ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بے روزگاری کی زد میں کروناوارئیرس، ہمدرد کے مجیدیہ اسپتال کے نرسنگ اسٹاف کا معاہدہ ختم

مجیدیہ اسپتال کے سامنے کا نظارہ کافی عجیب ہے۔ گرمی کے باوجود تقریباً پچاس کے قریب نرسیں ’انصاف چاہئے، انصاف چاہئے‘ کی نعرے بازی ہورہی ہے۔ ان نرسوں میں شامل اسماء چودھری نامی نرس کا کہنا ہےکہ وہ گزشتہ 9 سالوں سے 10 جولائی تک اسپتال میں کام کررہی تھی، لیکن 11 جولائی کی رات واٹس ایپ پر نوٹس آیا کہ ان تمام لوگوں کو معاہدہ ختم ہونے کی بنیاد پر برطرف کردیا گیا ہے۔

  • Share this:
بے روزگاری کی زد میں کروناوارئیرس، ہمدرد کے مجیدیہ اسپتال کے نرسنگ اسٹاف کا معاہدہ ختم
بے روزگاری کی زد میں کروناوارئیرس، جامعہ ہمدرد کے مجیدیہ اسپتال کے نرسنگ اسٹاف کا معاہدہ ختم

نئی دہلی: ملک میں کرونا واریئرس روزگار اور روزی روٹی کیلئے بڑا بحران پیدا کر رہا ہے، اب تک عام آدمی ختم ہوتی ملازمتوں اور ڈوبتے کاروبار اور اقتصادی کساد بازاری سے پریشان تھا تو اب بے روزگاری کی مارکورونا واریئرس تک پہنچ گئی ہے۔ اسپتالوں میں بھی لوگوں کو ملازمتوں سے نکالا جانے لگا ہے۔ جنوبی دہلی کے بڑے اسپتال مجیدیہ کے ذریعہ ایک دو نہیں بلکہ 84 نرسنگ اسٹاف کو معاہدہ ختم ہونے کی بنیاد پر ہٹادیا گیا، جس کے بعد ان لوگوں کے لئے روزی روٹی کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے اوراس کے نتیجہ میں کورونا مریضوں کے علاج میں شامل رہی ان نرسوں اور نرسنگ اسٹاف نے اسپتال کے سامنے احتجاج شروع کردیا ہے۔ یہ اسپتال ہمدرد جیسے بڑے نام کے تحت چلایا جارہا تھا اور ہمدرد کے بانی حکیم عبداالحمید کی یادگار بھی ہے۔

احتجاج پر مجبور نرسنگ اسٹاف

مجیدیہ اسپتال کے سامنے کا نظارہ کافی عجیب ہے۔ گرمی کے باوجود تقریباً پچاس کے قریب نرسیں ’انصاف چاہئے، انصاف چاہئے‘ کی نعرے بازی ہورہی ہے۔ ان نرسوں میں شامل اسماء چودھری نامی نرس کا کہنا ہےکہ وہ گزشتہ 9 سالوں سے 10 جولائی تک اسپتال میں کام کررہی تھی، لیکن 11 جولائی کی رات واٹس ایپ پر نوٹس آیا کہ ان تمام لوگوں کو معاہدہ ختم ہونے کی بنیاد پر برطرف کردیا گیا ہے۔ اب ان لوگوں کو دوبارہ انٹرویو لے کر نئے سرے سے معاہدہ دیاجائے گا۔ احتجاجی نرسوں کا کہنا ہے کہ معاہدہ تو ایک بہانہ ہے، دراصل نرسنگ اسٹاف نے کورونا سے بچنے کے لئے تحفظات کے تحت پروٹکشن اقدامات اور بنیادی سہولتوں کا مطالبہ کیا تھا، جس پر کاروائی کی گئی ہے۔ کیونکہ اگرمعاہدہ کی بات ہوتی تو ہمارے کنٹریکٹ کو بحال کرنے کے لئے فروری میں ہی اپریزل فارم اور اسسمنٹ ہوا تھا اور اس کے تحت انٹرویو بھی ہوئے ہم نے مارچ میں کورونا بحران کی وجہ سے لاک ڈاﺅن میں نرسنگ کی ہماری سیلری بھی آئی، لیکن اب ہمیں نکالا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارا کووڈ-19 کورونا کا الاﺅنس 300 روپئے ہر ڈیوٹی کیلئے دیئے جانے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن وہ نہیں دیا گیا۔


نرسنگ اسٹاف کو جو نوٹس ملا ہے، اس میں ان تمام لوگوں کو معاہدہ ختم ہونے کی بنیاد پر برطرف کر دیا گیا ہے۔ اب ان لوگوں کو دوبارہ انٹرویو لے کر نئے سرے سے معاہدہ دیاجائے گا۔
نرسنگ اسٹاف کو جو نوٹس ملا ہے، اس میں ان تمام لوگوں کو معاہدہ ختم ہونے کی بنیاد پر برطرف کر دیا گیا ہے۔ اب ان لوگوں کو دوبارہ انٹرویو لے کر نئے سرے سے معاہدہ دیاجائے گا۔


نرسوں کا مطالبہ، پرانے معاہدہ پر ہی ہو بحالی

احتجاج کر رہے نرسنگ اسٹاف کامطالبہ ہےکہ تمام 84 لوگوں کو ملازمت میں واپس لیا جائے اور پرانے معاہدہ کنٹریکٹ پر ہی رکھا جائے کیونکہ میڈیکل کے پیشہ میں دو تین سال کا تجربہ کوئی زیادہ معنی نہیں رکھتا اس لئے ہم نے چار، پانچ، 8 اور 10 سال تک اسپتال کو دیئے ہیں، وہ سب بیکار ہوجائیں گے۔ نیا معاہدہ ہمیں نہیں چاہئے، ہم دوبارہ انٹرویو نہیں دیں گے کیونکہ ان لوگوں نے ہم سے رسک کورونا واریئرس کے وقت میں کام کرایا ہم سے اسی وقت کیوں انٹرویو نہیں لیا۔ اگرسرکار کی منظوری الاﺅنس کو لےکر ہیں تو ہمیں ملنا چاہئے، صرف 300 روپئے مل رہے ہیں اور وہ بھی صرف 20 دن ہی ہماری ڈیوٹی لگتی ہے، اسی کا ملنا ہے۔
اسپتال نے بنائی ہائی لیول میڈیکل کمیٹی

اسپتال کی انتظامیہ اس معاملہ میں جھکنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سنیل کوہلی کا کہنا ہے کہ معاہدہ ختم ہوگیا ہے اورکوئی بھی ادارہ بغیر اسسمنٹ نیا معاہدہ نہیں دیتا ہے، جن کی کارکردگی اچھی ہے ان کو ہم دوبارہ ملازمت میں لے لیں گے، لیکن خراب کارکردگی والوں کو نہیں رکھا جائےگا۔ کوہلی کا کہنا ہےکہ ہم نے ایک ہائی لیول میڈیکل کمیٹی بنادی ہے وہ اس سلسلہ میں فیصلہ لے گی۔ انٹرویو کے لئے ہم نے دو دن دیئے تھے، جن میں تقریباً 35 افراد نے ان تمام لوگوں میں سے ہی انٹرویو دینے آئے ہیں، ہم اسی ہفتہ میں ایک دن اور انٹرویو کے لئے رکھیں گے۔ ہمارا اندازہ ہے کہ ان 85 لوگوں میں سے 65 کے قریب افراد بہتر کام کرتے رہے ہیں، ہم ان کو لینا چاہیں گے۔

احتجاج کر رہے نرسنگ اسٹاف کامطالبہ ہےکہ تمام 84 لوگوں کو ملازمت میں واپس لیا جائے اور پرانے معاہدہ کنٹریکٹ پر ہی رکھا جائے۔
احتجاج کر رہے نرسنگ اسٹاف کامطالبہ ہےکہ تمام 84 لوگوں کو ملازمت میں واپس لیا جائے اور پرانے معاہدہ کنٹریکٹ پر ہی رکھا جائے۔


فائنانس کی بدحالی کاسامنا کررہا اسپتال
اسپتال کی دو عمارتوں میں سے ایک عمارت میں کووڈ-19 کے لئے آئیسولیشن مرکز ہے جبکہ دوسری نئی عمارت میں اوپی ڈی کا کام ہو رہا ہے، لیکن تحقیقات کے مطابق اسپتال کو مالی بحرا ن کا سامنا ہے۔ اوپی ڈی میں مریض نہیں ہیں اور ایسے میں اسپتال کی آمدنی کافی زیادہ کم ہوکر رہ گئی ہے۔ 260 کے قریب نرسنگ اسٹاف کام کرتا ہے، جن میں سے 85 لوگوں کو معاہدہ ختم ہونے کی بنیاد پر ہٹایا گیا ہے۔ اسپتال کا فائنانس شعبہ نرسنگ اسٹاف کے کورونا الاﺅنس دینے سے منع کرچکا ہے اور ڈاکٹروں کو بھی الاﺅنس نہیں دیا گیا ہے۔ سیلری دینے میں بھی دقت آرہی ہے، یہی وجہ ہے کہ اب کورونا واریئرس بھی بے روزگاری کی زد میں آگئے ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 16, 2020 05:31 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading