உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش میں خادم الحجاج کے سلیکشن سے متعلق تنازعہ، حج کمیٹی پر اقربا پروری کو فروغ دینے کا الزام

    مدھیہ پردیش میں حج پرواز شروع ہونے سے قبل ہی خادم الحجاج کے سلیکشن اور ان کی کارکردگی سے متعلق تنازعہ شروع ہوگیا ہے۔سماجی تنظیموں نے خادم الحجاج کے سلیکشن میں حج کمیٹی پر جہاں اقربا پروری کو فروغ دینے کا الزام لگایا ہے۔ وہیں خادم الحجاج کے سلیکشن کو ضابطہ کی خلاف ورزی سے بھی تعبیرکیا ہے۔

    مدھیہ پردیش میں حج پرواز شروع ہونے سے قبل ہی خادم الحجاج کے سلیکشن اور ان کی کارکردگی سے متعلق تنازعہ شروع ہوگیا ہے۔سماجی تنظیموں نے خادم الحجاج کے سلیکشن میں حج کمیٹی پر جہاں اقربا پروری کو فروغ دینے کا الزام لگایا ہے۔ وہیں خادم الحجاج کے سلیکشن کو ضابطہ کی خلاف ورزی سے بھی تعبیرکیا ہے۔

    مدھیہ پردیش میں حج پرواز شروع ہونے سے قبل ہی خادم الحجاج کے سلیکشن اور ان کی کارکردگی سے متعلق تنازعہ شروع ہوگیا ہے۔سماجی تنظیموں نے خادم الحجاج کے سلیکشن میں حج کمیٹی پر جہاں اقربا پروری کو فروغ دینے کا الزام لگایا ہے۔ وہیں خادم الحجاج کے سلیکشن کو ضابطہ کی خلاف ورزی سے بھی تعبیرکیا ہے۔

    • Share this:
    بھوپال: مدھیہ پردیش میں حج پرواز شروع ہونے سے قبل ہی خادم الحجاج کے سلیکشن اور ان کی کارکردگی سے متعلق تنازعہ شروع ہوگیا ہے۔سماجی تنظیموں نے خادم الحجاج کے سلیکشن میں حج کمیٹی پر جہاں اقربا پروری کو فروغ دینے کا الزام لگایا ہے۔ وہیں خادم الحجاج کے سلیکشن کو ضابطہ کی خلاف ورزی سے بھی تعبیرکیا ہے۔
    واضح رہے کہ سفرحج دوہزار بائیس کے لئے مدھیہ پردیش سے تین ہزار چار سو سترہ عازمین حج نے درحواست کی تھی جبکہ مرکزی حج کمیٹی کے ذریعہ حج دوہزار بائیس کے لئے مدھیہ پردیش کو سترہ سو اسی عازمین حج کا کوٹہ الاٹ کیا گیا۔ اس کے بعد تین سو انیاسی عازمین کی پہلی ویٹنگ لسٹ جاری کی گئی اور ستاسی عازمین حج کی دوسری لسٹ کے ذریعہ سلیکشن کیا گیا۔

    مدھیہ پردیش سے سفر حج پر جانے والے عازمین حج کی خدمت کے لئے امسال بارہ خادم الحجاج کا سلیکشن کیا گیا ہے۔ بارہ خادم الحجاج میں سے آٹھ کا تعلق مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال سے بتایا جاتا ہے اور اس میں سے بھی پچاسی فیصد خادم الحجاج کا تعلق حج کمیٹی اور وقف بورڈ سے ہونے کو لے کر مسلم سماجی تنظیموں کے ذریعہ احتجاج شروع کردیا گیا ہے۔ مسلم سماجی تنظیموں نے حج کمیٹی پر خادم الحجاج کے سلیکشن میں ضابطہ کی خلاف ورزی اور اقربا پروری کا الزام لگاتے ہوئے مرکزی حج کمیٹی،مرکزی وزیر برائے اقلیتی فلاح و بہبود اور مدھیہ پردیش کے محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود سے جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔

    مسلم سماجی تنظیموں نے حج کمیٹی پر خادم الحجاج کے سلیکشن میں ضابطہ کی خلاف ورزی اور اقربا پروری کا الزام لگاتے ہوئے مرکزی حج کمیٹی،مرکزی وزیر برائے اقلیتی فلاح و بہبود اور مدھیہ پردیش کے محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود سے جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
    مسلم سماجی تنظیموں نے حج کمیٹی پر خادم الحجاج کے سلیکشن میں ضابطہ کی خلاف ورزی اور اقربا پروری کا الزام لگاتے ہوئے مرکزی حج کمیٹی،مرکزی وزیر برائے اقلیتی فلاح و بہبود اور مدھیہ پردیش کے محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود سے جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔


    مائناریٹیز یونائیٹیڈ آرگنائیزیشن کے سکریٹری عبد النفیس کہتے ہیں کہ امسال خادم الحجاج کی جو فہرست جاری کی گئی ہے، وہ پوری طرح سے اقربا پروری پر مبنی ہے۔ خادم الحجاج کا سلیکشن پورے مدھیہ پردیش سے نہیں کیا گیا ہے۔ یہی نہیں جو لوگ سرکاری اخراجات پر حج کرنے کو جاتے ہیں وہ عازمین حج کی خدمت کو چھوڑ کراپنے دیگر کام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں عازمین حج کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس طرح سے سعودی حکومت میں جو لوگ خدمت پر معمور ہوتے ہیں، انہیں حج کی اجازت نہیں ہوتی ہے، اگر ہندوستان سے جانے والے خادم الحجاج پر بھی یہ پابندی عائد کردی جائے تو سازش کرکے خادم الحجاج کے نام پر جانے والوں کی سچائی سامنے آجائے گی۔
    وہیں مدھیہ پردیش علما بورڈ کے صدر مولانا عظمت شاہ مکی نے اس معاملے میں نیوز ایٹین اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے زیادہ افسوسناک اور کیا ہوگا کہ مقدس سفر پرجھوٹ بول کر لوگ جا رہے ہیں۔ یہاں سے جو لوگ بھی جا رہے ہیں، اس میں سے کئی ایسے ہیں جنہوں نے حج ہی نہیں کیا ہے جبکہ حج کمیٹی کی شرائط میں خادم الحجاج کے لئے حاجی ہونا یا عمرہ کیا ہونا لازمی ہوتا ہے۔ خادم الحجاج کی پوری فہرست اقربا پروری پر مبنی ہے۔ جب حاجی پورے مدھیہ پردیش سے جاتے ہیں تو خادم الحجاج کا سلیکشن کرنے میں صرف حج کمیٹی اور وقف بورڈ کے ملازمین کو ہی کیوں ترجیح دی گئی ہے اردو اکادمی، مدرسہ بورڈ اور دوسرے اداروں میں جو مسلم ملازمین ہیں، ان کے بیچ سے سلیکشن کیوں نہیں کیا گیا۔ ایسی بہت سی باتیں ہیں، جب اس کی جانچ کی جائے گی تو اس کی حقیقت سامنے آجائے گی۔ ہم نے اس معاملے کو لے کر مرکزی حج کمیٹی اور وزارت اقلیتی بہبود کو تفصیلات بھیجی ہیں اور بہت جلد اس معاملے کو لے کر وفد وزیر سے ملاقات بھی کرے گا۔
    مدھیہ پردیش بی جے پی کے سینئر لیڈر و مدھیہ پردیش حج کمیٹی کے سابق رکن سرفراز حسن بھی کہتے ہیں کہ خادم الحجاج کو لے کر بہت سی شکایتیں رہتی ہیں۔ ہم نے بھی اپنے عہد میں دیکھا ہے کہ لوگ مکہ اور مدینہ میں پریشان  ہو رہے ہیں اور خادم الحجاج کسی کا فون تک ریسو نہیں کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں سے جو لوگ خادم الحجاج کے نام پر جاتے ہیں، وہ وہاں پر اپنا حج انجام دینے لگتے ہیں اور انہیں عازمین کے مسائل کی فکر نہیں ہوتی ہے۔ اس پر روک لگنی چاہئے۔

    وہیں اس تعلق سے جب مدھیہ پردیش اسٹیٹ حج کمیٹی کے سکریٹری سید شاکر علی جعفری سے بات کی گئی تو انہوں نے خادم الحجاج کے سلیکشن پر خاموشی اختیار کرتے ہوئے بتایا کہ امسال پہلے دس پھر دو اور خادم الحجاج کا سلیکشن کیا گیا ہے۔ یہ بارہ خادم الحجاج وہاں پر عازمین حج کی بہتر خدمات انجام دیں گے اور انہیں عازمین حج کے ساتھ سفر حج پر روانہ کیا جائے گا۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: