ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

کورونا جانباز انصار احمد ہار گئے زندگی کی جنگ، سرکاری اعزاز کے ساتھ کیا گیا سپرد خاک

انصار احمد بھوپال شاہجہانہ آباد تھانہ میں اے ایس آئی کے عہدے پر فائز تھے۔ ڈیوٹی کے دوران انصار احمد کورونا پازیٹیو ہوئے۔ انہیں علاج کے لئے بھوپال کے چرایو اسپتال میں داخل کیا گیا، جہاں آج انہوں نے اپنی زندگی کا سفر تمام کیا۔

  • Share this:
کورونا جانباز انصار احمد ہار گئے زندگی کی جنگ، سرکاری اعزاز کے ساتھ کیا گیا سپرد خاک
کورونا جانباز انصار احمد کو سرکاری اعزاز کے ساتھ کیا گیا سپرد خاک

بھوپال: مدھیہ پردیش میں حکومت کی لاکھ کوششوں کے باوجود کورونا وائرس کا قہر روز بروز بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ کورونا جانباز انصار احمد بھی اپنی زندگی کی جنگ ہار گئے۔ انصار احمد بھوپال شاہجہانہ آباد تھانہ میں اے ایس آئی کے عہدے پر فائز تھے۔ ڈیوٹی کے دوران انصار احمد کورونا پازیٹیو ہوئے۔ انہیں علاج کے لئے بھوپال کے چرایو اسپتال میں داخل کیا گیا، جہاں آج انہوں نے اپنی زندگی کا سفر تمام کیا۔ 44 سالہ انصار احمد 24 جولائی کو بھوپال میں فیلڈ میں ڈیوٹی کے دوران کورونا پازیٹو ہوئے تھے، جب انہیں سانس لینے میں دقت ہوئی تو انہیں اسپتال میں داخل کیا گیا۔


انصار احمد کو 31 جولائی کو اسپتال میں آکسیجن پر رکھا گیا اور جب ان کی صحت میں افاقہ نہیں ہوا تو انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا۔ انصار احمد کو تمام تر طبی سہولیات مہیا کی گئیں، لیکن زندگی نے ان کے ساتھ وفا نہیں کی۔ انصار احمد کو بھوپال جھدا قبرستان میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ انصار احمد کی تدفین میں محکمہ پولیس کے اعلی حکام آئی جی ڈی آئی جی بھی موجود تھے اور سبھی نے انہیں نم آنکھوں سے سپرد خاک کیا۔ مدھیہ پردیش میں اس سے قبل اندور اور اجین میں بھی پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی کے دوران کورونا کی زد میں آنے سے موت ہوگئی ہے۔ صوبہ میں کورونا کا قہر بڑھتا جارہا ہے اور اس فیلڈ ڈیوٹی کے دوران اب تک سینکڑوں کی تعداد میں پولیس اہلکار کورونا پازیٹو ہوچکے ہیں۔ پولیس اہلکاروں میں کورونا مرض کی بڑھتی تعداد کو دیکھتے ہوئے محکمہ پولیس نے پولیس اہلکار وافسران کی چھٹی پر پابندی لگا دی ہے۔


انصار احمد کی تدفین میں محکمہ پولیس کے اعلی حکام آئی جی ڈی آئی جی بھی موجود تھے اور سبھی نے انہیں نم آنکھوں سے سپرد خاک کیا۔
انصار احمد کو بھوپال جھدا قبرستان میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔


مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹرنروتم مشرا کہتے ہیں کہ صوبہ میں پانچ سو اٹھائیس (528) پولیس اہلکار کورونا پازیٹو ہیں، جن کا علاج جاری ہے اور دو ہزار پولیس اہلکار اور افسران کوارنٹائن ہیں۔ پولیس اہلکاروں اور افسران کی چھٹی پر پابندی اس لئے لگائی گئی ہے تاکہ یہ وبائی بیماری ان کے گھر تک نہ پہنچے۔ پولیس اہلکاروں کو بہتر علاج کیا جا رہا ہے اور اس کی جڑ کو ختم کرنے کی مسلسل کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر کسی پولیس اہلکار کی بہت ایمرجنسی ہوگی، تو اسے چھٹی بھی دی جائے گی۔ سرکار کو سب کا خیال ہے، کورونا جانبازوں پر اس کی زیادہ نظر ہے۔ سبھی سے اتنی ہی اپیل ہےکہ اس بیماری کو سنجیدگی سے لیں۔ حکومت نے تمام انتظام کیا ہے، لیکن ہمیشہ اس بات کی کوشش کریں کہ بیماری ہی نہ ہو۔ بیماری کا علاج کروانے کے لئے اسپتال ہی نہ جانا پڑے۔
وہیں مدھیہ پردیش کانگریس کےترجمان بھوپیندر گپتا کہتے ہیں کہ سرکار نے اپنی منمانی سے صوبہ میں کورونا کو لے کر حالات کو تشویشناک بنا دیا ہے۔ سرکار خود اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ پانچ سو اٹھاسی (588) پولیس اہلکار کورونا پازیٹو ہیں اور دوہزار کے قریب کوارنٹائن ہیں، اس کے باؤجود سرکار سبق لینے کو تیار نہیں ہے۔ جب اندور میں ایس آئی کی موت ہوئی تھی تبھی کانگریس نے مطالبہ کیا تھا کہ کورونا جانباز پولیس اہلکاروں پر خصوصی  توجہ دی جائے۔ لااینڈ آرڈرکو بہتر کرنا اور محلہ محلہ جانچ کروانے کے لئے انہیں محکمہ صحت کی ٹیم کے ساتھ جانا ہوتا ہے، لیکن ان کے پاس سیکورٹی کے نام پر کچھ نہیں ہے۔ اگر سرکار کا خیال کورونا جانبازوں کی طرف ہوتا تو آج مدھیہ پردیش میں کورونا کو لے کرحالات اتنے تشویشناک نہیں ہوتے کہ پولیس اہلکاروں کی چھٹی پر پابندی لگائی جاتی۔ صوبہ میں  کورونا مریضوں کی تعداد 35 ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے اور اب تک سرکارکی عدم توجہی سے تقریباً ساڑھے نو سو (950) کے قریب لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔

انصار احمد کی تدفین میں محکمہ پولیس کے اعلی حکام آئی جی ڈی آئی جی بھی موجود تھے اور سبھی نے انہیں نم آنکھوں سے سپرد خاک کیا۔
انصار احمد کی تدفین میں محکمہ پولیس کے اعلی حکام آئی جی ڈی آئی جی بھی موجود تھے اور سبھی نے انہیں نم آنکھوں سے سپرد خاک کیا۔


کانگریس حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ اقتدار کے نشے سے باہر نکلے اور کورونا کو لے کر ٹیسٹنگ کو تعداد میں اضافہ کرنے کے ساتھ اسپتالوں میں طبی سہولیات کو بہتر بنائے۔ سب کچھ عوام کے بھروسے چھوڑ کر حکومت اپنے فرائض سے بچ نہیں سکتی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ کورونا جانبازوں جنہوں نے ڈیوٹی کی دوروا ن خدمت میں اپنا سب کچھ داؤں پرلگا دیا، ان کے گھروالوں کی کفالت کا انتظام کرے۔
واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں کورونا مریضوں کی تعداد پینتس ہزارآٹھ سو ساٹھ (35860) ہوچکی ہے۔ کورونا سے اب تک نوسو بانوے (992) لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ وہیں کورونا بیماری سے صوبہ میں پچیس ہزار چار سو چوبیس (25424) لوگ صحتیاب ہوچکے ہیں۔ اب جبکہ صوبہ کے سبھی 52 اضلاع میں کورونا اپنے پیر پسار چکا ہے، ایسے میں سرکار کو اور اپوزیشن کو سیاست سے اوپر اٹھ کر کام کرنےکی ضرورت ہے تاکہ اس وبائی بیماری کا خاتمہ ہوسکے۔ وہیں عوام کو بھی اپنی بیداری کا ثبوت دینے کی ضرورت ہے، سب کچھ سرکار بھروسے ہی نہیں کیا جا سکتا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 06, 2020 09:59 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading