உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لوک سبھا میں بحث: آلودگی جیسے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے قائمہ کمیٹی کے قیام کا مطالبہ

    لوک سبھا میں منیش تیواری بحث کے دوران۔(تصویر:لوک سبھا ٹی وی، پی ٹی آئی)۔

    لوک سبھا میں منیش تیواری بحث کے دوران۔(تصویر:لوک سبھا ٹی وی، پی ٹی آئی)۔

    لوک سبھا میں کانگریس لیڈر منیش تیواری نے منگل کو ضابطہ 193 کے تحت 'فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی' پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی جیسے مسائل ہمارے وجود کیلئے بحران بن گئے ہیں۔

    • Share this:
      لوک سبھا نے دہلی میں آلودگی کے مسئلہ اورعالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کو لے کر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بنی نوع انسان اور زمین کے وجود سے منسلک مسئلہ بتاتے ہوئے کہا کہ اس پر نظر رکھنے کے لئے پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی قائم کی جانی چاہئے اور اس کے کام کاج کا ہر سیشن میں جائزہ لیا جائے۔ لوک سبھا میں کانگریس لیڈر منیش تیواری نے منگل کو ضابطہ 193 کے تحت 'فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی' پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی جیسے مسائل ہمارے وجود کیلئے بحران بن گئے ہیں۔ یہ اقتدار یا حزب اختلاف یا کسی پارٹی یا ملک سے منسلک مسئلہ نہیں رہ گیا ہے بلکہ زمین کے وجود کا سوال بن گیا ہے اور ہمارے لئے صاف ہوا میں سانس لینا مشکل ہوگیا ہے لہذا اس کے لئے پارلیمنٹ کو پہل کرنی چاہیے اور قائمہ کمیٹی تشکیل دیکر اس معاملہ پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔

      منیش تیواری نے کہا کہ کمیٹی نے ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے یا آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لئے جو کام کیا ہے اس کاہر سیشن میں جائزہ لیاجائے۔ اس سے ہم اپنی آنے والی نسل کو زندگی کے لئے ضروری صاف ہوا اور پانی دے سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام مشکل نہیں ہے کیونکہ چین کے دارالحکومت بیجنگ 1998 میں دنیا کا سب سے زیادہ آلودہ شہر تھا لیکن اس نے اپنی فضائی معیار کو بہتر لایا ہے۔منیش تیواری نے کہا کہ دہلی دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں شامل ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے حال ہی میں 15 بڑے آلودہ شہروں کی فہرست جاری کی ہے جس میں ہندوستان کے دہلی، فرید آباد، گروگرام، کانپور، وارانسی، جے پور، جودھپور، پٹنہ اور گیا جیسے 14 شہر شامل ہیں۔
      منیش تیواری نے کہا کہ دہلی کی آلودگی کے لئے پرالي کو زیادہ ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے. پرالي کی وجہ سے یہ شہر ہر سال اسی دوران آلودگی سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان کو پرالي نہیں جلانی پڑے اس کے لئے حکومت کو ان کی مالی مدد کرنی چاہئے۔ منیش تیواری نے یہ بھی کہا کہ دہلی میں گاڑی آلودگی 41 فیصد ہے جبکہ صنعتی آلودگی 18 فیصد ہے۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے پی وی مدھن ریڈی نے کہا کہ دہلی ہی نہیں پورے ملک میں ہمیں آلودگی کے خلاف قدم اٹھانے چاہیے۔ہم 50 ٹریلین ڈالر کی معیشت کا مقصد لے کر چل رہے ہیں ایسے میں آلودگی کے ضمنی اثرات سے نمٹنے پر ہم فنڈز نہیں خرچ کر سکتے۔ شیوسینا کے اروند ساونت نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کا آغاز صنعت کاری سے ہوا ہے۔ اس کا نتیجہ کہیں انتہائی زیادہ تو کہیں زیادہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے ممبئی میٹرو منصوبے کے لئے شہر کے گورےگاؤں علاقے میں ایک ہی رات میں 2،700 درختوں کے کاٹے جانے کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی منصوبے کے لئے منظوری دینے سے پہلے اس کے سماجی، ماحولیاتی اور عالمی نتائج کے بارے میں غور کر لینا چاہیے۔

      اروند ساونت نے کہا کہ الیکٹرانک پولیوشن کی طرح ہی آنے والے وقت میں ليتھيم آئن بیٹری بھی بڑامسئلہ بننے والا ہے۔ اگر خام تیل کی درآمدات پر بھاری بھرکم غیر ملکی زرمبادلہ خرچ ہو ر ہے ہیں تو ليتھيم کے لئے بھی غیر ملکی کرنسی خرچ کرنا ہوں گی۔ جے ڈی یو کے دلیشور كامیت نے کہا کہ اگر ہم نے آلودگی کے مسئلہ پر آج توجہ نہیں دی تو آنے والی نسل کو سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔ بہوجن سماج پارٹی کے دانش علی نے آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کو لے کر مربوط پالیسی اور طویل مدتی منصوبہ کی وکالت کی ۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں پر آلودگی کا سارا ٹھیکرا پھوڑ دیا جاتا ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی لابی نہیں ہے۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی کے ناما ناگیشور راؤ نے کہا کہ دہلی میں ایمرجنسی جیسے حالات ہیں جس پر حکومت کو آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی پر سنجیدگی سے غورکرناہوگا۔
      First published: