உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مہاراشٹر: کسے ملے گا تیر-کمان: الیکشن کمیشن نے ادھو اور شندے ’سینا‘ سے مانگا جواب

    شیو سینا کے باغی لیڈر ایکناتھ شندے گروپ نے اس ہفتے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر پارٹی کا ’دھنش-تیر‘ انتخابی نشان انہیں دینے کی گزارش کی تھی۔ شندے گروپ نے اس کے لئے لوک سبھا اور مہاراشٹر اسمبلی میں اسے ملی منظوری کا حوالہ دیا تھا۔

    شیو سینا کے باغی لیڈر ایکناتھ شندے گروپ نے اس ہفتے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر پارٹی کا ’دھنش-تیر‘ انتخابی نشان انہیں دینے کی گزارش کی تھی۔ شندے گروپ نے اس کے لئے لوک سبھا اور مہاراشٹر اسمبلی میں اسے ملی منظوری کا حوالہ دیا تھا۔

    شیو سینا کے باغی لیڈر ایکناتھ شندے گروپ نے اس ہفتے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر پارٹی کا ’دھنش-تیر‘ انتخابی نشان انہیں دینے کی گزارش کی تھی۔ شندے گروپ نے اس کے لئے لوک سبھا اور مہاراشٹر اسمبلی میں اسے ملی منظوری کا حوالہ دیا تھا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: الیکشن کمیشن نے ادھو ٹھاکرے اور ایکناتھ شندے کی قیادت والے شیو سینا کے دونوں گروپوں سے پارٹی کے انتخابی نشان پر ان کے دعووں کی حمایت میں آٹھ اگست تک اپنے دستاویز جمع کرانے کو کہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ دونوں فریق سے دستاویز جمع کرانے کے لئے کہا گیا ہے، جن میں پارٹی کی قانون اور تنظیمی اکائیوں سے حمایتی خط اور مخالف گروپوں کے تحریری بیان شامل ہیں۔

      اس ہفتے شیو سینا کے شندے گروپ نے کمیشن کو خط لکھ کر پارٹی کا ‘دھنش-بان‘ انتخابی نشان اسے دینے کی گزارش کی تھی۔ شندے گروپ نے اس کے لئے لوک سبھا اور مہاراشٹر اسمبلی میں اسے ملی منظوری کا حوالہ دیا تھا۔ واضح رہے کہ شیو سینا گزشتہ ماہ تب دو گروپوں میں تقسیم ہوگئی تھی، جب اس کے دو تہائی سے زیادہ اراکین اسمبلی نے ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی مہاراشٹر حکومت سے بغاوت کردی تھی اور شندے کی حمایت کی تھی۔

      شندے نے 30 جون کو بی جے پی کے تعاون سے مہارشٹر کے وزیر اعلیٰ عہدے کا حلف لیا تھا۔ گزشتہ منگل کو لوک سبھا میں شیو سینا کے 18 میں سے کم از کم 12 اراکین پارلیمنٹ نے ایوان کے لیڈر ونائک راوت کے تئیں عدم اعتماد ظاہر کیا تھا اور راہل شیوالے کو اپنا لیڈر اعلان کیا تھا۔ لوک سبھا اسپیکر نے اسی دن شیوالے کو لیڈر کے طور پر منظوری دے دی تھی۔

      یہ یقینی بنانے کے لئے کوئی بھی گروپ اطلاع سے محروم نہ رہے، الیکشن کمیشن نے گزشتہ دو دنوں میں دونوں گروپوں کے ذریعہ سونپے گئے دستاویز کے شیئرنگ کی ہدایات دی ہیں۔ انتخابی نشان سے متعلق دعویٰ اس لئے اہم مانا جا رہا ہے، کیونکہ سپریم کورٹ نے بدھ کو مہاراشٹر کے ریاستی الیکشن کمیشن کو دو ہفتے کے اندر مقامی بلدیاتی انتخابات کے لئے نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔

      مہاراشٹر میں برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) سمیت کئی بلدیاتی انتخابات ہونے ہیں۔ وہیں، ادھو ٹھاکرے کی قیادت والے شیو سینا کے گروپ نے بھی الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر گزارش کی تھی کہ وہ پارٹی کے نام اور انتخابی نشان پر دعوے سے جڑے کسی بھی درخواست پر فیصلہ لینے سے پہلے اس کا موقف سنا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: