقدمات واپس لینے کا کیا مطالبہ، وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو لکھا خط
کانگریس نے غیرملکی تبلیغی جماعت کے خلاف مقدمات واپس لینے کا کیا مطالبہ

رانچی: جھارکھنڈ کانگریس کے نائب صدر اور رکن اسمبلی ڈاکٹر عرفان انصاری نے ریاست میں پھنسے غیر ملکی تبلیغی جماعت کے لوگوں کے خلاف درج مقدمات کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ رانچی کے کڈرو واقع جامعہ نگر میں قیام پذیر غیر ملکی تبلیغی جماعت کے لوگوں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے تبلیغی جماعت کے تعلق سے بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لوگوں نے ایک سازش کے تحت کورونا وبا کو تبلیغی جماعت سے جوڑ دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ رانچی کے ہٹوار نامی مقام پر واقع برسہ منڈا سینٹرل جیل میں سزا کاٹنے کے دوران غیر ملکی تبلیغی جماعت کے لوگوں کو زدو کوب کیا گیا۔


ڈاکٹر عرفان انصاری نے مزید الزام لگایا کہ کورونا وبا کو ایک مذہب کے لوگوں سے جوڑ کر انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے اس تعلق سے غلط پروپیگنڈہ کرنے والے لیڈروں اور افسران کے خلاف قانونی کارروائی کرنےکا بھی مطالبہ کیا۔ ڈاکٹر عرفان انصاری نے واضح کیا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو خط لکھ کر ریاست میں پھنسے غیرملکی تبلیغی جماعت کے لوگوں کے خلاف درج مقدمات کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔


ڈاکٹر عرفان انصاری نے کہا کہ بی جے پی کے لوگوں نے ایک سازش کے تحت کورونا وبا کو تبلیغی جماعت سے جوڑ دیا۔
ڈاکٹر عرفان انصاری نے کہا کہ بی جے پی کے لوگوں نے ایک سازش کے تحت کورونا وبا کو تبلیغی جماعت سے جوڑ دیا۔


کیا تھا معاملہ

واضح رہےکہ تبلیغی جماعت میں شامل 22 سالہ ملیشیائی خاتون 31 مارچ کو کورونا پازیٹیو پائی گئی تھیں۔ پوری ریاست میں کورونا مثبت کا یہ پہلا معاملہ تھا۔ یہ خاتون رانچی کے ہند پیڑھی علاقہ میں واقع مختلف مساجد میں قیام پذیر تبلیغی جماعت کے لوگوں کے ساتھ آئی تھی۔ 30 مارچ کو تبلیغی جماعت سے منسلک 17  غیر ملکی افراد کو گرفتارکرکے سینٹرل جیل بھیج دیا گیا تھا۔ ان میں ملیشیا کے 8 انگلینڈ کے 3، بنگلہ دیش، گامبیا، ترینیداد اینڈ ٹوبیگو آئی لینڈ کے دو - دو افراد شامل تھے۔ ان 17 لوگوں کے خلاف ہندپیڑھی تھانہ میں 7 اپریل کو ویزا ایکٹ، اپیڈیمک ڈیزیز ایکٹ، دی فارن ایکٹ اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔  کورونا پازیٹیو ملیشیائی خاتون علاج کے بعد ٹھیک ہو چکی ہے۔

رانچی کے سینٹرل جیل میں سزا کاٹ رہے ان 17 غیر ملکی تبلیغی جماعت کے لوگوں کو 15 جولائی کو جھارکھنڈ ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی تھی۔
رانچی کے سینٹرل جیل میں سزا کاٹ رہے ان 17 غیر ملکی تبلیغی جماعت کے لوگوں کو 15 جولائی کو جھارکھنڈ ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی تھی۔


جھارکھنڈ ہائی کورٹ سے ملی تھی راحت

رانچی کے سینٹرل جیل میں سزا کاٹ رہے ان 17 غیر ملکی تبلیغی جماعت کے لوگوں کو 15 جولائی کو جھارکھنڈ ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی تھی۔ ہائی کورٹ کے ذریعہ ان تمام لوگوں کو 10-10 ہزار کے نجی مچلکوں پر ضمانت دی گئی تھی۔ اس سے قبل 12 مئی کو نچلی عدالت کے ذریعہ تمام لوگوں کی ضمانت کی عرضی خارج کر دی گئی تھی۔

21 جولائی کو جیل سے ہوئے تھے رہا

جھارکھنڈ ہائی کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد 21 جولائی کو تبلیغی جماعت سے منسلک تمام 17 غیر ملکی باشندوں کو رانچی کے سینٹرل جیل سے رہا کر دیا گیا تھا۔ تب سے یہ سبھی افراد رانچی میں قیام پذیر ہیں۔ تبلیغی جماعت کے ذمہ داروں کے مطابق چونکہ ان کے خلاف درج مقدمات جب تک ختم نہیں ہو جاتے، تب تک انہیں ویزا کی فراہمی اور گھر واپسی کا امکان روشن نہیں ہو پائے گا۔ واضح رہے کہ ان 17 لوگوں کے علاوہ ایک درجن سے زائد غیر ملکی افراد جمشیدپور اور دھنباد کے جیلوں میں ابھی بھی قید ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 26, 2020 04:09 PM IST