ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

ہم بے روزگار ہوچکے ہیں، گھر جاکر روٹی نمک سےگزارا کریں گے: بنگلورو سے بہار جانے والے افراد کی حالت زار

ساوتھ ویسٹرن ریلوے نے 3مئی سے بنگلورو اور کرناٹک کے چند دیگر شہروں سے شرمک ٹرین سرویس شروع کی ہے۔ اب تک 176 شرمک ٹرینیں کرناٹک کے مختلف شہروں سے شمالی ہند کیلئے روانہ ہوئی ہیں۔

  • Share this:
ہم بے روزگار ہوچکے ہیں، گھر جاکر روٹی نمک سےگزارا کریں گے: بنگلورو سے بہار جانے والے افراد کی حالت زار
کورونا کی وبا اور طویل لاک ڈاؤن نے کئی لوگوں کی زندگیوں کو درہم برہم کردیا ہے۔

بنگلورو: کورونا کی وبا اور طویل لاک ڈاؤن نے کئی لوگوں کی زندگیوں کو درہم برہم کردیا ہے۔ ملک کے آئی ٹی شہر بنگلورو سے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں مہاجر مزدور اپنے گھروں کی جانب لوٹ رہے ہیں۔ نہ صرف مزدور، ملازمت پیشہ افراد، اسکول اور کالجوں کے طلباء، دینی مدارس کے طلباء بڑی تعداد میں بنگلورو سے بہار، جھارکھنڈ، اترپردیش اور دیگر شمالی ریاستوں کیلئے روانہ ہو رہے ہیں۔ ساوتھ ویسٹرن ریلوے نے 3مئی سے بنگلورو اور کرناٹک کے چند دیگر شہروں سے شرمک ٹرین سرویس شروع کی ہے۔


اب تک 176 شرمک ٹرینیں کرناٹک کے مختلف شہروں سے شمالی ہند کیلئے روانہ ہوئی ہیں۔ ان میں زیادہ تر ٹرینیں دارالحکومت بنگلورو سے جبکہ چند ٹرینیں ہبلی، میسور، ہاسن، تمل ناڈو کے ہوسور سے جا چکی ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ شرمک ٹرینوں سے روانہ ہونے والوں میں مزدوروں کی اکثریت ہے۔ 29 مئی بروز جمعہ کو شرمک ٹرین سے روانہ ہونے والے بہار اور جھارکھنڈ کے مزدور، ملازمت پیشہ افراد نے بنگلورو کے عالمی نمائش سینٹر میں نیوز 18 اردو سے بات چیت کی اور اپنی حالت زار سنائی۔


شرمک ٹرینوں سے روانہ ہونے والوں میں مزدوروں کی اکثریت ہے۔
شرمک ٹرینوں سے روانہ ہونے والوں میں مزدوروں کی اکثریت ہے۔


جھارکھنڈ سے تعلق رکھنے والے نندن پرساد اور منوج کمار نے کہا کہ وہ بنگلورو کی ایک  نجی کمپنی میں کام کررہے تھے لیکن لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد سے اب تک، کمپنی کے مالک نے نہ انہیں کام کاج پر بلایا اور نہ ہی تنخواہ دی۔ تنخواہ نہ ملنے کے سبب وہ اپنے روم کا کرایہ ادا نہیں کر پارہے تھے، کھانے پینے کا بھی مسئلہ پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے بھی کسی طرح کی مدد نہیں ملی۔ ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے بنگلورو چھوڑنے کا فیصلہ لیا۔

ویسٹرن ریلوے نے 3مئی سے بنگلورو اور کرناٹک کے چند دیگر شہروں سے شرمک ٹرین سرویس شروع کی ہے۔
ویسٹرن ریلوے نے 3مئی سے بنگلورو اور کرناٹک کے چند دیگر شہروں سے شرمک ٹرین سرویس شروع کی ہے۔


نندن پرساد اور منوج نے کہا کہ وہ جھارکھنڈ لوٹ کر اپنے آبائی وطن میں کھیتی باڑی کریں گے۔ بہار سے تعلق رکھنے والے نوشاد کی کہانی بھی آنسو رولانے والی ہے۔ محمد نوشاد کہتے ہیں کہ طویل لاک ڈاؤن نے انہیں بے روزگار بنا دیا ہے، اب وہ اپنے گھر لوٹ کر روٹی نمک کھاکر گزارا کریں گے۔ حالات کے بہتر ہونے کے بعد واپس آنے کے سلسلے میں سوچیں گے۔ بہرحال  مزدور یوں یا چھوٹی موٹی نوکریاں کرنے والے افراد انتہائی پریشانی کے عالم میں اپنے گھروں کی جانب لوٹ رہے ہیں۔ اب تک کرناٹک سے 170 سے زائد شرمک ٹرینیں روانہ ہوئی ہیں۔

ڈھائی لاکھ سے زائد افراد اپنےگھروں کو لوٹ چکے ہیں۔ ٹرینوں کے علاوہ آمد و رفت کے دیگر ذرائع یہاں تک کے پیدل بھی مہاجر مزدور جنوبی ہند سے شمالی ہند کی جانب گئے ہیں۔ کورونا کا خوف، لاک ڈاؤن کی تلخ یادوں کے ساتھ جانے والے افراد کے سامنے کئی سوالات، چلینجز ہیں۔ لاک ڈاون کے بعد زندگی کیسی ہوگی؟، روزگار، روزی روٹی کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟ بچوں کی تعلیم و تربیت، دیگر معاملات زندگی کب معمول پر آئیں گے؟ اس طرح کے ڈھیر سارے سوالات اپنے ذہنوں میں لئے مزدور بنگلورو اور کرناٹک کے دیگر شہروں کو فی الوقت کیلئے خیر آباد کہہ رہے ہیں۔
First published: May 29, 2020 06:38 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading