جاسوسی معاملہ پرکانگریس لیڈرکا حکومت پربڑا الزام- پرینکا گاندھی کا فون بھی کیا گیا ہیک

کانگریس لیڈررندیپ سرجے والا نےکہا کہ پرینکا گاندھی کوواٹس ایپ کےہیکنگ کا میسیج آیا تھا۔ ہمارا مطالبہ ہےکہ سپریم کورٹ اس معاملےکا نوٹس لےاوراپنی نگرانی میں جانچ کرائے۔

Nov 03, 2019 06:39 PM IST | Updated on: Nov 03, 2019 06:45 PM IST
جاسوسی معاملہ پرکانگریس لیڈرکا حکومت پربڑا الزام- پرینکا گاندھی کا فون بھی کیا گیا ہیک

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا۔ فائل فوٹو: پی ٹی آئی

واٹس اپ کے ذریعہ 1400 لوگوں کے فون ہیک کئے جانے کےمعاملے میں ایک نیا موڑآیا ہے۔ کانگریس نےاب دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کا بھی فون ہیک کروایا ہے۔ کانگریس لیڈررندیپ سرجے والا نے کہا کہ پرینکا گاندھی کو واٹس ایپ کے ہیکنگ کا میسیج آیا تھا۔ اب ہمارا مطالبہ ہےکہ سپریم کورٹ اس معاملے کی نوٹس لے اوراپنی نگرانی میں جانچ کرائے۔

اس کے ساتھ ہی کانگریس ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے ٹوئٹ کیا، 'جمعرات صبح ہندوستان کے لوگوں کوحیران کرنے والی خبرملی، جس میں کہا گیا کہ کئی سارے صحافی، ججوں، وکیلوں، سماجی کارکنان، دلت اور حقوق انسانی کی لڑائی لڑنے والے والوں کے فون ہیک ہوئے۔ رندیپ سرجے والا نےکہا کہ اس میں کئی سارے اپوزیشن کے لیڈران اورسپریم کورٹ کے ججوں کا بھی فون شامل ہوسکتا ہے'۔

وہیں ہندوستانی صحافیوں اورحقوق انسانی کے کارکنان کی واٹس ایپ کے ذریعہ جاسوسی کےانکشاف کولےکراپوزیشن نے حکومت پرنشانہ سادھا ہے۔ کانگریس نےاس حادثہ کو باعث تشویش بتایا ہےاورحکومت پرجاسوسی کا الزام لگایا ہے۔ کانگریس نے سپریم کورٹ سے معاملےمیں مداخلت کرنےاوراس کےلئےحکومت کی جوابدہی طےکرنے کی اپیل کی ہے۔

حکومت نے الزامات کی تردید کی

حالانکہ وزارت داخلہ نے حکومت کےذریعہ جاسوسی کےالزامات کی تردید کرتےہوئےکہا ہےکہ میڈیا میں ہندوستانی شہریوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی سے متعلق رپورٹ آئی ہیں۔ یہ ہندوستانی حکومت کوبدنام کرنےکی کوشش ہے۔ ہندوستانی حکومت پرائیویسی کے حقوق سمیت ہندوستانی شہریوں کے سبھی بنیادی حقوق کی حفاظت کرنے کے لئے پابند عہد ہے، جوبھی کوئی اس کی خلاف ورزی کرنےکی کوشش کرے گا۔ اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائےگی۔

Loading...