ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش میں کانگریس سے نہیں سنبھل رہا ہے اپنا گھر، کئی اراکین اسمبلی جلد دیں گے استعفیٰ، وزیر داخلہ نروتم مشرا کا دعویٰ

شیوراج کابینہ میں 28 وزراء کی توسیع ہونے کے بعد کانگریس ممبران اسمبلی کی بغاوت اور بی جے پی سے دامن گیر ہونے کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا ہے۔ مزید دو اراکین اسمبلی نے کانگریس سے استعفیٰ دے کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش میں کانگریس سے نہیں سنبھل رہا ہے اپنا گھر، کئی اراکین اسمبلی جلد دیں گے استعفیٰ، وزیر داخلہ نروتم مشرا کا دعویٰ
مدھیہ پردیش میں کانگریس سے نہیں سنبھل رہا ہے اپنا گھر، کئی اراکین اسمبلی جلد دیں گے استعفیٰ، بی جے پی کا دعویٰ

بھوپال: اب اسے کانگریس کی بدقسمتی کہیں یا ممبران اسمبلی کا پارٹی سے ہوتا موہ بھنگ کی ایک ایک کرکے پارٹی کے ممبران اسمبلی کانگریس سے دور ہوتےجا رہے ہیں۔ فروری میں شروع ہوئی کانگریس ممبران اسمبلی کی بغاوت سے کمل ناتھ حکومت کا اقتدار سے دور ہونا پڑا تھا اور شیوراج حکومت اقتدار میں آنے میں کامیاب ہوگئی تھی اور یہ سمجھا جا رہا ہے تھا کہ سابقہ غلطیوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے کانگریس اپنے گھر کو بچانے میں کامیاب ہوگی اور اسمبلی میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں اپنی طاقت سے شاید اقتدار کی دہلیز تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائے، لیکن جس طرح سے کانگریس کے ممبران اسمبلی کی بغاوت جاری ہے، اسے دیکھتے ہوئے اب لگتا ہےکہ مدھیہ پردیش کے اقتدار میں کانگریس کی واپسی کی کسی جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے۔

واضح رہےکہ جیوترادتیہ سندھیا کے ساتھ پہلے کانگریس کی کمل ناتھ قیادت سے بغاوت کرکے ایک ساتھ 22 اراکین اسمبلی نے بی جے پی کا دامن تھام لیا تھا۔ اس سلسلے پر تین مہینے تو روک لگی رہی، لیکن جیسے شیوراج کابینہ میں 28 وزراء کی توسیع ہوئی، کانگریس ممبران اسمبلی کی بغاوت اور بی جے پی سے دامن گیر ہونے کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا ہے۔ ہفتے بھر قبل بڑا ملہرا سے کانگریس کے رکن اسمبلی پردیومن سنگھ لودھی نے دوپہر کو استعفیٰ دیا اور شام کو انہیں شیوراج سنگھ نے فوڈ اینڈ سول سپلائی کارپوریشن کا چیئرمین بناتے ہوئے بڑا تحفہ عنایت کردیا۔ ابھی کانگریس اس زخم کو بھولی بھی نہیں تھی کہ آج پھرکانگریس کے ایک ایم ایل اے نے اسمبلی کے  پروٹم اسپیکر رامشیور شرما کو اپنا استعفیٰ دے کر کانگریس کی گرتی ہوئی دیوار پر ایک اور ضرب لگا دی۔

نیپا نگر اسمبلی سے کانگریس کی ایم ایل اے سمترا دیو کاسڈیکر نے اسمبلی رکنیت سے اپنا استعفیٰ دے دیا ہے اور اسمبلی سکریٹریٹ نے اس کی تصدیق کردی ہے۔ سمترا یودی کہتی ہیں کہ جب پارٹی میں ممبران اسمبلی کو توجہ ہی نہیں دی جائے تو پھر رہنے کا فائدہ کیا ہے۔ کانگریس کے ٹکٹ سے اسمبلی کا الیکشن لڑا تھا اور بڑی اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی، لیکن مجھے ہی نہیں میرے اسمبلی حلقے کی عوام کو اب تک کانگریس قیادت سے مایوسی ہی ہاتھ لگی ہے۔


مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کا کہنا ہے کہ کئی اور ممبران اسمبلی رابطے میں ہیں جلد ہی وہ بھی اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔
مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کا کہنا ہے کہ کئی اور ممبران اسمبلی رابطے میں ہیں جلد ہی وہ بھی اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔


وہیں مدھیہ پردیش کانگریس کے سینئر لیڈر وسابق وزیر قانون پی سی شرما کہتے ہیں کہ ہم شروع سے کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی ممبران اسمبلی کو پیسوں کا لالچ دے کر خریدو فروخت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سازش پہلے بھی کی گئی تھی اور اب بھی بی جے پی اپنی اس سازش کو مسلسل انجام دے رہی ہے۔ مدھیہ پردیش کی عوام نے بی جے پی کے مکر و فریب اور بد عنوانی کے خلاف کانگریس کو اقتدار سونپا تھا۔ بی جے پی کے لوگوں نے جس میں مدھیہ پردیش سے دہلی تک کے لوگ شامل ہیں، انہوں نے سازش کے تحت اقتدار ضرور حاصل کر لیا ہے، لیکن صوبہ میں جب بھی اسمبلی کے ضمنی انتخابات ہوں گے عوام بی جے پی کے مکروفریب کا جواب دیں گے اور کانگریس ایک بار پھر کمل ناتھ کی قیادت میں مدھیہ پردیش میں اپنی حکومت بنائےگی۔

مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں کہ کاٹھ کی ہانڈی بار بار نہیں چڑھتی ہے۔ ایک بار صوبہ کی عوام  نےکانگریس کے چھل میں آکر انہیں اقتدار تک پہنچایا تھا، لیکن 15 مہینے کی حکومت میں سوائے بدعنوانی کے کوئی کام نہیں کیا گیا۔ ہم کسی کے پاس نہیں جا رہے ہیں، کانگریس کے لوگ خود بغاوت کرکے آرہے ہیں۔ ابھی یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔ نماڑ کے کئی اور ممبران اسمبلی رابطے میں ہیں جلد ہی وہ بھی اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔

کانگریس کے رکن اسمبلی عارف مسعود کہتے ہیں کہ اقتدار کا یہ غرور زیادہ دن رہنے والا نہیں ہے۔ کورونا کے قہر میں بی جے پی اپنی ذمہ داریوں کو بھول کر ہی صرف اپنوں کو نوازنے کا کام کررہی ہے۔
کانگریس کے رکن اسمبلی عارف مسعود کہتے ہیں کہ اقتدار کا یہ غرور زیادہ دن رہنے والا نہیں ہے۔ کورونا کے قہر میں بی جے پی اپنی ذمہ داریوں کو بھول کر ہی صرف اپنوں کو نوازنے کا کام کررہی ہے۔


بھوپال سے کانگریس کے رکن اسمبلی عارف مسعود کہتے ہیں کہ اقتدار کا یہ غرور زیادہ دن رہنے والا نہیں ہے۔ کورونا کے قہر میں بی جے پی اپنی ذمہ داریوں کو بھول کر ہی صرف اپنوں کو نوازنے کا کام کررہی ہے۔ عوام کی خدمت کانگریس نے پہلے بھی کی تھی اور اقتدارسے باہر رہنے کے بعد بھی کر رہی ہے اور جس دن انتخابات ہوں گے، سب پتہ چل جائے گا کہ سرکار کتنے پانی میں ہے۔ وہیں ایم پی بی جے پی اقلیتی مورچہ کے صدر اور مدھیہ پردیش اسٹیٹ حج کمیٹی کے سابق چیئرمین صنور پٹیل کہتے ہیں کہ الزام لگانا کانگریس کی عادت کا حصہ ہے۔ یہ کس منھ سے عوام کی عدالت میں جائیں گے۔ 15 ماہ میں ایسا کوئی کام کمل ناتھ حکومت نے کیا ہو تو بتا دیا جائے۔ شیوراج سنگھ حکومت جب سے آئی ہے صرف عوام کی راحت کے لئے ہمہ وقت کام کرنے میں مصروف ہے۔ اسمبلی کے ضمنی انتخابات کو لے کرکانگریس قیادت کو جو بھرم ہے، جب بھی انتخابات ہوں گے وہ بھرم بھی ختم ہوجائے گا۔
واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں 230 رکنی اسمبلی کے لئے اب 26  سیٹوں پر انتخابات  ہوں گے۔ اس میں دو سیٹیں وہ ہیں، جن کے ممبران اسمبلی کا انتقال ہونے کے سبب وہ خالی ہوئی ہیں اور 24 سیٹیں وہ ہیں، جو کانگریس کے ممبران اسمبلی کے ذریعہ بغاوت کرنے اور بی جے پی سے دامن گیر ہونے کے بعد خالی ہوئی ہیں۔ اسمبلی ضمنی انتخابات میں اپنی اپنی کامیابی کی دونوں ہی پارٹیاں دعوے کررہی ہیں اور اس کے لئے کورونا کے قہر میں ورچوئل ریلیوں کا انعقاد بھی جا رہی ہے۔ کورونا کے قہر میں ضمنی انتخابات کب ہوں گے اور اس میں اقتدار کس کے حصے میں رہتا ہے یہ دیکھنا ہوگا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 18, 2020 05:27 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading