اپنا ضلع منتخب کریں۔

    اسمبلی انتخابات میں زبردست شکست کے بعد کانگریس میں آج ہوسکتا ہے بڑا فیصلہ، 4 بجے ہے CWC کی میٹنگ

    پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات (Assembly Election Results) میں زبردست شکست کے تین دنوں بعد کانگریس (Congress) کی ورکنگ کمیٹی (CWC) کی میٹنگ آج شام 4 بجے ہوسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، مانا جا رہا ہے کہ اس میٹنگ میں کانگریس میں داخلی انتخابات ستمبر میں کرائے جانے کا اعلان ہوسکتا ہے۔

    پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات (Assembly Election Results) میں زبردست شکست کے تین دنوں بعد کانگریس (Congress) کی ورکنگ کمیٹی (CWC) کی میٹنگ آج شام 4 بجے ہوسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، مانا جا رہا ہے کہ اس میٹنگ میں کانگریس میں داخلی انتخابات ستمبر میں کرائے جانے کا اعلان ہوسکتا ہے۔

    پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات (Assembly Election Results) میں زبردست شکست کے تین دنوں بعد کانگریس (Congress) کی ورکنگ کمیٹی (CWC) کی میٹنگ آج شام 4 بجے ہوسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، مانا جا رہا ہے کہ اس میٹنگ میں کانگریس میں داخلی انتخابات ستمبر میں کرائے جانے کا اعلان ہوسکتا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات (Assembly Election Results) میں زبردست شکست کے تین دنوں بعد کانگریس (Congress) کی ورکنگ کمیٹی (CWC) کی میٹنگ آج شام 4 بجے ہوسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، مانا جا رہا ہے کہ اس میٹنگ میں کانگریس میں داخلی انتخابات ستمبر میں کرائے جانے کا اعلان ہوسکتا ہے۔ جمعرات کو انتخابی نتائج میں کانگریس پانچ ریاستوں میں سے ایک میں بھی نہیں جیت سکی۔ پنجاب میں جہاں کانگریس کی حکومت تھی، وہاں بھی اقتدار گنوا بیٹھی اور وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی اور کانگریس کے ریاستی صدر نوجوت سنگھ سدھو بھی الیکشن ہار گئے۔ کانگریس کو اتراکھنڈ، گوا اور منی پور میں واپسی کی امید تھی، لیکن ان امیدوں پر پانی پھر گیا۔

      اترپردیش انتخابی تشہیر کی کمان پرینکا گاندھی (Priynaka Gandhi) نے اپنے کندھوں پر لے رکھی تھی، لیکن یہاں پارٹی کی 2017 سے بھی زبردست شکست ہوئی۔ یہاں کانگریس کو دو سیٹوں سے ہی اکتفا کرنا پڑا۔ گزشتہ بار کے مقابلے تین سیٹ کم ہی ہوگئی۔ راہل گاندھی نے بھی یہاں انتخابی تشہیر کی تھی۔ اتنی بڑی ریاست میں کانگریس کو 2.4 فیصد ووٹ ملا۔

      جی-23 لیڈران کو ملی طاقت

      پارٹی کی اتنی بڑی شکست کے بعد گروپ 23 کے لیڈروں کو موقع مل گیا ہے۔ غلام نبی آزاد کی قیادت والی گروپ 23 کے لیڈر کانگریس قیادت میں تبدیلی اور داخلی انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے آرہے ہیں۔ یہ لیڈر کانگریس کی اعلیٰ قیادت سے مختلف خیال رکھنے لگے ہیں اور دو سال پہلے کانگریس صدر سونیا گاندھی کو خط لکھ کر قیادت کے لئے الیکشن کرانے کی بات کہہ چکے ہیں۔ حالانکہ جی23 کے ایک سینئر لیڈر نے بتایا کہ کوئی سدھار نہیں ہونے والا ہے۔ دوسری جانب گروپ 23 کے اراکین کانگریس کے سینئر لیڈر، ششی تھرور نے جمعرات کو ٹوئٹ کرکے کہا ہے کہ اب پارٹی تبدیلی سے نہیں بچ سکتی۔ ایک دیگر کانگریس لیڈر جے ویر شیرگل نے پارٹی میں سدھار کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید نقصان سے بچنے کے لئے شفافیت کی اپیل کی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      پانچ ریاستوں میں انتخابی شکست کے بعد کانگریس کے G-23 لیڈران کی غلام نبی آزاد کے گھر میٹنگ 

      غلام نبی آزاد کے گھر غیرمطمئن لیڈران کی میٹنگ

      این ڈی ٹی وی کی خبر کے مطابق، گروپ 23 کے کچھ غیر مطمئن نے کل شام غلام نبی آزاد کے گھر پر میٹنگ کی، جس میں آگے کے حالات پر تبادلہ خیال ہوا۔ میٹنگ میں پارٹی کو منصوبہ بند کرنے کے لئے اب تک کوئی سدھار والا قدم نہیں اٹھانے کے سبب کانگریس قیادت کے تئیں اپنی مایوسی ظاہر کی۔ میٹنگ میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ آسام، مغربی بنگال، کیرلا اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات میں شکست کے باوجود پارٹی نے تجزیہ کرنے کے لئے جو کمیٹی تشکیل کی تھی، اس کی رپورٹ پر اب تک تبادلہ خیال نہیں کیا گیا۔

      کرناٹک کے لیڈروں کو گاندھی فیملی پر بھروسہ

      حالانکہ گاندھی فیملی کے بھروسے مندوں نے ابھی بھی سونیا گاندھی کے تئیں اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے۔ کرناٹک کے سینئر لیڈر ملیکا ارجن کھڑگے اور ڈی کے شیو کمار نے گاندھی فیملی کے تئیں بھروسہ ظاہر کیا ہے۔ ایک انٹرویو میں ڈی کے شیو کمار نے کہا کہ گاندھی فیملی کے بغیر کانگریس کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف گاندھی فیملی ہی کانگریس کو متحد رکھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس میں اتحاد کے لئے گاندھی فیملی اہم کنجی ہے۔ گاندھی فیملی کے بغیر کانگریس زندہ ہی نہیں رہ سکتی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: