ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ بی جے پی کے گفتگو کے منصوبہ پر تنازعہ

اقرا ایجوکیشن فاؤنڈیشن ممبئی کی ڈائریکٹر عظمیٰ ناہید نے باضابطہ سوشل میڈیا پر انگریزی اور اردو زبان میں وضاحت جاری کی اور صفائی دیتے ہوئے بتایا کہ ان کا تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

  • Share this:
ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ بی جے پی کے گفتگو کے منصوبہ پر تنازعہ
ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ بی جے پی کے گفتگو کے منصوبہ پر تنازعہ

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ذریعہ ہندوستانی مسلمانوں کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات اور گفتگو کی منصوبہ بندی پوری طرح تنازعہ کا شکار ہوتی نظر آرہی ہے کیونکہ مذاکرات اور گفتگو کے لئے انڈین مسلم فار پروگریس اینڈ ریفارم نامی تنظیم کے ذریعے جو نام پیش کئےجارہے تھے، ان میں شامل ایک خاتون مذاکرات کار نے باضابطہ درخواست کر کے اپنا نام ہٹائے جانے کی نہ صرف درخواست کی بلکہ عوامی سطح پر پریس بیان جاری کرکے کے تنظیم سے اپنا تعلق نہ ہونے اور بغیر اجازت نام شامل کئے جانے کی وضاحت کرتے ہوئے اس پورے معاملے کو مبینہ طور پر تنازعہ میں شامل کر دیا ہے۔


اقرا ایجوکیشن فاؤنڈیشن ممبئی کی ڈائریکٹر عظمیٰ ناہید نے باضابطہ سوشل میڈیا پر انگریزی اور اردو زبان میں وضاحت جاری کی اور صفائی دیتے ہوئے بتایا کہ ان کا تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عظمیٰ ناہید نے اپنے پیغام کے ذریعہ اپنے حلقے کے تمام افراد کو مطلع کرنا چاہتی ہوں کہ IMPAR  نامی گروپ میں میرا نام بغیر میری علم و اطلاع کے شامل کر لیا گیا ہے اور پریس ریلیز جاری کی گئی ہے، جس کے بعد بہت سے حضرات کے فون اور پیغامات آئے۔ میں مستقل موڈریٹر سے در خواست کر رہی ہوں کہ میرا نام نکال دیا جائے اور میری علاحدگی کی اطلاع بھی پریس ریلیز کے ذریعے دی جائے۔ میں ایک بار پھر اطلاع دے رہی ہوں کہ اس گروپ کے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں اور میرا نام غیر ذمہ داری کے ساتھ بغیر میرے علم و اطلاع کے شامل کیا گیا ہے۔


غور طلب ہے کہ حزب اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی  کی جانب سے رام مادھو ، ایم جے اکبر اور جینت سنہا جیسے سینئر لیڈران  کو گفتگو اور مذاکرات کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔دراصل ہندوستان میں میڈیا کے ذریعے مسلمانوں کو نشانہ بنایے جانے سے لے کر بین الاقوامی سطح پر ہندوستانی مسلمانوں  کی حالت اور ان کے احوال پر پر ہو رہی گفتگو اور تنقید کو لے کر گفتگو کی کی منصوبہ بندی کی گئی خاص طور سے مسلمانوں کے اہم سماجی کارکنان اور مسلم طلبہ کی گرفتاری کا موضوع بھی شامل کیا گیا ہے ان تمام لوگوں کو انڈین مسلم فار پروگریس کیساتھ تعاون اشتراک کے ساتھ ہندوستان کے اہم مسلم رہنماؤں اور دانشوروں  سے گفتگو کرنی ہے بتایا جاتا ہے مذکورہ تنظیم سے تین سو کے قریب  ہندوستان بھر کے مسلم دانشور اور اہم نام جڑے ہوئے ہیں لیکن اس معاملے میں جس طرح سے عظمی ناہید نے عوامی سطح پر اپنے عدم تعلق کا اظہار کیا  اور بغیر اجازت نام شامل کیے جانے کی وضاحت کردی اس سے یہ پوری منصوبہ بندی  تنازع میں گھر گئی ہے

First published: May 20, 2020 11:18 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading