உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دلت شاعرکو پروگرام میں مدعو نہ کرنے پر تنازعہ، دہلی اردو اکیڈمی نے تبدیل کیا فیصلہ

     دہلی اردو اکیڈمی کو دلت شاعر راجیو ریاض کو نئے پرانے چراغ کے لئے مدعو کرنا بھاری پڑگیا۔ تنازعہ ہونے کے بعد دہلی اردو اکیڈمی نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا اور کئی شعراء کے ناموں کو شامل کیا۔

    دہلی اردو اکیڈمی کو دلت شاعر راجیو ریاض کو نئے پرانے چراغ کے لئے مدعو کرنا بھاری پڑگیا۔ تنازعہ ہونے کے بعد دہلی اردو اکیڈمی نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا اور کئی شعراء کے ناموں کو شامل کیا۔

    دہلی اردو اکیڈمی کو دلت شاعر راجیو ریاض کو نئے پرانے چراغ کے لئے مدعو کرنا بھاری پڑگیا۔ تنازعہ ہونے کے بعد دہلی اردو اکیڈمی نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا اور کئی شعراء کے ناموں کو شامل کیا۔

    • Share this:
    نئی دہلی: دہلی اردو اکیڈمی کو دلت شاعر راجیو ریاض کو نئے پرانے چراغ کے لئے مدعو کرنا بھاری پڑگیا۔ تنازعہ ہونے کے بعد دہلی اردو اکیڈمی نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا اور کئی شعراء کے ناموں کو شامل کیا۔ اکیڈمی کے وائس چیئرمین تاج محمد نے ایک ویڈیو بیان نیوز 18 کو جاری کرتے ہوئے کہا کہ جو نام لسٹ میں شامل ہونے سے رہ گئے تھے، جن کو شامل کرلیا گیا ہے۔ دہلی اردو اکیڈمی اردو کے فروغ کے لئے کام کرتی ہے، ذات اور مذہب کے نام پر یہاں تفریق اورکام نہیں ہوتا۔
    اس سے قبل آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین دہلی کے صدر کلیم الحفیظ نے دہلی اردو اکیڈمی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اردو اکیڈمی کو دہلی حکومت نے بربادی کے دہانے تک پہلے ہی پہنچا دیا ہے اور اکیڈمی اردو کے فروغ کے لئے ٹھیک سے کام نہیں کر پارہی ہے۔ اکیڈمی میں انا پرستی تفریق بھی عروج پر ہے۔ کلیم الحفیظ نے کہا کہ معروف شاعر راجیو ریاض کو اردو اکیڈمی نے نئے پرانے چراغ کے لئے مدعو نہیں کیا ہے یہ شرمناک اورذات پر مبنی تفریق کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے۔

    کلیم الحفیظ نے کہا کہ دہلی اردو اکیڈمی کا پروگرام نئے پرانے چراغ اس مقصد سے شروع کیا گیا تھا کہ اس میں تمام دہلی کے شعراءکو شامل کیا جائے گا اور اردو زبان وثقافت کو فروغ دیا جائے گا۔ اسی لئے اس پروگرام میں ہر چھوٹا بڑا شاعر شرکت کرتا ہے، اس بار بھی مظفرنگر، بدایوں، گریٹر نوئیڈا اترپردیش سے لے کر لندن تک کے شعراء شامل ہو رہے ہیں، لیکن دہلی میں موجودہ شاعر راجیو ریاض کے نام کو لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

    دہلی اردو اکادمی کے نئے پرانے چراغ کی فہرست دیکھیں۔
    دہلی اردو اکادمی کے نئے پرانے چراغ کی فہرست دیکھیں۔


    اے آئی ایم آئی ایم کے صوبائی صدر کلیم الحفیظ نے کہا کہ دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال سے میرا سوال ہے کہ راجیو ریاض کو کیا ان کے دلت ہونے کی وجہ سے مدعو نہیں کیا گیا؟ ان کو پروگرام میں نہ بلانے کے پیچھے کیا وجوہات ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ عام آدمی پارٹی سے لے کر سماجوادی پارٹی تک سے منسلک شعراء پروگرام میں شامل ہونے والے ہیں اور مجلس اتحادالمسلمین کے سکریٹری راجیو ریاض کو کیا اس بات کی سزا دی جارہی ہے کہ انھوں نے اردو اکیڈمی کے مفلوج بنائے جانے اور اکیڈمی کا فنڈ ریلیز نہ کئے جانے کےخلاف آواز اٹھائی تھی۔

    https://twitter.com/kaleemulhafeez/status/1548900882451873792?s=24&t=NUo6dpADZptkfKii0yJ3QQ

    کلیم الحفیظ نے کہا کہ عام آدمی پارٹی اور اروندکجریوال سیاسی نفرت کے ذہن سے کام کررہے ہیں۔ حالانکہ ادیب وشاعر ملک کا اثاثہ ہیں، چاہے وہ کسی بھی پارٹی میں ہوں۔ ان کو لے کر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ کلیم الحفیظ نے کہا کہ راجیو ریاض ماضی میں نہ صرف نئے پرانے چراغ پروگرام میں شامل ہوکر اشعار پڑھ چکے ہیں بلکہ جشن آزادی جیسے بڑے مشاعرے میں بھی اپنا کلام سنا چکے ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    ادھو ٹھاکرے کو بڑا جھٹکا! شیو سینا کے 12 اراکین پارلیمنٹ بنائیں گے الگ گروپ، ایکناتھ شندے سے ملائیں گے ہاتھ

    کلیم الحفیظ نے کہا کہ اکیڈمی میں کام کرنے والی پونم سنگھ نے راجیو ریاض کی ذات پوچھی تھی کیا اسی وجہ سے ان کو درکنار کیا گیا؟ دہلی مجلس صدر نے کہا کہ دہلی اردو اکیڈمی کو عام آدمی پارٹی حکومت نے برباد کردیا ہے۔ آج حالات یہ ہےکہ 44 مستقل ملازمین کی جگہ صرف آدھا درجن ملازمین ہی مستقل ہیں، آخر سبھی جگہوں اور محکموں میں مستقل تقرری کی جارہی ہے تو اکیڈمی میں تقرر ی کیوں نہیں کی جارہی ہے۔ کلیم الحفیظ نے کہا کہ آج اکیڈمی میں چیئرمین اور نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا سے لے کر وائس چیئرمین حاجی تاج محمد، سکریٹری سمیت اسٹاف افسر اردو سے نابلد ہیں۔ ایسے میں اردو کے فروغ اور کسی اچھی بات کی امید کرنا بیکار ہے۔

    راجیو ریاض نے سوشل میڈیا پر کیا تھا افسوس کا اظہار

    اپنے ٹویٹ میں شاعر کے ذریعہ کہا گیا تھا کہ اس سے قبل وہ نئے پرانے چراغ پروگرام کے ساتھ ساتھ لال قلعہ میں ہونے والے جشن آزادی مشاعرے میں بھی شامل ہو چکے ہیں۔ موجودہ نئے پرانے چراغ پروگرام میں دہلی کے ساتھ ساتھ الگ الگ ریاستوں کے شعراء بھی شامل ہونے والے ہیں، لیکن لسٹ میں میرا نام نہیں ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: