உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بہار میں کورونا کا قہر جاری، مریضوں کی تعداد 485 ہوگئی، نتیش کمار کوشاں

    بہار کے پانچ ضلع پٹنہ، گیا، منگیر اور بکسر کو ریڈ زون میں رکھا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ان اضلاع میں سب سے زیادہ کورونا متاثر کی تعداد ہے۔ صوبہ میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 485 ہوگئی ہے۔

    بہار کے پانچ ضلع پٹنہ، گیا، منگیر اور بکسر کو ریڈ زون میں رکھا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ان اضلاع میں سب سے زیادہ کورونا متاثر کی تعداد ہے۔ صوبہ میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 485 ہوگئی ہے۔

    بہار کے پانچ ضلع پٹنہ، گیا، منگیر اور بکسر کو ریڈ زون میں رکھا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ان اضلاع میں سب سے زیادہ کورونا متاثر کی تعداد ہے۔ صوبہ میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 485 ہوگئی ہے۔

    • Share this:
    پٹنہ: بہار میں کورونا مریضوں کی تعداد  485 تک پہنچ گئی ہے اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ گزشتہ 15 دنوں میں کورونا مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ بہار کے پانچ ضلع پٹنہ، گیا، منگیر اور بکسر کو ریڈ زون میں رکھا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ان اضلاع میں سب سے زیادہ کورونا متاثر کی تعداد ہے۔ صوبہ میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد 485 ہوگئی ہے۔

    منگیر ضلع سب سے زیادہ متاثر ہے، جہاں کورونا کے 95 مریض مل چکیں ہیں، روہتاس میں 52  مریض، بکسر میں 52، پٹنہ میں 44، نالندہ میں 36، سیوان میں 30،کیمور میں 25، گوپال گنج میں 18، مدھوبنی میں 18 اس کے ساتھ ہی باقی کے کورونا متاثرہ ضلعوں میں کہیں چھ اور کہیں چار اور کسی ضلع میں دو اور ایک کورونا کے مریض ہیں۔ کل ملا کر بہار کا 30 ضلع کورونا سے متاثر ہو چکا ہے۔

    بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اعلیٰ اوفسران کے ساتھ مسلسل میٹنگ کرتے رہے ہیں اور صحت کے متعلق ضروری ہدایت دے رہے ہیں۔
    بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اعلیٰ اوفسران کے ساتھ مسلسل میٹنگ کرتے رہے ہیں اور صحت کے متعلق ضروری ہدایت دے رہے ہیں۔


    بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اعلیٰ اوفسران کے ساتھ مسلسل میٹنگ کرتے رہے ہیں اور صحت کے متعلق ضروری ہدایت دے رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نےکہا ہےکہ جن علاقوں میں کورونا کے زیادہ لوگ پائےگئے ہیں، ان علاقوں میں پلس پولیو مہم کےتحت صحت سروے کا کام کرایا جارہا ہے۔ وہیں اسکرینگ اور میڈیکل جانچ کی پوری مکمل تیاری کی گئی ہے۔ صحت سے جڑے تمام اعلی افسران کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور ان کی تمام چھٹیاں 31 مئ تک کےلئے ردکردی گئ ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: