آرایس ایس سے پاک ہندوستان کا نعرہ درست، مگر کسی سے گٹھ جوڑ نہیں : کانگریس

نئی دہلی۔ کانگریس نے ' آر ایس ایس سے پاک ہندوستان' کے بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے نعرے کی تائید کی لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مخالف پارٹیوں کا قومی اتحاد بنانے کے اعلان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی کر لی کہ 2019 میں لوگ کسی اتحاد کے بغیر ہی مودی سرکار کو مسترد کردیں گے۔

Apr 19, 2016 11:12 AM IST | Updated on: Apr 19, 2016 11:13 AM IST
آرایس ایس سے پاک ہندوستان کا نعرہ درست، مگر کسی سے گٹھ جوڑ نہیں : کانگریس

نئی دہلی۔  کانگریس نے ' آر ایس ایس سے پاک ہندوستان' کے بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے نعرے کی تائید کی لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مخالف پارٹیوں کا قومی اتحاد بنانے کے اعلان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی کر لی کہ 2019 میں لوگ کسی اتحاد کے بغیر ہی مودی سرکار کو مسترد کردیں گے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری شکیل احمد نےیہاں پارٹی کی معمول کی پریس بریفنگ میں کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سے پاک ہندوستان کا نعرہ درست ہے۔ جہاں تک قومی اتحاد کا سوال ہے، وہ ریاستوں میں حالات کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں کانگریس مسٹر نتیش کمار اور مسٹر لالو پرساد کے اتحاد میں شامل ہے۔ مگر قومی اتحاد کی بات سوچنے سے پہلے یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ ایک ریاست میں بہت مضبوط پارٹی کا پڑوس کی ریاست میں کوئی بنیاد ہے یا نہیں ہے۔

مسٹر شکیل احمد نے کہا کہ یہ درست ہے کہ آر ایس ایس سے پاک ہندوستان کی مہم میں ملک میں یکجہتی ہونی چاہیے۔ مگر قومی سطح پر اتحاد کی بات مسٹر کمار نے نہیں کہی ہے۔ مجوزہ اتحاد میں کانگریس کے کردار کے بارے میں پوچھے جانے پر کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ 2019 تک مودی سرکار کی حالت ایسی ہو جائے گی کہ ملک کے باشندے بغیر کسی اتحاد کے ہی اسے بھگانے کو تیار ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت ہر محاذ پر ناکام رہی ہے۔ معیشت تباہ ہو رہی ہے۔ روزگار نہیں ہے۔ اب آہستہ آہستہ حکومت کی کرپشن کی مثال بھی سامنے آنے لگی ہے۔ جموں و کشمیر سے لے کر گجرات تک آگ لگی ہوئي ہے۔ ہر طرف تشدد ہو رہا ہے اور حکومتیں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہیں۔ ارد گرد افراتفری پھیلی ہے لیکن ملک کی توجہ اپنی ناکامیوں سے ہٹانے کیلئے من گھڑت بحث پیدا کی جا رہی ہے۔ عوام بھی سمجھنے لگی ہے کہ انہوں نے کیسے لوگوں کو منتخب کیا ہے۔

مسٹر شکیل احمد نے کہا کہ گجرات میں پاٹيدار آندولن کمیٹی کی تحریک چل رہی ہے۔ آدھا گجرات بند ہے، تشدد کے واقعات ہورہے ہیں، ایک خود کشی ہو چکی ہے، پولس کا لاٹھی چارج ہوا، مگر بدقسمتی ہے کہ وزیر اعلی آنندی بین پٹیل نے لوگوں کو سمجھا بجھا كر آندولن ختم کرنے کے بجائے انتہائی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تحریک روز ہوتی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے بارے میں کانگریس کو بھی پتہ تھا کہ دارالحکومت میں ایک کیمپس ہے جہاں بائیں بازو کی سوچ والوں کا غلبہ ہے لیکن کانگریس نے سوچا کہ ایک کیمپس بنا رہنے دو جہاں عدم اطمینان کی آواز بلند ہوتی رہے۔ مگر مودی حکومت اس یونیورسٹی کو بدنام کرنے میں لگ گئی ہے۔

lalu_sonia_nitish1

Loading...

مسٹر شکیل احمد نے کہا کہ" بدعنوانی کے معاملے پر بھی مودی حکومت ناکام رہی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے خود کو چوکیدار بتایا تھا۔ لیکن چوکیدار سوتا رہا اور 700-800 کروڑ کا مجرم للت مودی اور پھر 9000 کروڑ روپے کا لٹیرا وجے مالیہ ملک سے بھاگ گیا۔جب لوگوں نے چوکیدار کو جگایا تو چوکیدار خاموش ہے"۔

Loading...