உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طے تھی اشوک گہلوت کی تاجپوشی، پھر اس ٹوئسٹ کی وجہ سے ہوئی کھڑگے کی انٹری

    Congress News: ملیکا ارجن کھڑگے نے کانگریس کے قومی صدر عہدے کے الیکشن کی پرچہ نامزدگی کی ہے۔ اس کے بعد سیاسی گلیاروں میں دوسری ہی بحث ہونے لگی ہے۔ سوال اٹھ رہے ہیں کہ کھڑگے کے صدر بننے سے سونیا گاندھی اور مضبوط ہوں گی یا ان کے لئے راجستھان ابھی بھی آزمائش بنی ہوئی ہے۔ لیڈران کا کہنا ہے کہ راجستھان میں مچے ہنگامہ کے بعد اشوک گہلوت کو سبق سکھانا ضروری ہوگیا تھا۔

    Congress News: ملیکا ارجن کھڑگے نے کانگریس کے قومی صدر عہدے کے الیکشن کی پرچہ نامزدگی کی ہے۔ اس کے بعد سیاسی گلیاروں میں دوسری ہی بحث ہونے لگی ہے۔ سوال اٹھ رہے ہیں کہ کھڑگے کے صدر بننے سے سونیا گاندھی اور مضبوط ہوں گی یا ان کے لئے راجستھان ابھی بھی آزمائش بنی ہوئی ہے۔ لیڈران کا کہنا ہے کہ راجستھان میں مچے ہنگامہ کے بعد اشوک گہلوت کو سبق سکھانا ضروری ہوگیا تھا۔

    Congress News: ملیکا ارجن کھڑگے نے کانگریس کے قومی صدر عہدے کے الیکشن کی پرچہ نامزدگی کی ہے۔ اس کے بعد سیاسی گلیاروں میں دوسری ہی بحث ہونے لگی ہے۔ سوال اٹھ رہے ہیں کہ کھڑگے کے صدر بننے سے سونیا گاندھی اور مضبوط ہوں گی یا ان کے لئے راجستھان ابھی بھی آزمائش بنی ہوئی ہے۔ لیڈران کا کہنا ہے کہ راجستھان میں مچے ہنگامہ کے بعد اشوک گہلوت کو سبق سکھانا ضروری ہوگیا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      نئی دہلی: کانگریس کے قومی صدر کا الیکشن سر پر ہے۔ اس کے لئے تین لیڈران نے پرچہ نامزدگی بھی داخل کردی ہے۔ اس نامزدگی کے درمیان سیاسی گلیاروں میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ ملیکا ارجن کھڑگے کی نامزدگی داخل کرنے سے سونیا گاندھی اور مضبوط ہوئی ہیں یا راجستھان ابھی بھی ان کے لئے آزمائش بنی ہوئی ہے۔

      دراصل، سال 2004 جب سونیا گاندھی نے منموہن سنگھ کو وزیر اعظم منتخب کیا تھا، اس وقت کئی لیڈران کو لگا تھا کہ ان کی طاقت کے مظاہرہ پر گرہن لگ گیا۔ لیکن، اس دوران پارٹی کو کئی معاملوں میں ملی کامیابی نے یہ دکھایا کہ کئی لوگ سونیا گاندھی کے پیچھے کھڑے ہیں۔

      سونیا گاندھی کو سب سے بڑا دھچکا اشوک گہلوت کے باغی ساتھیوں سے لگا۔
      سونیا گاندھی کو سب سے بڑا دھچکا اشوک گہلوت کے باغی ساتھیوں سے لگا۔


      جو لیڈر سونیا گاندھی کے فیصلے سے خوش نہیں تھے۔ انہوں نے منموہن سنگھ کو کمزور کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا۔ انہوں نے یہ بھی ظاہر کیا کہ اصلی پاور سینٹر سونیا گاندھی ہی ہیں۔ اب جب سونیا گاندھی دوسری بار عہدے کی قربانی دے رہی ہیں تو ملیکا ارجن کھڑگے سے متعلق وہ سوال گونج رہے ہیں۔ لیکن اس بار یہ سب تو ہو رہا ہے، جب سونیا گاندھی کافی کمزور ہیں۔ کیونکہ سال 2004 میں سونیا گاندھی کی پارٹی پر پکڑ زبردست تھی۔ وہ بی جے پی جیسی مضبوط پارٹی اور اٹل بہاری واجپئی جیسے لیڈر کو ہراکر یونائیٹیڈ پروگریسیو الائنس (یوپی اے) کی تشکیل کرنے میں کامیاب رہیں۔

      اس بات سے سونیا گاندھی کو لگا دھچکا

      اس بار کانگریس صرف دو ریاستوں راجستھان اور چھتیس گڑھ میں ہے۔ بڑے بڑے لیڈران مسلسل کانگریس چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ یہ سلسلہ جاری ہے۔ ان حالات میں عام آدمی پارٹی، کانگریس سے نکلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ ان سب کے درمیان سونیا گاندھی کو سب سے بڑا دھچکا اشوک گہلوت کے باغی ساتھیوں سے لگا۔ سونیا گاندھی نے طے کرلیا تھا کہ اشوک گہلوت کو وہ پارٹی صدر کا عہدہ دے سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی طے ہوگیا تھا کہ سچن پائلٹ کو وزیر اعلیٰ عہدے کا وعدہ بھی پورا ہوجائے گا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: