ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

مدھیہ پردیش میں او بی سی ریزرویشن پر سیاست جاری، کانگریس نے اس طرح کی بی جے پی کو گھیرنے کی تیاری

مدھیہ پردیش کی سیاست میں اوبی سی اور دیگر پسماندہ طبقات کا اہم کردار ہوتا ہے۔ صوبہ میں اوبی سی اور دلت رائے دہندگان کی تعداد 54 فیصد سے زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہےکہ سبھی سیاسی پارٹیاں اوبی سی اور دلت ووٹ کو اپنے ساتھ جوڑ کر رکھنا چاہتی ہیں۔

  • Share this:
مدھیہ پردیش میں او بی سی ریزرویشن پر سیاست جاری، کانگریس نے اس طرح کی بی جے پی کو گھیرنے کی تیاری
مدھیہ پردیش میں او بی سی ریزرویشن پر سیاست جاری، کانگریس نے اس طرح کی بی جے پی کو گھیرنے کی تیاری

بھوپال: مدھیہ پردیش کی سیاست میں اوبی سی اور دیگر پسماندہ طبقات کا اہم کردار ہوتا ہے۔ صوبہ میں اوبی سی اور دلت رائے دہندگان کی تعداد 54 فیصد سے زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہےکہ سبھی سیاسی پارٹیاں اوبی سی اور دلت ووٹ کو اپنے ساتھ جوڑ کر رکھنا چاہتی ہیں۔ مدھیہ پردیش میں اوبی سی ریزرویشن 14 فیصد نافذ تھا، لیکن 2018  میں جب کانگریس کی قیادت میں کمل ناتھ حکومت قائم ہوئی تو  اوبی سی ریزیرویشن کو 14 فیصد سے 27 فیصد کردیا گیا۔ حکومت کے فیصلہ کے خلاف معاملہ جبلپور ہائی کورٹ پہنچا اور ہائی کورٹ نے پورے معاملے پر سماعت کرتے ہوئے 19 مارچ 2019 کو روک لگاتے ہوئے اس کی اگلی سماعت کے لئے تاریخ جاری کردی تھی۔

اوبی سی کے 27 فیصد ریزرویشن کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ عدالت سے فیصلہ ہونے سے پہلے اسمبلی ضمنی انتخابات کو دیکھتے ہوئے کانگریس نے اوبی سی ریزرویشن کو لے کر عوام کے بیچ اپنے حق میں فضا تیار کرنے کی کوشش شروع کردی۔ مدھیہ پردیش کانگریس میڈیا سیل کے انچارج اور سابق وزیر جیتو پٹواری نے او بی سی ریزرویشن کو لے کر بھوپال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت سے اوبی سی ریزرویشن کو لے کر شیوراج حکومت سے عدالت میں مضبوط موقف پیش کرنے کے مطالبہ کیا۔ جیتو پٹواری کہتے ہیں کہ سماج میں جو کمزور طبقہ ہے، اسے سوشل جسٹنس کی بنیاد پر ریزرویشن دیا جانا چاہئے۔ ہر طبقہ کے کمزور لوگوں کو ریزرویشن دینے کا انتظام آئین میں کیا گیا ہے۔


مدھیہ پردیش کانگریس میڈیا سیل کے انچارج اور سابق وزیر جیتو پٹواری نے او بی سی ریزرویشن کو لے کر بھوپال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت سے اوبی سی ریزرویشن کو لے کر شیوراج حکومت سے عدالت میں مضبوط موقف پیش کرنے کے مطالبہ کیا۔
مدھیہ پردیش کانگریس میڈیا سیل کے انچارج اور سابق وزیر جیتو پٹواری نے او بی سی ریزرویشن کو لے کر بھوپال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت سے اوبی سی ریزرویشن کو لے کر شیوراج حکومت سے عدالت میں مضبوط موقف پیش کرنے کے مطالبہ کیا۔


مدھیہ پردیش میں چونکہ  54-53 فیصد کمزور طبقہ کے مزدور کسان لوگ رہتے ہیں اور دیہی علاقوں میں یہ لوگ زیادہ بود و باش کرتے ہیں۔ اس لئے سماجی انصاف کے طور پر ملازمتوں اور ایجوکیشن میں انہیں مدد دینے کی کمل ناتھ جی حکومت کی منشا رہی ہے۔ اب چونکہ صوبہ میں سرکار بدل گئی ہے اور نئی سرکار اقتدار میں آئی ہے تو اس سے گزارش ہے کہ عدالت میں اوبی سی ریزرویشن کے موقف کو مضبوطی سے پیش کرے تاکہ اوبی سی طبقے کو اس کا فائیدہ مل سکے۔ یہی نہیں کمل ناتھ حکومت نے سورن سماج کے غریبوں کو بھی 10 فیصد ریزرویشن اقتصادی بنیاد پر دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس لئے ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ سبھی معاملے پر سنجیدگی سے غور کرے۔
اوبی سی ریزرویشن میں چونکہ کمل ناتھ حکومت نے 14 فیصد سے 27 فیصدکرنے کا فیصلہ کمل ناتھ حکومت نےکیا تھا۔ اب عدالت میں جب فیصلہ ہوگا تب دیکھا جائے گا، لیکن کانگریس اس سے پہلے اس معاملے کو چھیڑ کر بی جے پی  کو کٹہرے میں اس لئے کھڑا کرنا چاہتی ہے تاکہ عوام کی عدالت میں وہ دونوں طرح سے اپنی جیت ثابت کرسکے۔ اگر عدالت سے روک برقرار رہتی ہے تو وہ یہ عوام کے بیچ یہ کہہ کر اپنا دامن بچا لےگی کہ ہم نے توکوشش کی تھی، لیکن موجودہ حکومت نے عدالت  اپنا موقف صحیح طریقے سے پیش نہیں کیا، اس لئے اوبی سی ریزرویشن پر مہر نہیں لگ سکی اور اگر عدالت سے 27 فیصد ریزرویشن کو ہری جھنڈی مل جاتی ہے تو بھی جیت اس کی ہو گی کہ یہ بل کانگریس حکومت ہی اوبی سی کے لئے لے کر آئی تھی۔
وہیں اس معاملے میں بی جے پی کا کہنا ہے کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور عدالت طے کرے گی کہ آئین کے مطابق کیا کیا جاسکتا ہے۔ مدھیہ پردیش کےو زیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں کہ صوبہ میں ہی نہیں ملک میں اوبی سی، دلت اور آدیواسیوں کی پسماندگی کے لئےکانگریس ہی ذمہ دار ہے۔ کانگریس نے ہمیشہ ان سے پمساندگی دور کرنے کے نام پر ووٹ تو لیا، لیکن ان کی پسماندگی کو دور کرنے کا کبھی کام نہیں کیا۔ صوبہ میں دلت آدیواسی اور او بی سی کی ہمہ جہت ترقی کے لئے بی جے پی حکومت اپنے عہد کی پابند ہے اور ان کی ترقی کے لئے پہلے بھی کام کیا گیا تھا اور اب بھی کام جاری ہے۔ کمل ناتھ حکومت نے کام کیا ہوتا تو آج ان کے لیڈروں میں بھگدڑ نہیں مچتی۔اپنے لیڈروں کو بھرم میں رکھنے کے لئے وہ راج بھون میں میٹنگ کرنے کا بیان دے رہے ہیں۔

مدھیہ پردیش کےو زیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں کہ صوبہ میں ہی نہیں ملک میں اوبی سی، دلت اور آدیواسیوں کی پسماندگی کے لئےکانگریس ہی ذمہ دار ہے۔
مدھیہ پردیش کےو زیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں کہ صوبہ میں ہی نہیں ملک میں اوبی سی، دلت اور آدیواسیوں کی پسماندگی کے لئےکانگریس ہی ذمہ دار ہے۔


کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر قانون پی سی شرما کہتے ہیں کہ کانگریس لیڈروں کو اپنے قائد کمل ناتھ پر پورا بھروسہ ہے اور ان کا یہ بھروسہ ہے کہ اگلی میٹنگ وہ راج بھون میں کریں گے۔ بی جے پی اب تک تین ایجنسیوں سے سروے کر چکی ہے اور ان سب میں کانگریس کے ووٹ میں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ تب ہے جب ابھی کانگریس نے ضمنی انتخابات کے لئے امیدواروں کے نام کا بھی اعلان نہیں کیا ہے۔ نام کے اعلا ن کے بعد اس میں اور اضافہ ہوگا۔
بی جے پی ترجمان نہا بگا کہتی ہیں کہ خیالی پلاؤ پکانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بی جے پی کی عوام کے بیچ بڑھتی مقبولیت سے کانگریس کے پیروں سے زمین کھسک چکی ہے۔ اب تک اس کے 24 اراکین اسمبلی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی سے وابستہ ہوگئے ہیں۔ آگے اور کتنے ہوں گے یہ آپ کے سامنے جلد آجائے گا۔ بی جے پی  سبھی کو ساتھ لے کر چلتی ہے، اسی لئے ہر طبقہ اسے پسند کرتا ہے۔ واضح رہے کہ او بی سی ریزرویشن کے معاملے میں جبلپور ہائی کورٹ میں آج کی سماعت میں عدالت نے 27 فیصد اوبی سی ریزرویشن پر روک کو برقرار رکھا ہے جبکہ ای ڈبلیو ایس میں 10  فیصد ریزرویشن پر روک لگانے سے انکار کردیا ہے۔ تمام معاملات کی اگلی سماعت 18  اگست کو ہوگی۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 20, 2020 07:42 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading