உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بہار کانگریس کے اس بڑے لیڈر کی پیشین گوئی، یوپی اسمبلی انتخابات کے بعد گرجائے گی نتیش حکومت

    بہار کانگریس کے ایم ایل سی نے بہار کی نتیش حکومت سے متعلق کی یہ بڑی پیشین گوئی

    بہار کانگریس کے ایم ایل سی نے بہار کی نتیش حکومت سے متعلق کی یہ بڑی پیشین گوئی

    بہار کانگریس کے سینئر لیڈر اور ایم ایل سی پریم چندرا مشرا (Prem Chandra Mishra) نے بی جے پی کے کچھ لیڈروں کے ذریعہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار (Nitish Kumar) پر حال فی الحال میں کئے گئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے منگل کو یہ دعویٰ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی ’تعداد کے لحاظ سے زیادہ مضبوط صورتحال‘ میں ہونے کے باوجود ریاست میں اپنا وزیر اعلیٰ نہ ہونے کے سبب توہین محسوس کرتی ہے‘۔

    • Share this:
      پٹنہ: کانگریس نے دعویٰ کیا کہ بہار میں بی جے پی اور جے ڈی یو (BJP-JDU) کے درمیان اختلاف اس حالت میں پہنچ چکے ہیں، جس کا حل نکالنا مشکل ہے۔ پارٹی نے اترپردیش اسمبلی انتخابات (UP Assembly Election 2022) کے بعد بہار (Bihar) میں بڑی اتھل پتھل ہونے کی پیشین گوئی کی۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے میڈیا پینل میں شامل قانون ساز کونسل کے رکن (ایم ایل سی) پریم چندرا مشرا (Prem Chandra Mishra) نے بی جے پی کے کچھ لیڈروں کے ذریعہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار (Nitish Kumar) پرحال فی الحال میں کئے گئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے منگل کو یہ دعویٰ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی ’نمبر کے لحاظ سے زیادہ مضبوط صورتحال میں ہونے کے باوجود ریاست میں اپنا وزیر اعلیٰ نہ ہونے کے سبب توہین محسوس کرتی ہے‘۔

      پریم چندرا مشرا نے ساسارام سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کے متنازعہ تبصرہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چھیدی پاسوان کے تبصرہ پر غور فرمائیے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ میں اقتدار کی اتنی بھوک ہے کہ وہ داود ابراہیم سے بھی ہاتھ ملانے سے نہیں چوکیں گے۔ بتادیں کہ چھیدی پاسوان نے بہار بی جے پی کے صدر سنجے جیسوال اور جے ڈی یو کے درمیان تنازعہ کو لے کر صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں یہ تبصرہ کیا تھا۔

      سال 2014 کے لوک سبھا الیکشن سے عین پہلے بی جے پی میں شامل ہونے والے چھیدی پاسوان نے یہ بھی کہا تھا کہ اسمبلی انتخابات میں جے ڈی یو کی مایوس کن کارکردگی کے باوجود وزیر اعلیٰ کے طور پر واپسی کرنے میں نتیش کمار کی مدد کرکے ان کی پارٹی نے ’بھول‘ کی ہے۔ چھیدی پاسوان پہلے جے ڈی یو کے حصہ تھے۔ وہ نتیش کمار کی کابینہ میں وزیر بھی تھے۔ حالانکہ، لوک سبھا الیکشن میں ٹکٹ کے لئے ان کے نام پر غور نہ کئے جانے کی مخالفت میں انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

      ’برسراقتدار اتحاد میں کچھ بھی ٹھیک نہیں‘

      پریم چندر مشرا نے ایک فیس بک پوسٹ میں سنجے جیسوال کے ذریعہ لگائے گئے الزامات کا بھی ذکر کیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ریاست میں شہنواز حسین جیسے پارٹی کے وزیر ’پوری کابینہ سے تعاون‘ کی کمی میں اپنی صلاحیت کے مطابق کارکردگی نہیں کر پا رہے ہیں۔ ان کا اشارہ وزیر اعلیٰ اور جے ڈی یو کی طرف سے مانا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے خلاف مخالفت کی لہر اپوزیشن کے ذریعہ نہیں، بلکہ اقتدار میں بیٹھے ان کے معاونین کے ذریعہ ہے۔ یہ موقع پرستی اور اقتدار کو لے کر دونوں جماعتوں کی خواہش کا مظہر ہے۔ اس سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ برسراقتدار اتحاد میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: