ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

متنازع فلم محمد: دی میسنجر آف گاڈ کی ریلیز ملتوی، مسلم تنظیموں کی کوشش کارآمد، جھارکھنڈ کے مسلمانوں میں خوشی

ایرانی فلمساز ماجد ماجدی کی فلم محمد: دی میسنجر آف گاڈ کو ریلیز کرنے پر مسلم تنظیموں کے اعتراض کے بعد ڈان سنیما کے ڈائریکٹر محمد علی نے اس کی ریلیز کو ملتوی کر دیا ہے۔ ڈان سینیما کے ڈائریکٹر کے اس فیصلے پر ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے ناظم اعلیٰ قطب الدین رضوی نے بیحد خوشی کا اظہار کیا ہے۔

  • Share this:
متنازع فلم محمد: دی میسنجر آف گاڈ کی ریلیز ملتوی، مسلم تنظیموں کی کوشش کارآمد، جھارکھنڈ کے مسلمانوں میں خوشی
متنازع فلم محمد: دی میسنجر آف گاڈ کی ریلیز ملتوی

رانچی: ایرانی فلمساز ماجد ماجدی کی فلم محمد: دی میسنجر آف گاڈ کو ریلیز کرنے پر مسلم تنظیموں کے اعتراض کے بعد ڈان سنیما کے ڈائریکٹر محمد علی نے اس کی ریلیز کو ملتوی کر دیا ہے۔ ڈان سینیما کے ڈائریکٹر کے اس فیصلے پر ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے ناظم اعلیٰ قطب الدین رضوی نے بیحد خوشی کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خانوادہ رسالت پر مبنی اس فلم کے ریلیز کے اعلان سے مسلمانوں میں شدید بیچینی دیکھی جا رہی تھی۔ ساتھ ہی متعدد سماجی تنظیموں کے ذریعہ سخت اعتراض کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ ممبئی کی رضا اکیڈمی نامی تنظیم کے سخت مخالفت کی وجہ سے ڈان سینیما کے ڈائریکٹر محمد علی نے اس متنازع فلم کے ریلیز کا فیصلہ ملتوی کر دیا۔ ڈان سینیما کے ڈائریکٹر محمد علی نے رضا اکیڈمی کے اپیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کا ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے میں نے ممکنہ بد امنی کے پیش نظر فلم ریلیز نہ کرنے کا فیصلہ لیا۔


ڈان سینیما کے ڈائریکٹر کے اس فیصلے پر ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے ناظم اعلیٰ قطب الدین رضوی نے بیحد خوشی کا اظہار کیا ہے۔
ڈان سینیما کے ڈائریکٹر کے اس فیصلے پر ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے ناظم اعلیٰ قطب الدین رضوی نے بیحد خوشی کا اظہار کیا ہے۔


واضح رہےکہ اس متنازعہ فلم کے ریلیزکی خبر سےجھارکھنڈ کے مسلمانوں میں بھی شدید بے چینی دیکھی جا رہی تھی۔ ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ سمیت دیگر سماجی و سیاسی تنظیموں نے اس فلم کے ریلیز پر روک لگانے کے تعلق سے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو خطوط روانہ کئے تھے۔ مومن کانفرنس نامی تنظیم کے سربراہ صغیر انصاری نے جمشیدپور میں میڈیا کو جانکاری دیتے ہوئےکہا کہ فلم میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن اور ان کے والدین کے کردار کو دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے سخت اعتراض کرتے ہوئےکہا کہ پیغمبر اسلام کی کبھی بھی فلم میں کردار سازی نہیں کی جا سکتی ہے۔


اس متنازعہ فلم کے ریلیزکی خبر سےجھارکھنڈ کے مسلمانوں میں بھی شدید بے چینی دیکھی جا رہی تھی۔
اس متنازعہ فلم کے ریلیزکی خبر سےجھارکھنڈ کے مسلمانوں میں بھی شدید بے چینی دیکھی جا رہی تھی۔


انہوں نے کہا کہ خطوط کے ذریعہ اس فلم کی ریلیز کو روکنےکا مطالبہ مرکزی محکمہ اطلاعات و نشریات کے ساتھ ریاست کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین سے کی گئی ہے۔ وہیں جھارکھنڈ مکتی مورچہ اقلیتی سیل کے ریاستی صدر حاجی ہدایت اللہ خان نے بھی اس فلم کے ریلیز کی خبر پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو خط کے ذریعہ اس پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہدایت اللہ خان نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی ناقابل برداشت ہے۔ تاہم ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے ناظم اعلیٰ قطب الدین رضوی نے متنازع فلم ریلیز نہ کرنے کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی مسلمان توہین رسالت کو برداشت نہیں کر سکتا ہے۔ انہوں نے ڈان سینیما کے ڈائریکٹر محمد علی کے اس فیصلے کے لئے مبارکباد پیش کی ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 21, 2020 05:33 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading